نئی دہلی، 12 ستمبر (یو این آئی ) جنوبی مغربی دہلی پولیس کے آپریشن سیل نے چار غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن کو حراست میں لیا ہے ۔گرفتار بنگلہ دیشیوں میں ایک مرد اور تین خواتین شامل ہیں۔ ان کی شناخت فرزانہ اختر، ناظمہ بیگم، ریشما اختر اور اوراورکو خان کے نام سے ہوئی ہے ۔ یہ سبھی 2017 سے ہندوستان میں غیر قانونی طور پر رہ رہے تھے ۔
پولیس نے ان کے پاس سے بنگلہ دیشی شناختی دستاویزات برآمد کر لیے ہیں اور دہلی کے فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس (ایف آر آر او) کے تعاون سے ان کی ملک بدری کا عمل شروع کر دیا گیا ہے ۔
ڈپٹی کمشنر آف پولیس امیت گوئل کی قیادت میں ساؤتھ ویسٹ ڈسٹرکٹ پولیس نے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کے لیے ایک خصوصی مہم شروع کی۔ اس کے تحت آپریشن سیل ٹیم تشکیل دی گئی جس میں انسپکٹر گجیندر سنگھ کی قیادت میں ایس آئی انیل، ایچ سی سندر، ایچ سی دیپک، ایچ سی سندیپ، کانسٹیبل راجیش، کانسٹیبل موہت، لیڈی کانسٹیبل سوماتا، لیڈی کانسٹیبل پی سی اور لیڈی کانسٹیبل منیشا شامل تھیں۔ اس ٹیم کی نگرانی اے سی پی (آپریشنز) وجے پال تومر نے کی۔ ٹیم کو کاپس ہیڑا کے علاقے میں کچھ غیر قانونی بنگلہ دیشی خواتین تارکین وطن کی موجودگی کے بارے میں خفیہ اطلاع ملی۔ اطلاع کی بنیاد پر فوری کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے مشتبہ افراد سے رابطہ کیا اور ان کے کاغذات کی جانچ کی۔ پوچھ گچھ کے دوران یہ افراد درست دستاویزات پیش نہیں کر سکے اور انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ 2017 میں بنگلہ دیش سے بونگاؤں سرحد اور تریپورہ کے راستے غیر قانونی طور پر ہندوستان میں داخل ہوئے تھے ۔ کچھ ہندوستانی ویزا پر داخل ہوئے تھے لیکن واپس نہیں آئے ۔ پوچھ گچھ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ یہ لوگ ممبئی اور دہلی میں ہاؤس کیپنگ کا کام ڈھونڈ رہے تھے ، لیکن روزگار نہ ہونے کی وجہ سے وہ کاپس ہیڑا کے علاقے میں آکر آباد ہو گئے تھے ۔
پولیس نے ان کے موبائل فون اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کی جس کی بنیاد پر اس کے اہل خانہ سے رابطہ کیا گیا اور بنگلہ دیشی قومی شناختی کارڈ حاصل کیے گئے ۔ اس کے بعد ان کی ر تمام قانونی تقاضے پورے کر کے ہندوستانی شناخت منسوخ کر دی گئی








