لکھنؤ/۱۵ستمبر
ممتاز مسلم تنظیموں نے پیر کو سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا جس کے تحت وقف (ترمیمی) ایکٹ۲۰۲۵ کی کئی اہم دفعات پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے۔ تنظیموں نے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ حتمی فیصلے میں انہیں’مکمل انصاف‘ ملے گا۔ یہ وہی قانون ہے جس نے اس سال کے آغاز میں ملک گیر احتجاج اور مباحثوں کو جنم دیا تھا۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) اور آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایس پی ایل بی) دونوں نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا۔ تاہم اے آئی ایم پی ایل بی نے کہا کہ اسے توقع تھی کہ عدالت عظمیٰ پورے قانون پر اسٹے لگائے گی، نہ کہ صرف کچھ دفعات پر۔
اے آئی ایم پی ایل بی کے ایگزیکٹو ممبر خالد رشید فرنگی محلی نے پی ٹی آئی کو بتایا’’مسلمان اور اے آئی ایم پی ایل بی چاہتے تھے کہ پورے وقف (ترمیمی) ایکٹ پر اسٹے لگے، جو سپریم کورٹ نے نہیں مانا۔ عدالت نے کہا کہ پورے قانون پر اسٹے نہیں لگایا جا سکتا، مگر کچھ دفعات پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے، جو خوش آئند قدم ہے۔ ہمیں اہم ریلیف ملا ہے اور امید ہے کہ حتمی فیصلے میں مکمل ریلیف ملے گا‘‘۔
خالد رشید نے مزید کہا کہ عدالت عظمیٰ نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ وقف بورڈ کے سی ای او، جو اس کے ایگز آفیشیو سکریٹری بھی ہوتے ہیں، کا تقرر مسلم کمیونٹی سے کیا جائے، جو راحت کی بات ہے۔
اے آئی ایم پی ایل بی کے لیڈر نے کہا’’یہ یقینا بڑی راحت ہے، لیکن بورڈ میں غیر مسلم اراکین کا معاملہ ابھی باقی ہے۔ دستور ہر بھارتی کو مذہبی آزادی دیتا ہے اور وقف اسلام کا لازمی حصہ ہے۔ دوسری برادریوں کے مذہبی ٹرسٹ اور اوقاف میں صرف اسی مذہب اور مسلک کے افراد کو رکن بنایا جا سکتا ہے، لیکن وقف (ترمیمی) ایکٹ نے یہ شق ختم کر دی اور غیر مسلم کو بورڈ کا رکن بننے کی اجازت دی۔ سپریم کورٹ نے اس پر اسٹے نہیں لگایا، یہ بڑا مسئلہ ہے جس پر ہمیں انتظار کرنا ہوگا‘‘۔
شیعہ پرسنل بورڈ کے جنرل سکریٹری یعسوب عباس نے پی ٹی آئی سے کہا’’ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔ جس طرح مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے پورے ملک کا دورہ کیا‘ بل کو لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے راتوں رات منظور کرایا‘اور پھر صدر کی منظوری حاصل کی، ہمارے پاس عدالت عظمیٰ جانے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔ ہمیں اپنی عدالتوں پر پورا بھروسہ ہے اور انصاف کی امید ہے’’۔
عباس نے مزید کہا’’مرکزی وقف کونسل اور ریاستی وقف بورڈز میں غیر مسلم اراکین کی موجودگی کے معاملے پر ہم عدالت عظمیٰ سے دوبارہ غور کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔‘‘










