سرینگر/۱۲ستمبر
جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی سیکرٹریٹ نے پلوامہ کے رکن اسمبلی اور پی ڈی پی لیڈر وحید پرہ کو پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے ) کے تحت ڈوڈہ کے رکن اسمبلی معراج ملک کی نظربندی پر سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر’گمراہ کن‘ریمارکس کرنے پر وجہ بتاؤ نوٹس بھیجا ہے ۔
یہ نوٹس اسمبلی اسپیکرعبدالرحیم راتھر کی ہدایت پر وحید پرہ کی طرف سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘پر ایک پوسٹ پی ایس اے کے تحت ڈوڈہ کے رکن اسمبلی کی حراست ’شرمناک سرنڈر‘اور ’جمہوریت پر براہ راست حملہ‘ہے ، کے بعد جاری کی گئی ہے ۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ وحید پرہ کا تبصرہ اسپیکر کے دفتر کی غیر جانبداری پر الزامات لگانے اور ایک ادارے کے طور پر اسمبلی کے وقار کو مجروح کرنے کے مترادف ہے ۔
یہ پیش رفت ضلع مجسٹریٹ ڈوڈ ہ ہرویندر سنگھ کی طرف سے ۸ستمبر کو بھیجے گئے ایک پیغام کے بعد ہوئی ہے ، جس میں پی ایس اے کے تحت معراج ملک کی حراست کے بارے میں اسمبلی سیکرٹریٹ کو مطلع کیا گیا تھا۔
رولز آف پروسیجر اینڈ کنڈکٹ آف بزنس کے رول۲۶۰کے مطابق، سیکرٹریٹ نے ایک بلیٹن شائع کیا تھا جس میں ایوان کے ممبران کو ملک کی نظر بندی کے بارے میں مطلع کیا گیا تھا۔
وحید پرہ نے بعد میں’ایکس‘پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا تھا’’شرمناک سرینڈر، اسمبلی سیکرٹریٹ کا ایک منتخب رکن اسمبلی کے خلاف پی ایس اے کی توثیق کرنا جمہوریت پر براہ راست حملہ ہے ‘‘۔
ان کا کہنا تھا’’جموںکشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو ضرور عمل کرنا چاہیے ، ایم ایل اے کے ادارے ، جو عوام کی آخری ایجنسی ہے ، کو خاموش ہونے کی اجازت نہ دیں، آج معراج کل ہماری باری ہوسکتی ہے ‘‘۔
اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق،مذکورہ بیان میں غلط طور پر تجویز کیا گیا کہ اسمبلی سیکرٹریٹ نے معراج ملک کی پی ایس اے کے تحت نظربندی کی ’توثیق‘کی تھی، جبکہ بلیٹن صرف طریقہ کار کے قواعد کی تعمیل میں جاری کیا گیا تھا۔
بعد ازاں سیکرٹریٹ نے ایک وضاحت جاری کی، جس میں کہا گیا کہ معزز رکن کی گرفتاری یا حراست میں اس کا کوئی کردار نہیں ہے ۔
نوٹس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ غیر جانبداری سپیکر کے دفتر کا بنیادی وصف ہے اور کسی بھی عوامی بیان کو جس میں تعصب یا نامناسب طرز عمل کا اظہار ہوتا ہے اسے استحقاق کی خلاف ورزی یا ایوان کی توہین کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے ۔
نوٹس میں کہا گیا کہ معزز اسپیکر نے اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے اور مشاہدہ کیا ہے کہ ممبران کو دی گئی مراعات اور آزادی اظہار کا ادارے کے تقدس کو مجروح کرنے کے لیے غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے ۔ وحید پرہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سات دن کے اندر اپنے موقف کی وضاحت کریں۔
نوٹس میں موصوف رکن اسمبلی سے ذاتی طور پر یا تحریری طور پر اپنا موقف واضح کرنے کو کہا گیا ہے اورایسا نہ کرنے کی صورت میں ان کے خلاف استحقاق کی خلاف ورزی اور توہین کی کارروائی شروع کی جائے گی۔










