جمعرات, جون 4, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home عالمی خبریں

وائس آف امریکہ نے ۸۳سال بعد اپنے بنیادی آپریشنز باضابطہ طور پر بند کردیے 

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-09-03
in عالمی خبریں
A A
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی ناکامی کے یقینی امکانات

صدر ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان

(یو این آئی)
واشنگٹن/۲ستمبر
وائس آف امریکہ (وی او اے ) نے۸۳سال بعد اپنے بنیادی آپریشنز اس ہفتے باضابطہ طور پر بند کر دیے ۔
ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق لیبر ڈے کی طویل تعطیلات کے بعد پہلے ورکنگ ڈے پر منگل کے روز (آج) پچھلی چھنٹیوں کے باوجود باقی بچ جانے والا اسٹاف بھی ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوگا۔
امریکی ایجنسی برائے گلوبل میڈیا (یو ایس اے جی ایم) کے لیے ٹرمپ کی مقرر کردہ چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کَری لیک نے اپنے بیان میں اس برطرفی کا اعلان کیا، جسے باضابطہ طور پر ریڈکشن اِن فورس (آر آئی ایف) کہا گیا ہے ۔ انہوں نے لکھا کہ ہم یہ آر آئی ایف صدر کی ہدایت پر کررہے ہیں، تاکہ وفاقی بیوروکریسی کو کم کیا جا سکے ، ایجنسی کی خدمات کو بہتر بنایا جا سکے اور امریکی عوام کے محنت سے کمائے گئے پیسے میں مزید بچت ہو سکے ۔
۱۹۴۲میں دوسری جنگ عظیم کے دوران قائم ہونے والا وی او اے امریکی بین الاقوامی نشریات کا سب سے بڑا اور پرانا ادارہ تھا، اپنے عروج پر یہ ریڈیو، ٹی وی اور ڈیجیٹل خبروں کو۴۸زبانوں میں تیار کرتا تھا اور ہفتہ وار۳۶۰ملین سے زائد عالمی سامعین تک پہنچتا تھا۔
ایک سابق ملازم نے کہا کہ وی او اے صرف ایک میڈیا ادارہ نہیں تھا، اس نے لاکھوں لوگوں کو قابلِ اعتماد اور حقائق پر مبنی خبروں تک رسائی دی، اکثر ایسے ممالک میں جہاں ایسا ممکن ہی نہیں تھا، میں سمجھ نہیں سکتا کہ اسے کیوں بند کیا گیا۔
کئی ملازمین، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ‘ڈان’ سے بات کی، ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی برطرفیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی ہے اور انہیں عوامی بیانات دینے سے منع کیا گیا ہے ۔
ایک ملازم نے بتایا کہ زیادہ تر برطرف ہونے والے زبان کے ماہرین تھے ، جن کے لیے امریکی میڈیا انڈسٹری میں روزگار کے امکانات نہایت محدود ہیں۔
سابق ملازم نے مزید کہا کہ اور بہت سے لوگوں کے لیے اب نئے ہنر سیکھنے میں بھی ‘بہت دیر’ ہو چکی ہے ۔
برطرف ہونے والوں میں درجنوں بھارتی اورپاکستانی صحافی اور عملے کے ارکان شامل تھے ، جو وی او اے کی اُردو اور پشتو سروسز میں کام کرتے تھے ، دیگر افراد ویتنامی، مینڈارن، روسی، فارسی اور درجنوں دیگر زبانوں کے شعبوں سے تعلق رکھتے تھے ، جنہوں نے سرد جنگ اور اس کے بعد کے عرصے میں وی او اے کو امریکی عوامی سفارت کاری کا ایک اہم ہتھیار بنایا تھا۔
ٹرمپ انتظامیہ نے اس سال کے اوائل میں وی او اے کے آپریشنز کو بتدریج ختم کرنا شروع کردیا تھا، تقریباً تمام اسٹاف کو مارچ میں انتظامی چھٹیوں پر بھیج دیا گیا تھا۔
مئی میں تقریباً ۶۰۰کنٹریکٹرز کو فارغ کر دیا گیا تھا، اور باقی ماندہ ملازمین کو جون میں برطرفی کے نوٹس موصول ہوئے تھے ، ان نوٹسز میں سے کچھ وقتی طور پر کاغذی غلطیوں کی وجہ سے واپس لے لیے گئے تھے ، لیکن یو ایس اے جی ایم نے واضح کر دیا تھا کہ مستقل بنیادوں پر آر آئی ایف ناگزیر ہے ۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مالی بچت سے زیادہ سیاسی محرکات رکھتا ہے ۔
وی او اے کی وائٹ ہاؤس کے لیے سابق بیورو چیف اور انتظامیہ کے خلاف جاری مقدمے کی ایک مدعیہ پیٹسی وڈاکسوارا نے کہا کہ یہ پیسہ بچانے کے بارے میں نہیں ہے ، یہ آزاد صحافت کو خاموش کرانے کے بارے میں ہے ، جو انتظامیہ کی سوچ کے مطابق نہیں چلتی۔
گزشتہ ہفتے ایک وفاقی جج نے اس مؤقف کے کچھ حصوں کی تائید کی تھی۔ امریکی ڈسٹرکٹ جج رائس لیمبرتھ نے لیک کی یہ کوشش روک دی تھی کہ وہ وی او اے کے ڈائریکٹر مائیکل اَیبرا مووٹز کو برطرف کر سکیں، اور قرار دیا تھا کہ انہیں ایسا کرنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں۔
اَیبرا مووٹز کو اس وقت انتظامی چھٹیوں پر بھیجا گیا تھا، جب انہوں نے شمالی کیرولائنا میں واقع ایک ریموٹ ٹرانسمیشن سہولت میں تبادلے سے انکار کیا تھا۔
جج نے یہ بھی حکم دیا تھا کہ لیک اور ان کے۲اعلیٰ معاونین ستمبر کے وسط تک حلفیہ بیانات دیں، اور خبردار کیا کہ مزید عدم تعاون کی صورت میں انہیں توہینِ عدالت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

وینز ویلا کو ۸؍امریکی بحری جنگی جہاز۱۲۰۰میزائلوں سے نشانہ بنا رہے ہیں:صدر مادورو

Next Post

اسرائیلی لابی کا کانگریس پر اثر کم ہوتا جا رہا ہے :ٹرمپ کا اعتراف

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

میزائل پروگرام کو محدود کرنے کا مطالبہ مذاکرات میں رکاوٹ‘
عالمی خبریں

امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی ناکامی کے یقینی امکانات

2026-06-04
امریکہ کو اسکول کے بچوں کے تحفظ کیلئے مزید سرمایہ کاری کرنی چاہیے: ٹرمپ
عالمی خبریں

صدر ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان

2026-06-04
سعودی عرب سفارتی مذاکرات کی بحالی چاہتا ہے، ایران کا دعویٰ
عالمی خبریں

ایران کا بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر اور ایئربیس نشانہ بنانے کا دعویٰ

2026-06-04
ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر گرما گرم بحث
عالمی خبریں

’’میں تمھاری کھال بچا رہا ہوں‘‘ ٹرمپ کی نیتن یاہو پر شدید برہمی

2026-06-03 - Updated on 2026-06-04
امریکہ کو اسکول کے بچوں کے تحفظ کیلئے مزید سرمایہ کاری کرنی چاہیے: ٹرمپ
عالمی خبریں

ٹرمپ کے نیتن یاہو کو پاگل کہنے کے بعد اسرائیل کا جنوبی لبنان پر حملہ

2026-06-03
اہم تنصیبات کی تصاویرجموں میں ڈرون ضبط
عالمی خبریں

روسی میزائل اور ڈراون حملے میں یوکرین میں نو افراد ہلاک، درجنوں زخمی

2026-06-03
امریکا اور برطانیہ کی جانب سے روس پر نئی پابندیاں نافذ
عالمی خبریں

امریکہ و اسرائیل فوجی تعلقات میں تاریخی توسیع؟ کانگریس کا نیا بل متنازع بن گیا

2026-06-02
سعودی عرب سفارتی مذاکرات کی بحالی چاہتا ہے، ایران کا دعویٰ
عالمی خبریں

امریکہ جنگ بندی پر عمل نہیں کر رہا: ایرانی چیف مذاکرات کار باقر قالیباف

2026-06-02
Next Post
امریکہ کو اسکول کے بچوں کے تحفظ کیلئے مزید سرمایہ کاری کرنی چاہیے: ٹرمپ

اسرائیلی لابی کا کانگریس پر اثر کم ہوتا جا رہا ہے :ٹرمپ کا اعتراف

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.