نئی دہلی، 16 ستمبر (یو این آئی) عام آدمی پارٹی نے دہلی میں ملیریا، ڈینگو اور چکن گنیا جیسی بڑھتی ہوئی موسمی بیماریوں کے سلسلے میں بی جے پی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو دہلی کے لوگوں کی صحت کی کوئی فکر نہیں ہے ۔
ایم سی ڈی میں اپوزیشن لیڈر انکش نارنگ نے حکومت کی طرف سے جاری کردہ ہفتہ وار رپورٹ کے حوالے سے آج کہا کہ بی جے پی حکومت کو دہلی والوں کی صحت کی کوئی فکر نہیں ہے ۔ موسمی امراض کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کرنے کے باعث ملیریا کے معاملوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔ دہلی میں ملیریا نے پانچ سال کا ریکارڈ توڑ دیا ہے ۔ گزشتہ ایک ہفتے میں 33 نئے معاملے درج ہوئے ہیں۔ ہمارا مشورہ ہے کہ بی جے پی حکومت کو بھی "عآپ” حکومت کی طرح بیداری مہم چلانی چاہیے تاکہ موسمی بیماریوں پر قابو پایا جا سکے ۔
عام آدمی پارٹی کے مسٹر انکش نارنگ نے کہا کہ جب سے دہلی میں بی جے پی کی حکومت آئی ہے ، ملیریا، چکن گونیا اور ڈینگو کی روک تھام کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا ہے ۔ جب اروند کیجریوال دہلی کے وزیر اعلیٰ تھے تو 10 ہفتوں تک ہر اتوار کو صبح 10 بجے 10 منٹ کی مہم چلائی جاتی تھی۔ اس مہم کا مقصد ڈینگو سے متعلق آگاہی پھیلانا تھا۔ لوگوں کو معلوم ہوتا تھا کہ ملیریا، چکن گونیا اور ڈینگو کا موسم آ گیا ہے ۔ اس وجہ سے سب کو چوکنا رہنا ہوگا اور ضروری اقدامات کرنے ہوں گے ۔ اس دوران لوگ اپنے گھروں میں پانی چیک کرتے تھے ۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو ہفتوں سے درج ہونے والے ملیریا کے معاملے پچھلے پانچ سالوں میں سب سے زیادہ ہیں۔ اس ہفتے مریضوں کی تعداد 297 تک پہنچ گئی ہے جبکہ گزشتہ ہفتے یہ تعداد 264 تھی یعنی 33 نئے مریض بڑھے ہیں۔ اس رپورٹ کی درستگی بھی مشکوک ہے ۔ بی جے پی ہمیشہ اعداد و شمار کو دبانے کی کوشش کرتی ہے ۔ تمام جگہوں سے درست اعداد و شمار جمع نہیں کیے جاتے ہیں۔
اہلکاروں کی طرف سے ڈرون کے ذریعے ادویات چھڑکنے کے معاملے پر مسٹر انکش نارنگ نے کہا کہ یہ مضحکہ خیز ہے ۔ وہ ریلوے ٹریک کے اردگرد دواء چھڑکنے کی بات کرتے ہیں لیکن وہاں کچی آبادیوں کو مسمار کر دیا گیا ہے ۔ پھر وہاں کس کے لیے دوا چھڑکائی جا رہی ہے ؟ دہلی میں کئی جگہوں پر پانی جمع ہے ، سیلاب کی وجہ سے گھروں میں مچھروں کی تعداد بڑھ رہی ہے ، لیکن حکومت اس پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے ۔ بی جے پی حکومت کام کرنا نہیں جانتی ہے ۔ ان کے پاس دہلی کے لوگوں کو ملیریا، چکن گونیا اور ڈینگو سے محفوظ رکھنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے ۔










