لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے آج سرینگر میں یومِ اساتذہ کی تقریب سے خطاب کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے عظیم ماہرِ تعلیم اور بھارت کے سابق صدر ڈاکٹر سروپلی رادھاکرشنن کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور جموں و کشمیر بھر سے ایوارڈ یافتہ اساتذہ کو مبارکباد دی۔
اپنے کلیدی خطاب میں لیفٹیننٹ گورنر نے ان اہم وجوہات پر روشنی ڈالی کہ کیوں تعلیمی نظام کو پائیدار ترقی کے لیے تعلیم پر توجہ دینی چاہیے اور نوجوان نسل میں وجود کی باہمی وابستگی کی گہری سمجھ کو فروغ دینا چاہیے۔
سنہا نے کہا’’معاشی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن خوشحالی اور سماجی مساوات کی کلید ہے۔ ہمارے تعلیمی نظام کو اس بات پر زور دینا چاہیے کہ ہمارے قدرتی وسائل محدود ہیں اور نوجوانوں کو ماحولیاتی نظام اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور قدرتی وسائل کی حفاظت پر کام کرنا چاہیے‘‘۔
دنیا شدید قدرتی آفات کا سامنا کر رہی ہے جس کے نتیجے میں جانوں کا نقصان، انفراسٹرکچر کو نقصان اور معاشرے پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ہمارے تعلیمی اداروں کو ابتدائی وارننگ سسٹمز کو بہتر بنانے اور مقامی آبادی کے ساتھ تعاون کرنے پر کام کرنا چاہیے تاکہ قدرتی آفات اور موسمیاتی لچک کے لیے فطرت پر مبنی حل تلاش کیے جا سکیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اسکول اور اعلیٰ تعلیم کے محکموں کو ہدایت دی کہ وہ طلبہ کو گرین جموں کشمیر ڈرائیو پروگرام سے جوڑیں تاکہ نصاب میں تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ فیلڈ میں بھی تجربہ حاصل ہو۔
سنہا نے کہا’’ہمیں فطرت کے ساتھ ہم آہنگی میں رہنے کی صدیوں پرانی روایت کو زندہ کرنا چاہیے۔ کلاس روم میں موسمیاتی تبدیلی کو بطور لازمی مضمون پڑھانے اور فیلڈ ورک کرانے کی ضرورت ہے۔جبکہ نئی ٹیکنالوجیز صنعتوں اور سماجی اقدار کو نئی شکل دے رہی ہیں، فطرت کا قہر بھی بڑھ رہا ہے۔ قدرتی آفات ہر روز انسانیت کو متاثر کر رہی ہیں۔ نوجوانوں کو فطرت اور ترقی کے درمیان توازن پیدا کرنے کی بڑی ذمہ داری اٹھانی ہوگی‘‘۔
اپنے خطاب میں لیفٹیننٹ گورنر نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ اپنی دانش اور تجربے کو استعمال کرتے ہوئے طلبہ میں زندگی کی مہارتیں، تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت، سائنسی ذہن اور تجسس پیدا کریں اور ٹیم ورک اور ثابت قدمی جیسی قدریں سکھائیں۔
سنہا نے مزید کہا’’آج یومِ اساتذہ کے موقع پر، میرا پیغام طلبہ اور اساتذہ کے لیے یہ ہے کہ جب ایک بار کمال کے حصول کی جستجو آپ کے ذہن میں گہرائی سے پیوست ہو جائے تو آپ کی سب سے بڑی امنگیں اور خواب حقیقت بن جائیں گے۔ایک استاد کو لازمی طور پر طلبہ کو بڑے خواب دیکھنے کی ترغیب دینی چاہیے اور ان کا کردار تعمیر کرنا چاہیے۔ سائنس کے ساتھ ساتھ، انہیں قدریں بھی سکھائیں اور ان کی منفرد شخصیت کو پروان چڑھانے میں مدد کریں۔ حتمی مقصد یہ ہے کہ طلبہ پوری طرح زندگی کے چیلنجوں کا سامنا کرنے اور دنیا میں تیز رفتار تبدیلیوں کے مطابق ڈھلنے کے لیے تیار ہوں‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اساتذہ کا موازنہ اے آئی ٹولز سے نہیں کیا جا سکتا کیونکہ تدریس محض ڈیٹا اور معلومات نہیں بلکہ تجربہ اور دانش ہے۔
ایل جی نے کہا’’ایک استاد کی سب سے خاص خوبی یہ ہے کہ وہ کلاس روم میں انسانی لمس لا سکتا ہے۔ صرف ایک استاد ہی طلبہ کو تعلیم کا حقیقی تجربہ دے سکتا ہے اور عملی تعلیم کو آسان بنا سکتا ہے‘‘۔
سنہا نے کہا کہ آج مصنوعی ذہانت کے آلات اور مشین لرننگ نے صنعتوں اور تعلیم کو نئی شکل دے دی ہے۔ اس تیزی سے بدلتی دنیا میں، اساتذہ کو پورے تعلیمی نظام کو ازسرنو تصور کرنا ہوگا۔
سنہا نے کہا’’اساتذہ کو ٹیکنالوجی کے ساتھ مقابلہ نہیں کرنا چاہیے؛ اس کے بجائے، انہیں اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ اسے طلبہ کے فائدے کے لیے کیسے استعمال کیا جائے۔ ٹیکنالوجی ایک مجازی معاون کے طور پر کام کرے گی، تعلیمی نظام کو مضبوط بنائے گی اور ہمیں مستقبل کے انسانی وسائل تیار کرنے میں مدد دے گی‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ اسکول ایجوکیشن اور ہائر ایجوکیشن محکمے گولڈ میڈل اور سرٹیفکیٹ آف میرٹ کے ساتھ ساتھ اختراع، نئے خیالات اور تحقیق کے لیے بھی ایوارڈ شامل کریں۔
سنہا نے نوجوانوں سے کہا’’بڑے خواب دیکھو، خود پر یقین رکھو، اور توجہ اور عزم کے ساتھ محنت کرو۔ اپنے الفاظ کے ذخیرے سے اطمینان کا لفظ نکال دو؛ کچھ نیا اور تخلیقی کرنے کی بھوک ہونی چاہیے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر میں حالیہ قدرتی آفات میں جاں بحق ہونے والے افراد کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا۔انہوں نے دہرایا کہ معزز وزیر اعظم نریندر مودی اور معزز وزیر داخلہ امیت شاہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ متاثرہ خاندانوں کی مناسب بحالی کے لیے تمام کوششیں کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہند صرف انفراسٹرکچر کی تعمیر نو نہیں بلکہ معمول کی زندگی کی بحالی کے لیے بھی پرعزم ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے محکمہ اسکول ایجوکیشن کی تعریف کی کہ انہوں نے خصوصی طور پر اہل اساتذہ کو اعزاز بخشا اور ایوارڈ زمرے میں زبان اور یوگا کو بھی شامل کیا۔









