ایک ہفتے تک جاری رہنے والی شدید بارشوں، سیلاب اور تیز ہواؤں کے باعث کئی اسکولی عمارتوں کے ڈوب جانے یا نقصان پہنچنے کے بعد، ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن کشمیر نے جمعرات کو وادی کے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں میں پیر۸ ستمبر سے کلاسز کے دوبارہ شروع ہونے کا حکم دیا۔
ایک حکم نامے میں ڈائریکٹوریٹ نے کہا کہ یہ فیصلہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد لیا گیا ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ طلبہ کی واپسی سے قبل اسکولی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ احاطہ موزوں اور محفوظ بنایا جائے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے’’یہ تمام ادارہ جاتی سربراہان اور عملے پر لازم ہوگا کہ وہ پیشگی طور پر کلاس رومز اور اسکول احاطے کی صفائی اور سینیٹائزیشن کو یقینی بنائیں تاکہ تدریسی عمل ایک محفوظ، صاف ستھری اور آسان فضا میں انجام دیا جا سکے‘‘۔
یہ ہدایت اس خراب موسم کے تناظر میں جاری کی گئی ہے جو گزشتہ ہفتے کشمیر بھر میں وسیع پیمانے پر سیلاب اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان کا باعث بنا۔ کئی اسکولی عمارتوں کے زیرِ آب آنے کی اطلاع ملی، جبکہ بعض ڈھانچوں کو ساختی نقصان بھی پہنچا۔
حکام نے بتایا کہ یہ قدم فیلڈ سے موصولہ رپورٹس کے جائزے اور اس بات کو یقینی بنانے کے بعد اٹھایا گیا کہ۸ ستمبر سے پہلے حفاظتی معائنے کئے جائیں گے۔
خراب موسمی صورتحال کے باعث وادی کشمیر میں جمعرات کو تعلیمی ادارے مسلسل دوسرے روز بھی بند رہے ۔
تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کا فیصلہ طلبا اور عملے کے تحفط کو یقینی بنانے کے پیش نظر لیا گیا۔
صوبائی کمشنر کشمیر انشول گرگ کی طرف سے جاری ایک حکمنامے میں کہا گیا’’خراب موسمی حالات کے پیش نظر اور احتیاطی تدابیر کے طور پر۴ستمبربروز جمعرات پورے کشمیر میں تمام تعلیمی ادارے بشمول اسکول، کالج، یونیورسٹیاں اور کوچنگ سینٹرز بند رہیں گے ‘‘۔
وادی میں بدھ کے روز بھی تعلیمی ادارے بند رہے تھے ۔
جموں صوبے میں ناساز گار موسمی صورتحال کے پیش نظر قریب ایک ہفتے سے تعلیمی ادارے بند ہیں۔
دریں اثنا جمعرات کی صبح سے جہلم اور اس کے معاون ندیوں میں پانی کی سطح کم ہونا شروع ہو گئی ہے وہیں اننت ناگ، بڈگام، کولگام، پلوامہ اور شوپیاں اضلاع کے کچھ علاقوں میں پانی پھیل گیا ہے ۔









