نئی دہلی، 8 ستمبر (یو این آئی) دہلی کی نچلی عدالتوں میں کام کرنے والے وکلاء نے اپنی غیر معینہ مدت کی ہڑتال کو معطل کرنے کی بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) کی اپیل کو سختی سے مسترد کر دیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ آج سے پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق احتجاج جاری رہے گا۔
دہلی کی تمام ضلعی عدالتوں کی بار ایسوسی ایشنز کی کوآرڈینیشن کمیٹی کے صدر وی کے سنگھ نے ہفتے کی شام جاری کردہ ایک بیان میں اس بات کا اعادہ کیا کہ پولیس اہلکاروں کو گواہی اور ثبوت کے لیے عدالتوں میں جسمانی طورپر (فزیکلی )حاضر ہونا پڑے گا۔
نائب صدر راجپال کسانہ نے کہا کہ ان کے احتجاج کا مقصد منصفانہ اور آزادانہ سماعت کو یقینی بنانا اور عام لوگوں کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے ۔ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ یہ متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہمارا یہ معقول مطالبہ ہے کہ تمام پولیس افسران کو جسمانی طور پر گواہی اور ثبوت کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے اگر یہ پورا نہیں ہوتا ہے تو ہم 8 ستمبر 2025 سے غیر معینہ مدت تک غیر حاضری کی کال جاری رکھیں گے اور یہ اور بھی شدید ہو گا۔ قبل ازیں بی سی آئی کے صدر منن کمار مشرا نے وکلاء تنظیم کو خط لکھ کر ہڑتال کو معطل کرنے اور آج بی سی آئی اور بار کونسل آف دہلی (بی سی ڈی) کے ساتھ مشترکہ میٹنگ میں شرکت کی اپیل کی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ دہلی پولیس کے 4 ستمبر کے نوٹیفکیشن کے مطابق صرف رسمی پولیس گواہوں کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے گواہی دینے کی اجازت ہے ، جبکہ اہم گواہ ذاتی طور پر پیش ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کام سے مسلسل غیر حاضری کی وجہ سے زیر سماعت قیدی اور جرائم کے متاثرین کے ساتھ ساتھ اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کے خواہشمند وکلاء کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔
یہ ہڑتال دہلی پولیس کے 13 اگست کے نوٹیفکیشن پر اعتراضات کی وجہ سے ہے ، جس میں پولیس گواہوں سے صرف ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پوچھ گچھ کی اجازت دی گئی تھی۔
نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد، وکلاء 22 اگست سے 28 اگست کے درمیان کام سے غیر حاضر رہے تھے ، لیکن پولیس کے حکم کو واپس لینے اور وزیر داخلہ امت شاہ نے بات چیت کی یقین دہانی کے بعد دوبارہ کام شروع کیا۔تاہم نوٹیفکیشن کو 4 ستمبر کو اس شرط کے ساتھ بحال کیا گیا تھا کہ صرف رسمی گواہ ہی ویڈیو کانفرنس کے ذریعے گواہی دے سکتے ہیں، بشرطیکہ جسمانی موجودگی کے لیے عدالتی منظوری درکار ہو۔پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں منعقدہ ایک میٹنگ میں کوآرڈینیشن کمیٹی نے بیانات اور ثبوت کے دوران جسمانی موجودگی کے اپنے مطالبے کو دہرایا اور زور دے کر کہا کہ ان کا احتجاج عوامی مفاد میں ہے ۔










