سرینگر/۱۶ستمبر
صوبائی کمشنر کشمیر انشل گرگ کا کہنا ہے کہ گزشتہ ۲۴ گھنٹوں میں وادی کشمیر کو جموں صوبے کے ساتھ جوڑنے والے مغل روڈ سے سیب سے لدے ۲۲سو ٹرکوں کو جموں کی طرف روانہ کیا گیا ہے ۔ انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ سیب صنعت سے وابستہ لوگوں کو ہوئے نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے ۔
صوبائی کمشنر نے ان باتوں کا اظہار منگل کو جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں میں نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرنے کے دوران کیا۔
گرگ نے کہا’’وادی بھر کے فروٹ گروورس یونینوں کے ساتھ بات چیت ہوئی ہم نے ایک سسٹم بنایا ہے کہ مغل روڈ پر ایک دن سرینگر سے جموں اور دوسرے جموں سے سری نگر ٹریفک کی نقل و حمل جاری رہے ‘‘۔
ان کا کہنا تھا’’کل سے آج تک مغل روڈ سے سیب سے لدے۲۲سو ٹرکوں کو جموں کی طرف روانہ کیا گیا ہے جو یہاں درماندہ تھے‘‘۔
صوبائی کمشنر نے کہا کہ متعلقہ ایجنسیوں کی مدد سے روڈ کی بحالی کا کام زوروں سے جاری ہے اور چھوٹی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ بڑی گاڑیوں جیسے۶ٹائر اور۱۰ٹائر والی ٹرکوں کی نقل و حمل کو بھی ممکن بنایا جا رہا ہے ۔
گرگ نے کہا’’ہماری کوشش ہے کہ دیگر اشیائے ضروریہ بھی جموں سے کشمیر پہنچ سکیں اور میوہ کو کشمیر سے جلد از جلد باہر لے جانے اور وہاں سے اشیائے ضروریہ یہاں لانے کیلئے کوششیں بڑے پیمانے پر جاری ہیں‘‘۔
میوہ صنعت سے وابستہ لوگوں کو نقصان پہنچنے کے بارے میں پوچھے جانے والے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’’جن لوگوں کا نقصان ہوا ہے ، اس پر ایک پالیسی فیصلہ کیا جائے گا ۔ اس بات کو متعلقہ حکام تک پہنچایا گیا ہے ‘‘۔
صوبائی کمشنر نے کہا کہ میوہ صنعت سے وابستہ لوگوں کو کوئی تکلیف نہ اٹھانی پڑے اور میوہ محفوظ طریقے سے جموں پہنچے اس کے لئے کام کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ محکمے اور افسران تال میل کے ساتھ کام کر رہے ہیں تاکہ لوگوں کو راحت پہنچائی جاسکے ۔
دریں اثناوادی کشمیر کو ملک کے باقی حصوں سے جوڑنے والی۲۷۰کلو میٹر طویل سرینگر، جموں قومی شاہراہ پر منگل کو بھی یک طرفہ ٹریفک کی نقل و حمل ہی جاری ہے اور گاڑیوں کو جموں سے سری نگر جانے کی اجازت ہے ۔
حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی گاڑی کو سرینگر سے جموں کی طرف جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
ادھر وادی کو صوبہ جموں کے ساتھ جوڑنے والے مغل روڈ اور مرکزی زیر انتظام علاقہ لداخ کے ساتھ جوڑنے والی سرینگر ، لیہہ شاہراہ پر ٹریفک کی نقل و حمل ایڈوائزری کے مطابق جاری ہے ۔
ٹریفک حکام نے منگل کو بتایا کہ قومی شاہراہ پر منگل کے روز گاڑیوں کو جموں سے سری نگر جانے کی اجازت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی گاڑی کو سری نگر سے جموں کی طرف جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
حکام نے لوگوں سے کہا کہ وہ ٹریفک ایڈوائزری پر عمل کریں، لین ڈسپلن کے مطابق چلیں اور اوور ٹیکنگ کرنے سے اجتناب کریں۔
لوگوں سے کہا گیا کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور سڑکوں کے متعلق تازہ جانکاری حاصل کرنے کیلئے ٹریفک پولیس ٹویٹر ہینڈل، فیس بک پیج اور سری نگر، جموں اور رام بن کے ٹریفک کنٹرول یونٹوں کے ساتھ رابطہ قائم کریں۔
ٹریفک حکام نے بتایا کہ وادی کو صوبہ جموں کے ساتھ جوڑنے والے مغل روڈ اور مرکزی زیر انتظام علاقہ لداخ کے ساتھ جوڑنے والی سرینگر، لیہہ شاہراہ پر ٹریفک کی نقل و حمل ایڈوائزری کے مطابق جاری ہے ۔
واضح رہے کہ قومی شاہراہ پر مسلسل تین ہفتوں سے ٹریفک کی نقل و حمل بند رہنے سے کشمیر میں میوہ صنعت سے وابستہ افراد پریشانی کے دلدل میں پھنس گئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ شاہراہ پر ٹریفک متاثر ہونے سے ان کو بے تحاشا نقصان ہو رہا ہے ۔
دریں اثنا جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کو قومی شاہراہ کی موجودہ حالت کے متعلق شاہراہوں کے مرکزی وزیر نتن گڈ کری سے بات کی۔ انہوں یقین دہانی کرائی کہ اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے اگلے۲۴گھنٹوں کے اندر کچھ ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے ۔










