جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز اننت ناگ اور کولگام اضلاع کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دینے کی ہدایت دی، جو نقصانات کا تخمینہ لگائیں گی اور متاثرین کے لیے مرکز سے معاوضہ حاصل کرنے کی غرض سے جامع تجاویز تیار کریں گی۔
وزیر اعلیٰ نے متاثرہ خاندانوں سے بات چیت کرتے ہوئے یقین دلایا کہ حکومت پوری طرح ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی بحالی و ریلیف کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
ایک سرکاری ترجمان کے مطابق اس موقع پر نائب وزیر اعلیٰ سورندر کمار چودھری، وزراء سکینہ ایتو اور جاوید احمد رانا، وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی اور ضلع کے متعلقہ ارکان اسمبلی بھی موجود تھے۔
عمر عبداللہ نے حکام کو ہدایت دی کہ زرعی زمینوں، باغبانی کی فصلوں اور ہائی وے پر پھنسے پھل سے لدے ٹرکوں کو پہنچے نقصان کا بھی مکمل تخمینہ لگایا جائے اور اس کی رپورٹ پیش کی جائے۔
اننت ناگ کے دورے کے دوران وزیر اعلیٰ نے مہندی کدل، جنگلات منڈی، دیوا کالونی، اشاجی پورہ پل اور دیگر متاثرہ علاقوں کا معائنہ کیا۔ اس دوران گنجی وارہ کے رہائشیوں نے سیلاب شڈ پمپ کی جلد تکمیل کے ساتھ ساتھ عیدگاہ کالونی میں اندرونی سڑکوں اور نکاسی آب کے نظام کی مرمت کا مطالبہ کیا۔
بعد ازاں وزیر اعلیٰ نے ضلع کے متعلقہ افسران کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔
ڈپٹی کمشنر اننت ناگ نے وزیر اعلیٰ کو سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیل پیش کی، جن میں ریسکیو آپریشنز، بے گھر افراد کے لیے شیلٹر ہومز قائم کرنا، وسائل کی فراہمی، ندی کناروں پر ریت کی بوریاں رکھنا اور فوری بحالی کے کام شامل تھے۔
افسر نے پانی جمع ہونے کے مسائل، متاثرہ افراد اور مستقبل میں اس طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے منصوبوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے ضلعی انتظامیہ کو بحالی کے کاموں کو اولین ترجیح دینے کی ہدایت دی۔
وزیر اعلیٰ نے طویل المدتی منصوبہ بندی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ متبادل فلوڈ چینل، دریاؤں اور نالوں کی کھدائی، ڈی واٹرنگ پمپس کی تنصیب اور دریا کے پشتوں کی مضبوطی جیسے اقدامات کی جانچ پرکھ ضروری ہے۔
عمرعبداللہ نے بعد ازاں کولگام کا بھی دورہ کیا تاکہ ذاتی طور پر نقصانات، بحالی کے کاموں اور عوامی مشکلات کا جائزہ لے سکیں۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ پر زور دیا کہ بحالی کے کام جنگی بنیادوں پر تیز رفتار سے مکمل کیے جائیں اور متاثرہ علاقوں میں ضروری خدمات کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔
کولگام کے منی سیکریٹریٹ میں منعقدہ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر نے وزیر اعلیٰ کو بروقت انخلا کے اقدامات، سڑکوں، پلوں اور عوامی سہولیات کو پہنچے نقصان اور خدمات کی فوری بحالی کے اقدامات کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
وزیر اعلیٰ نے ضلعی انتظامیہ کی بروقت انخلا کی کوششوں کو سراہتے ہوئے پی ڈی ڈی، جل شکتی اور آبپاشی و فلڈ کنٹرول سمیت تمام محکموں کو ہدایت دی کہ وہ مشن موڈ میں کام کرکے بنیادی خدمات کو بحال کریں۔
غیر قانونی کان کنی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے اس پر سختی سے پابندی عائد کرنے اور قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔










