ضلع بانڈی پورہ کے گریز سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے قریب تلیل کے کش پتھ گاؤں میں ہفتے کی علی الصبح لگی آگ نے تباہی مچا دی، جس میں کم از کم ۲۰ڈھانچے مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئے ۔
معلوم ہوا ہے کہ آگ بجھانے کی کارروائی کے دوران ایس ایچ او سمیت ۲۵؍افراد زخمی ہوئے جنہیں علاج ومعالجہ کی خاطر نزدیکی ہسپتال منتقل کیا گیا۔
فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کے ایک عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا کہ آگ اچانک ایک مکان سے شروع ہوئی اور چند ہی لمحوں میں تیز شعلوں نے پورے محلے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ چونکہ زیادہ تر مکانات لکڑی سے تعمیر شدہ تھے اس لئے آگ جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور تمام تر کوششوں کے باوجود قیمتی ڈھانچے لمحوں میں راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئے ۔
عینی شاہدین کے مطابق، آسمان کو چھوتی لپٹیں اور گھنا دھواں میلوں دور تک دکھائی دے رہا تھا، جبکہ گاؤں کے مرد، عورتیں اور بچے گھبراہٹ کے عالم میں گھروں سے باہر نکل آئے ۔ کئی متاثرہ کنبے صرف تن کے کپڑوں کے ساتھ گھروں سے باہر بھاگنے پر مجبور ہوئے ۔
سب ڈویژنل مجسٹریٹ گریز مختار احمد نے بتایا ’’آگ پر قابو پالیا گیا ہے تاہم کم از کم۲۰ڈھانچے مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں‘‘۔
ادھر محکمہ صحت کے ایک افسر نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ آگ بجھانے کے دوران ۲۵؍افراد زخمی ہوئے جن میں ایس ایچ او بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تمام زخمیوں کو علاج و معالجہ فراہم کرنے کے بعد ہسپتال سے رخصت کیا گیا۔
مقامی ایم ایل اے نذیر احمد خان نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ نے متاثرہ کنبوں کو فوری ریلیف فراہم کیا ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا ’’ضلعی ریڈ کراس فنڈ سے ہر متاثرہ خاندان کو نقد امداد دی گئی ہے اور دیگر امدادی اقدامات بھی کئے جا رہے ہیں








