لیفٹیننٹ گورنر‘ منوج سنہا نے کیسو منحاصاں میں ہیلتھ کیمپ کا دورہ کیا جو سیلاب متاثرہ خاندانوں کے لیے محکمہ صحت نے ایمز جموں کے اشتراک سے منظم کیا تھا۔
ہیلتھ کیمپ میں، لیفٹیننٹ گورنر نے طبی معائنہ کروانے والے لوگوں سے بات چیت کی اور ان کے خدشات سنے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ فوج، سی اے پی ایف، این ڈی آر ایف اور ضلعی انتظامیہ کے فوری ردعمل نے موسلا دھار بارش کے بعد کئی جانیں بچائیں۔
ان کاکہنا تھا’’ہم اس مشکل وقت میں جموں و کشمیر کے عوام کی مدد کے لیے پرعزم ہیں۔ حکومت ہند اور جموں و کشمیر انتظامیہ نہ صرف نقصان زدہ بنیادی ڈھانچے کی بحالی بلکہ متاثرہ خاندانوں کی مکمل باز آبادکاری کے لیے بھی پوری طرح پرعزم ہے‘‘۔
سنہا کاکہنا تھاحالیہ قدرتی آفات نے پورے جموں خطے میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جس نے طویل عرصے سے اس پیمانے پر ایسے واقعات کا سامنا نہیں کیا تھا۔ مرکز، جموں و کشمیر انتظامیہ کے اشتراک سے حالیہ قدرتی آفات کی وجہ سے سڑک، بجلی، پانی کی فراہمی، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہا ہے۔ ٹیم نے جموں خطے کے کئی متاثرہ اضلاع کا بھی دورہ کیا ہے۔
سنہا نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کی مکمل بحالی میں کچھ وقت لگے گا، لیکن انتظامیہ متاثرہ آبادی کو فوری امداد فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ زرعی برادری حالیہ قدرتی آفات سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے جموں خطے کے کسانوں پر زور دیا کہ وہ پی ایم فصل بیمہ یوجنا اور ہولیسٹک ایگریکلچر ڈیولپمنٹ پروگرام (ایچ اے ڈی پی ) کے فوائد سے فائدہ اٹھائیں۔
ایل جی نے سیلاب متاثرہ خاندانوں کے لیے ہیلتھ کیمپ منظم کرنے پر ایمز جموں کے ڈائریکٹر اور پوری ٹیم کا شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے سنبہ کے عوام کی صحت کے تئیں اپنی اخلاقی ذمہ داری بھی نبھائی ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے اپنے حالیہ دورہ جموں کے دوران زور دیا تھا کہ سیلاب متاثرہ افراد کے لیے ہر پنچایت میں ہیلتھ کیمپ لگائے جائیں۔’’ ایمز جموں ۹ مزید میگا ہیلتھ کیمپس منعقد کرے گا اور جموں و کشمیر محکمہ صحت، سی اے پی ایف، بی ایس ایف، سی آر پی ایف، فوج بھی اسی طرح کے ہیلتھ کیمپس منظم کر رہے ہیں۔ میں عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ان کیمپوں کا دورہ کریں اور صحت کی سہولیات سے فائدہ اٹھائیں‘‘۔
اس سے قبل، لیفٹیننٹ گورنر نے سنبہ، وجے پور میں ایمز جموں کے قریب دیوک پل کا دورہ کیا۔ یہ پل موسلا دھار بارش اور پانی کی سطح میں اضافے کے باعث نقصان کا شکار ہوا ہے۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ بحالی کا کام تیزی سے مکمل کیا جائے۔
اس سے پہل لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے آج جموں کے راجیور کالونی میں محکمہ صحت کی طرف سے سیلاب سے متاثرہ کنبوں کے لئے منعقدہ میگا ہیلتھ کیمپ کا دورہ کیا۔
سنہانے متاثرہ کنبوں کے اَفراد سے بات چیت کی اور اُن کے مسائل بغور سنا۔ اُنہوں نے یقین دہانی کی کہ مرکزی حکومت اور جموں و کشمیر کی اِنتظامیہ یوٹی میں حالیہ آفاتِ سماوی سے متاثرہ لوگوں کی فلاح و بہبود کیلئے پُر عزم ہے۔
بعد ازاں لیفٹیننٹ گورنر نے آج اُودھمپور کے تھرد گاؤں کا دورہ کیا اورقومی شاہراہ پر جاری بحالی کاموں کا جائزہ لیا۔
لیفٹیننٹ گورنر کو ریجنل آفیسر این ایچ اے آئی جموں و کشمیر آر ایس یادو نے قومی شاہراہ کی تیزی سے بحالی کے لئے مشینری اور عملے کی تعیناتی کے بارے میں جانکاری دی۔ بتایا گیا کہ ٹیم چوبیس گھنٹے کام کر رہی ہے اور جلد ہی ایک لین کو ٹریفک کے لئے کھول دیا جائے گا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے متاثرہ کنبوںسے بھی بات چیت کی اور ان کی خیریت وعافیت دریافت کی۔
اِس سے قبل لیفٹیننٹ گورنر نے گجر بکروال ہوسٹل جکھانی اُودھمپور میں محکمہ صحت کی جانب سے لگائے گئے ہیلتھ کیمپ کا دورہ کیا اور سیلاب سے متاثرہ کنبوں کے لئے فراہم کی گئی طبی سہولیات کا معائنہ کیا۔
اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر کے ہمراہ ممبر قانون ساز اسمبلی چنانی بلونٹ سنگھ منکوٹیہ ،رُکن اسمبلی اودھمپور ویسٹ پون کمار گپتا ، صوبائی کمشنر جموں رمیش کمار،آئی جی پی جموں بھیم سین توتی ،سیکرٹری صحت و طبی تعلیم ڈاکٹر سیّد عابد رشید شاہ ، ڈی آئی جی اودھمپور ۔رِیاسی رینج سارہ رضوی ، ضلع ترقیاتی کمشنر اودھمپور سلونی رائے،ایس ایس پی اودھمپورآمود ناگپورے اشوک اور دیگر سینئر اَفسران بھی تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مبارکباد کے پیغام میں مودی نے کہا کہ رادھا کرشنن کی زندگی ہمیشہ سماج کی خدمت اور غریبوں اور محروموں کو بااختیار بنانے کیلئے وقف رہی ہے ۔ انہوں نے کہا’’مجھے یقین ہے کہ مسٹر رادھا کرشنن ملک کے ایک بہترین نائب صدر ہوں گے ۔ وہ ہماری آئینی اقدار اور پارلیمانی مذاکرات کو مضبوط کریں گے ۔‘‘









