وزیر اعلی عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ ان کی حکومت انتظامیہ سے یہ سمجھنے کے لیے جواب طلب کرے گی کہ ۲۰۱۴ کے سیلاب کے بعد جموں و کشمیر میں سیلاب سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے تھے۔
ان کا یہ بیان جموں میں مسلسل بارشوں سے پیدا ہونے والے سیلاب کی وجہ سے تباہی پھیلانے اور کشمیر میں دریائے جہلم سمیت آبی ذخائر میں اضافے کے بعد سامنے آیا ہے۔
ان کاکہنا تھا’’جموں کے ساتھ ساتھ کشمیر میں بھی شدید بارش ہوئی۔ خدا نے ہمیں بچا لیا۔ اگر بارش ایک یا ایک دن سے زیادہ جاری رہتی تو ہمیں بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔ لیکن پانی کم ہونا شروع ہو گیا ہے۔ یہ جموں میں تیزی سے کم ہوتا ہے اور یہاں کشمیر میں کچھ وقت لگتا ہے‘‘۔
عمرعبداللہ نے یہاں نامہ نگاروں سے کہا ’’ہم خطرے سے باہر ہیں ، لیکن مجھے افسران کے ساتھ بیٹھ کر یہ سمجھنا ہوگا کہ ہم نے ۲۰۱۴ کے بعد کیا کیا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ صرف دو دن کی بارش نے کشمیر کو سیلاب کے دہانے پر پہنچا دیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’اگر چار دن تک بارش ہو تو کیا ہوگا ؟ ہمیں ۲۰۱۴ جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہم نے تب (۲۰۱۴) سات دن تک (بارش) برداشت کی تھی اور آٹھویں دن ڈوب گئے تھے۔ لیکن اب ، ہم نے دو دن کی بارشوں کو مشکل سے برداشت کیا‘‘۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ حکومت کو اصلاحی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ لوگ ہر سال سیلاب کے خوف میں نہیں رہ سکتے۔
ان کاکہنا تھا’’کچھ دنوں کے بعد ، میں افسران کے ساتھ بیٹھ کر یہ سمجھنے کی کوشش کروں گا کہ ۲۰۱۴ کے بعد ہم نے کیا کیا۔ پیسہ کہاں خرچ ہوا ؟ فلڈ چینل کی لے جانے کی صلاحیت میں کتنا اضافہ کیا گیا ؟ جہلم میں ڈریجنگ کرکے لے جانے کی صلاحیت بڑھانے میں ہم کتنے کامیاب ہوئے ؟جہاں بھی ہم پیچھے رہ رہے ہیں ، ہمیں اصلاحی اقدامات کرنے ہوں گے‘‘۔
اس سے قبل ، عبداللہ نے یہاں ڈل جھیل کے کنارے واقع مزار حضرت بل کا دورہ کیا اور آئندہ عیدمیلادالنبی کے انتظامات کا جائزہ لیا۔انہوں نے کئی محکموں کو عقیدت مندوں کیلئے مناسب انتظامات کرنے کی ہدایت کی۔ (ایجنسیاں)










