’فروٹ گروروں کی مایوسی قابل فہم ہے ‘ پہلے پہل انہوں نے صبر سے کام لیا ‘ اب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو لیا ہے‘
ندائے مشرق خبر/ایجنسیز
سرینگر/۱۵ ستمبر
جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو اعلان کیا کہ مرکزی حکومت آئندہ ۲۴گھنٹوں میں سرینگر جموں قومی شاہراہ کے بحران ‘جس نے رابطہ کاری کو بری طرح متاثر کیا ہے اور وادی کے میوہ کاشتکاروں کو مشکلات میں ڈال دیا ہے‘کو حل کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے گی۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہیں نتن گڈکری سے شاہراہ کی بندش اور اس کے اثرات کے بارے میں بات کی ہے، جس نے کشمیر کے اس اہم راستے کو ملک کے باقی حصوں سے کاٹ دیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے لکھا’’میوہ کاشتکاروں کی مایوسی قابل فہم ہے۔ وہ ابتدائی دنوں میں بہت صبر سے کام لیتے رہے لیکن جب اپنی محنت کو سڑتے ہوئے دیکھا کیونکہ این ایچ آئی ڈی سی ایل شاہراہ کو مستحکم کرنے میں ناکام رہا، تو ان کا صبر لبریز ہونا بالکل فطری ہے‘‘۔
عمرعبداللہ نے مزید کہا کہ گڈکری نے انہیں آئندہ ۲۴ گھنٹوں میں مسئلہ حل کرنے کیلئے’ٹھوس اقدامات‘ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ان کاکہنا تھا’’میں اس پر مزید کچھ کہنے سے پہلے انتظار کروں گا تاکہ یہ دیکھ سکوں کہ مجوزہ منصوبہ بندی پر کیا عمل درآمد ہوتا ہے‘‘۔
سرینگر جموں شاہراہ پر جاری بندش کی وجہ سے ہزاروں ٹرک پھنسے ہوئے ہیں، جس پر سیب کاشتکاروں میں شدید غصہ پایا جاتا ہے کیونکہ ان کی فصل کٹائی کے عروج پر ضائع ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔
اس سے پہلے وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ اگر مرکزی حکومت سرینگر،جموں قومی شاہراہ (این ایچ۴۴) کی بروقت بحالی میں ناکام رہتی ہے تو ریاستی حکومت یہ ذمہ داری خود اٹھانے کیلئے تیار ہے ۔
سرینگر میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ شاہراہ چونکہ مرکزی حکومت اور اس کے ماتحت ایجنسیوں کے دائرہ اختیار میں آتی ہے ، اس لیے ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی ہے ۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مرکز شاہراہ کو بحال کرنے میں ناکام رہا تو ریاستی حکومت اپنے انجینئروں اور عملے کی مدد سے اس کام کو انجام دے گی۔
وزیر اعلیٰ نے واضح الفاظ میں کہا’’اگر یہ شاہراہ میری انتظامیہ کے تحت ہوتی تو ہم اب تک اس کا کوئی حل نکال چکے ہوتے ‘‘۔
عمرعبداللہ نے بتایا کہ مرکزی اداروں کی جانب سے شاہراہ کھولنے کے بار بار دعوے اور یقین دہانیاں پوری نہیں ہوئیں، جس کے بعد انہوں نے مرکزی وزیر برائے شاہراہ و ٹرانسپورٹ نتن گڈکری کو خط لکھ کر اس معاملے پر ملاقات کی درخواست کی ہے ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شاہراہ کی بندش نے وادی کے باغبانوں کو سخت مشکلات میں ڈال دیا ہے ، کیونکہ سیب اور دیگر میوہ جات کی ترسیل بیرونی منڈیوں تک پہنچنے میں تاخیر کا شکار ہو رہی ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انہیں میوہ منڈیوں کے نمائندوں اور باغبانوں کی جانب سے بار بار اپیلیں موصول ہو رہی ہیں کہ ان کے نقصان کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر مرکزی وزیر برائے ریلوے ، اشونی ویشنو سے بھی مداخلت کی اپیل کی اور کہا کہ وادی سے میوہ جات کی ترسیل کے لیے ایک خصوصی کارگو ٹرین سروس شروع کی جائے تاکہ شاہراہ کی مکمل بحالی تک باغبانوں کو ریلیف مل سکے ۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ اب تک شروع کی گئی ایک وقتی ٹرین سروس ناکافی ہے اور صرف ایک باقاعدہ و مسلسل ریل سروس ہی مسئلے کا حل ثابت ہو سکتی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ صرف میوہ جات تک محدود نہیں بلکہ وادی میں ضروری اشیائے خورد و نوش کی مسلسل فراہمی سے بھی جڑا ہوا ہے ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ڈوڈہ کے ایم ایل اے کو پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے ) کے تحت گرفتار کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا ۔
ان کاکہناتھا’’ایم ایل اے کے خلاف پی ایس اے عائد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ میرے خیال میں انہیں اپنی غلطی تسلیم کرنی چاہیے تھی اور معاملے کو وہیں ختم کیا جا سکتا تھا‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پولیس اپنی تحقیقات جاری رکھ سکتی ہے اور اگر کوئی غلطی ثابت ہوتی ہے تو کارروائی ہونی چاہیے ۔ لیکن اس مرحلے پر پی ایس اے لگانا درست نہیں ہے ۔
عمرعبداللہ نے مزید کہا کہ ریاست میں حالیہ دنوں میں وقف جائیدادوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ‘جو ایک تشویشناک رجحان ہے ۔ انہوں نے سپریم کورٹ کی مداخلت کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کے اقدام سے عوام کے اندر اعتماد بحال ہوگا۔
وزیر اعلیٰ نے زور دیا کہ سیاسی اختلافات یا عوامی نمائندوں کی جانب سے کی گئی کسی بھی غلطی کو قانونی اور جمہوری دائرے میں حل کیا جانا چاہیے ۔










