ادھمپور/۱۷ستمبر
جموں کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے آج ادھمپور کے تھَرد علاقے میں سرینگر جموں قومی شاہراہ( این ایچ۴۴) کے متاثرہ حصے کا دورہ کیا اور جاری بحالی کے کاموں کا جائزہ لیا۔
دورے کے دوران نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) کے ریجنل آفیسر آر ایس یادو نے وزیراعلیٰ کو کام کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سڑک کی توسیع، میٹلنگ اور شاہراہ کے دوسرے ٹیوب کی بحالی کے کام تیزی سے جاری ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اس وقت جاری سنگل لین ٹریفک انتظامات پر بھی بریفنگ دی تاکہ گاڑیوں کی آمد و رفت کو مؤثر طریقے سے سنبھالا جا سکے۔
وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ بحالی کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ عام لوگوں اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے ایجنسیوں کو اضافی افرادی قوت اور مشینری متحرک کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے لیے محفوظ اور ہموار سڑک رابطہ اولین ترجیح ہے۔
بعد ازاں وزیراعلیٰ نے تھَرد میں مقامی عوام سے بھی ملاقات کی اور ان کے مسائل غور سے سنے۔ انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ این ایچ۴۴کو جلد از جلد مکمل طور پر بحال کیا جائے اور مسافروں سمیت عام لوگوں کو سہولت فراہم کی جائے۔
اس سے پہلے وزیر اعلیٰ نے پونچھ ضلع کے کالابن سرحدی علاقے کے عوام سے ملاقات کی، جو زمین دھنسنے کی زد میں آیا ہے۔عمرعبداللہ نے امید ظاہر کی کہ مرکز جموں کشمیر کو ایک اچھا پیکیج دے گا، بالکل اسی طرز پر جیسے پنجاب، ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ کو دیا گیا تھا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بازآبادکاری کا منصوبہ تیار کرے، جس میں موجودہ پالیسی کے تحت پانچ مرلہ زمین دینے کی تجویز شامل ہو، تاکہ اسے کابینہ کی منظوری کے لیے پیش کیا جا سکے۔
عمرعبداللہ نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا’’ہم مرکزی حکومت کے ساتھ رابطے میں بھی ہیں اور انہوں نے ایک ٹیم تشکیل دی ہے جس نے جموں کشمیر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ ہم ان کے سامنے اپنی مانگیں رکھیں گے اور امید ہے کہ جموں و کشمیر کو ایک اچھا پیکیج دیا جائے گا، بالکل ویسا ہی جیسا پنجاب، ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ کو دیا گیا تھا‘‘۔
اپنے دورے کے دوران‘عمرعبداللہ نے کالابن گاؤں (تحصیل مینڈھر، لائن آف کنٹرول کے قریب) میں زمین دھنسنے سے ہونے والے نقصان کا جائزہ لیا۔۱۱ ستمبر سے اب تک ایک ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، جب کہ۹۵ سے زیادہ مکانات، ایک قبرستان اور ایک مسجد کو نقصان پہنچا ہے۔ مقامی لوگوں کو محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
اس سوال کے جواب میں کہ جب گاؤں غیر محفوظ ہو گیا ہے تو حکومت کیا اقدامات کر رہی ہے، عمرعبداللہ نے کہا’’جہاں کہیں بھی زمین دھنس گئی ہے یا دھنس رہی ہے، وہاں لوگوں کو دوبارہ آباد نہیں کیا جا سکتا۔ انہیں کسی اور جگہ، ایک نئی جگہ پر دوبارہ بسایا جائے گا‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کے پاس پہلے سے ایک اسکیم ہے جس کے تحت بے زمین لوگوں کو پانچ مرلہ سرکاری زمین دی جاتی ہے۔ان کاکہنا تھا’’اسی طرز پر ہم نے انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک تجویز تیار کرے، جسے کابینہ کے سامنے بغور غور و خوض کے بعد منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا‘‘۔
عمر عبداللہ نے عوامی رسائی کی کوششوں کے حوالے سے کہا’’یہ ہمارا فرض ہے کہ اس مشکل وقت میں عوام کی زیادہ سے زیادہ مدد کریں۔ اس بار بارشوں نے جموں و کشمیر میں سیلاب اور لہنڈ سلائیڈ کی وجہ سے بے مثال نقصان پہنچایا ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ جموں کشمیر کا شاید ہی کوئی ضلع ہو جسے سیلاب، لینڈ سلائیڈ یا شدید بارشوں سے نقصان نہ پہنچا ہو۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’ہمارے پاس جتنے بھی مالی وسائل ہیں، ہم انہیں استعمال کریں گے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ریلیف عوام تک پہنچے۔
مشرق خبر/ڈی پی آئی آر‘‘










