تل ابیب، 4 ستمبر (یو این آئی) اسرائیل میں زمین کی گہرائی میں ایک ہولناک منصوبے کی سیٹلائٹ تصاویر نے دنیا کو چونکا دیا ہے ، معلوم ہوا ہے کہ جنوبی اسرائیل کے صحرائے نقب میں واقع دیمونا شہر کے قریب جوہری پروگرام سے منسلک ایک نئی تنصیب میں زور و شور سے تعمیراتی کام ہو رہا ہے ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر میں دکھائی دینے والی تنصیب ایک نیا جوہری ری ایکٹر یا جوہری ہتھیاروں کو جمع کرنے کی جگہ ہوسکتی ہے ۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق صحرائے نقب میں ‘شمعون پیریز’ جوہری تحقیقی مرکز میں تعمیراتی کام نے ایک بار پھر اسرائیل کی ایٹمی حیثیت کے بارے میں سوالات اٹھا دیے ہیں۔ 7 ماہرین نے تصاویر کا معائنہ کرنے کے بعد کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ تعمیراتی کام اسرائیلی جوہری ہتھیاروں کے پروگرام سے منسلک ہے ۔
تین ماہرین کے مطابق زمین کے اندر ہونے والا کام کثیر المنزلہ ہے ، اور یہ ایک نئے ہیوی واٹر ری ایکٹر کی تعمیر ہے ، جو پلوٹونیم پیدا کرسکتا ہے ، جو جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہونے والا ایک اور بنیادی مواد ہے ۔ دیگر چار ماہرین نے بھی تسلیم کیا کہ یہ ایک ہیوی واٹر ری ایکٹر ہوسکتا ہے ، تاہم اس سے زیادہ انھوں نے کچھ کہنے سے خود کو قاصر بتایا، کیوں کہ یہ تعمیر ابھی ابتدائی مراحل میں ہے ۔
اے پی نے سب سے پہلے 2021 میں یروشلم سے تقریباً 90 کلومیٹر جنوب میں واقع اس تنصیب میں کھدائی کے کام کی اطلاع دی تھی، اس وقت سیٹلائٹ تصاویر میں کارکنوں کو سائٹ پر اصل ‘ہیوی واٹر’ ری ایکٹر کے قریب تقریباً 150 میٹر لمبا اور 60 میٹر چوڑا گڑھا کھودتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔
5 جولائی کو ‘پلانٹ لیبز’ کی طرف سے لی گئی تصاویر سے ، جو حال ہی میں سامنے آئی ہیں، کھدائی کی جگہ پر وسیع پیمانے پر تعمیراتی کام کا پتا چلتا ہے ، اور ایسا لگتا ہے کہ سائٹ پر موٹی کنکریٹ کی دیواریں لگائی گئی ہیں، جو زیر زمین کئی منزلوں پر مشتمل ہے ۔







