ندستیاب نئی سیٹیلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کے نْور خان ایئر بیس‘ جو بھارت کے مئی میں کی گئی آپریشن سندور کی کارروائی کے بعد تباہ ہوا تھا‘ میں تعمیر نو کی سرگرمیاں زور و شور سے جاری ہیں۔
نْور خان، جو اسلام آباد سے ۲۵کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر واقع ایک اسٹریٹیجک ایئر بیس ہے، پاکستان ایئر فورس کے اہم اثاثوں کا گھر ہے۔
این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق۱۰ مئی کو بھارت نے ایک میزائل حملہ کیا جس میں کمپلیکس کے اندر موجود دو خصوصی مقاصد کے ٹرکوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ دونوں ٹرک اور کمپلیکس، جو ڈرون اثاثوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول کیلئے استعمال ہو سکتے تھے، تباہ کر دیے گئے۔
اگرچہ بھارت نے کبھی تصدیق نہیں کی کہ کون سے میزائل استعمال کئے گئے، لیکن قوی امکان ہے کہ نْور خان کی سہولت کو براہموس یا اسکالپ ایئر لانچڈ لینڈ اٹیک میزائلز یا دونوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ آپریشن سندور کے دوران براہموس بھارتی فضائیہ کے سو۳۰ لڑاکا طیاروں سے داغا گیا، جبکہ اسکالپ رافیل سے لانچ کیا گیا۔
اس رپورٹ میں دکھائی گئی تصاویر کے تسلسل سے پتہ چلتا ہے کہ حملوں سے پہلے اس سہولت میں دونوں طرف آوِننگز کے ساتھ دو ٹریکٹر ٹریلر ٹرک موجود تھے۔
۱۰ مئی ۲۰۲۵ کی ایک تصویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملوں نے دونوں ٹرک تباہ کر دیے اور قریبی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچایا۔
۱۷ مئی تک یہ مقام صاف کر دیا گیا تھا۔۳ ستمبر (اسی ہفتے کے شروع میں) کی ایک تصویر نئی تعمیراتی سرگرمی کو ظاہر کرتی ہے۔ اس میں نئی دیواریں شامل ہیں۔
جیو انٹیلی جنس کے ماہر ڈیمین سائمن نے کہا ’’حالیہ سیٹیلائٹ تصاویر ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستان نے نْور خان ایئر بیس پر اس ہدفی مقام کی دوبارہ تعمیر شروع کر دی ہے جسے بھارت نے مئی ۲۰۲۵ میں نشانہ بنایا تھا۔ بھارتی کارروائی نے ایئر فیلڈ کے اندر موجود خصوصی فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ان کی تباہی ہوئی اور قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ بعد ازاں، ان عمارتوں میں سے کئی کو مسمار کر دیا گیا، ممکنہ طور پر اندرونی نظاموں کی خرابی، وائرنگ کے فیل ہونے یا ڈھانچے کی کمزوری کے باعث‘‘۔
نْور خان پر بھارتی فضائیہ کا حملہ بیک وقت حربی اور علامتی دونوں نوعیت کا سمجھا گیا، کیونکہ یہ ایک ایسے بیس کو نشانہ بنا رہا تھا جو پاکستان آرمی کے ہیڈکوارٹرز کے قریب ہے اور فضائی نقل و حرکت کے آپریشنز کا مرکز ہے۔ ان آپریشنز میں ساب ایری آئی ایئر بورن ارلی وارننگ سسٹمز، سی۱۳۰ ٹرانسپورٹ طیارے اور آئی ایل۷۸ فضائی ایندھن بھرنے والے طیارے شامل ہیں، جو لاجسٹکس، نگرانی اور عملی ہم آہنگی کے لئے ناگزیر ہیں۔
سائمن نے مزید کہا’’موجودہ تعمیراتی سرگرمی سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئی دیواریں کھڑی کی گئی ہیں جو پرانی عمارت کے ڈیزائن اور سابقہ خاکے سے ملتی جلتی ہیں۔ چونکہ کمپلیکس کے اس حصے کو حملے کے دوران صرف ثانوی نقصان پہنچا تھا، اس لئے یہ بھی ممکن ہے کہ دوبارہ تعمیر کے لئے وہی پرانی بنیادیں استعمال کی جا رہی ہوں جو برقرار اور ڈھانچائی طور پر قابل عمل تھیں‘‘۔
بھارت نے پہلگام دہشت گرد حملے ‘جس میں ۲۲؍ اپریل کو۲۶ شہری ہلاک ہوئے تھے‘کے بعد پاکستان کے اندر کئی فوجی اور دہشت گرد اہداف پر حملہ کیا، جن میں کچھ اہداف گہرے اندر تک شامل تھے۔
اس ماہ کے شروع میں این ڈی ٹی وی ڈیفنس سمٹ کے دوران ایک خطاب میں بھارتی فضائیہ کے وائس چیف، ایئر مارشل نرمدیشور تیواری نے کہا کہ فضائیہ نے دہشت گرد حملے کے دو دن کے اندر حکومت کو آپریشنل آپشنز کی فہرست فراہم کر دی تھی۔۲۹؍ اپریل کو اہداف کو شارٹ لسٹ کیا گیا اور آپریشنل منصوبہ بندی شروع ہوئی۔۶مئی کو مسلح افواج نے حملوں کی تاریخ اور وقت کو حتمی شکل دے دی۔
بھارت کا پہلگام دہشت گرد حملے کا جواب۷ مئی کو شروع ہوا جب بھارتی فضائیہ نے پاکستانی فورسز کی ڈرون اور میزائل جوابی کارروائیوں کے مقابلے میں اپنی کارروائی کو مرحلہ وار بڑھایا۔
مختلف محاذوں پر کی جانے والی مربوط کارروائیوں میں بھارتی فضائیہ نے پاکستان کے اندر ۲۰۰ کلومیٹر کی گہرائی تک حملے کئے، جو ۱۹۷۱ کی جنگ کے بعد پاکستانی فضائی حدود میں سب سے گہرے حملے تھے۔
بھارتی فضائیہ نے دہشت گرد مراکز، دشمن کے ریڈارز، رن ویز اور ان ہینگرز کو نشانہ بنایا جن میں پاکستان ایئر فورس کے طیارے موجود تھے، جس نے پاکستانی قیادت کو ۱۰مئی کو سیز فائر مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کر دیا۔










