نئی دہلی، 09 ستمبر (یو این آئی) سپریم کورٹ کے روبرو مرکزی حکومت نے منگل کے روز کہا کہ کووڈ-19 کے دوران یوگا گرو بابا رام دیو پر چھتیس گڑھ پولیس کی جانب سے درج مقدمے میں ‘‘کلوزر رپورٹ’’ داخل کر دی گئی ہے ۔
بابا رام دیو پر یہ مقدمہ ایلوپیتھی کے خلاف ان کے مبینہ طور پر دیئے گئے بیان کے سلسلے میں درج کیا گیا تھا۔
جسٹس ایم ایم سُندریش اور جسٹس ستیش چندر شرما کی بنچ کے سامنے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کلوزر رپورٹ کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ بابا رام دیو کے خلاف شکایت کسی ذاتی مفاد کی وجہ سے کی گئی تھی۔
بنچ کے سامنے سینئر وکیل سدھارتھ دوے نے بابا رام دیو کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے عدالت سے گزارش کی کہ متعلقہ بیان درج کیا جائے ۔ اس پر بنچ نے کہا کہ فی الحال ایسا ممکن نہیں، کیونکہ بہار میں صرف ایک مقدمہ زیر التوا ہے ۔
مسٹر سدھارتھ نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر مخالفت میں عرضی دائر کی جاتی ہے تو کارروائی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے ، اس لیے معاملے کو نمٹانے سے پہلے بہار میں درج مقدمے کی صورتحال معلوم کی جا سکتی ہے ۔
سپریم کورٹ نے ان کی دلیلیں سننے کے بعد معاملے کی سماعت ملتوی کر دی۔
یہ مقدمہ کووڈ-19 وبا کے دوران بابا رام دیو کی جانب سے مبینہ طور پر جاری کردہ ایک ویڈیو میں ڈاکٹروں کے ذریعہ علاج کے طریقوں پر تنقید سے متعلق ہے ۔ اس وائرل ویڈیو کلپ میں یوگا گرو یہ دعویٰ کرتے ہوئے سنائی دیے تھے کہ کووڈ-19 کے لیے ‘‘ایلوپیتھی’’ کی دوائیں کھانے سے لاکھوں لوگ مرے ہیں۔









