نئی دہلی، 3 ستمبر (یو این آئی ) مرکزی شہری ہوابازی کے وزیر رام موہن نائیڈو نے بدھ کو 2030 تک روایتی ہوابازی کے ایندھن میں پانچ فیصد سبز ایندھن(گرین فیئول) کو ملانے کے ہدف کے اپنے عزم کو دہرایا اور کہا کہ اس سے کاربن کے اخراج کو سالانہ 2 سے 25 ملین ٹن تک کم کرنے میں مدد ملے گی۔
مسٹر نائیڈو نے بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے ساتھ اور یورپی یونین کے تعاون سے یہاں ہندوستان کے لیے سبز ہوابازی کے ایندھن کے بارے میں ایک فزیبلٹی اسٹڈی کو باضابطہ طور پر جاری کرتے ہوئے کہا کہ سبز ہوا بازی کا ایندھن ہوا بازی کے شعبے کو کاربنائز کرنے کے لیے ایک عملی اور فوری حل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گرین ایوی ایشن فیول کی پیداوار سے اخراج میں سالانہ 2 سے 25 ملین ٹن کمی آئے گی اور خام تیل کی درآمدات میں بھی کمی آئے گی۔ اس کے ساتھ زرعی باقیات اور بائیو ماس کے لیے ایک مضبوط ویلیو چین بنانے سے کسانوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس مطالعہ کو یہاں اڑان بھون میں منعقدہ دو روزہ ورکشاپ میں بحث کے لیے پیش کیا گیا، جس پر اسٹیک ہولڈرز نے غور و خوض کیا۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ 75 کروڑ ٹن سے زیادہ دستیاب بائیو ماس اور تقریباً 23 کروڑ ٹن غیر استعمال شدہ زرعی باقیات کے ساتھ ہندوستان نہ صرف سبز ہوابازی کے ایندھن کی اپنی مانگ کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ، بلکہ دنیا میں ایک سرکردہ برآمد کنندہ کے طور پر ابھرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے ۔
سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل فیض احمد قدوئی نے کہا کہ ملک میں ہوا بازی کی صنعت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور 2030 تک مسافروں کی آمدورفت دوگنی ہو کر سالانہ 50 کروڑ تک پہنچنے کی توقع ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گرین ایئر کرافٹ انرجی فزیبلٹی اسٹڈی ایک قومی پالیسی فریم ورک کی تشکیل کے لیے اسٹریٹجک بصیرت فراہم کرے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ پائیداری ملک کی ترقی کی کہانی کا حصہ بنی رہے ۔









