نئی دہلی، 28 اگست (یواین آئی) خواتین کے قومی کمیشن (این ڈبلیو سی) کی چیئرپرسن وجئے کشور رہاٹکر نے جمعرات کو یہاں خواتین کی حفاظت سے متعلق قومی سالانہ رپورٹ اور انڈیکس ناری2025‘ کا اجرا کیا۔
یہ رپورٹ پی ویلیو انالیٹکس کے ذریعہ منعقد کی گئی تھی اور اسے گروپ آف انٹلیکچوئل اینڈ اکیڈمیشین (جی آئی اے ) نے شائع کیا تھا۔ اس موقع پر مسز رہاٹکر نے عوام سے خواتین کی حفاظت کے سلسلے میں حکومت کی جاری کوششوں کو تمام ضرورت مند خواتین تک پہنچانے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ آج ملک کی بیٹیاں گھر کے آنگن سے لے کر عالمی سطح پر اپنا نام روشن کر رہی ہیں۔ مسز رہاٹکر نے کہا کہ آپریشن سندور میں ملک کی بیٹیوں کی بہادری نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمارے ملک میں دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے خواتین پائلٹس کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔
عوامی مقامات پر خواتین کی حفاظت کی پہل کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے پچھلی دہائی میں کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے فوری خدمات کو بڑھایا اور مضبوط کیا ہے۔ مسز رہاٹکر نے ناری شکتی سے کہا کہ ثقافت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ چیلنجوں کا بھی خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ بدقسمتی سے آج بھی کئی مقامات پر خواتین کی حفاظت ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ایسے میں حکومت اور عوام کو اس مسئلے کے حل کے لیے صرف اعدادوشمار کو کم کرنے سے نہیں بلکہ ایک جامع حکمت عملی کے ساتھ آگے آنا ہوگا۔
انہوںنے کہا کہ ہمیں خاص طور پر تعلیم، صحت اور خواتین کی حفاظت پر توجہ دینی ہوگی، تب ہی ہم ترقی یافتہ ہندوستان کی قرارداد کو پورا کرسکیں گے۔ اس کے لیے حکومت اور سماجی تنظیموں کو اکٹھا ہونا پڑے گا۔ انہوں نے نربھیا فنڈ، خواتین کی تربیت اور دیگر سرکاری اسکیموں کو ہر ضلع اور ہر عورت تک پہنچانے کی بھی اپیل کی۔ "ناری رپورٹ میں پتا چلا ہے کہ رانچی، سری نگر، کولکاتہ، دہلی، فرید آباد، پٹنہ اور جے پور ہندوستان میں خواتین کے لیے سب سے زیادہ غیر محفوظ شہر ہیں۔ جب کہ کوہیما، وشاکھاپٹنم، بھونیشور، آئزول، گنگٹوک، ایٹا نگر اور ممبئی کا شمار ہندوستان میں خواتین کے لیے محفوظ ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ جب کہ شہری سیکورٹی کے لحاظ سے، 40 فیصد خواتین اپنے شہروں میں "بہت محفوظ نہیں” یا "غیر محفوظ” محسوس کرتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، 7 فیصد خواتین نے سال 2024 میں ہراساں کیے جانے کی اطلاع دی، جو کہ این سی آر بی کے جرائم کے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ رپورٹ 31 شہروں اور خواتین کی آواز کو سامنے لاتی ہے۔ اس موقع پر پی ویلیو کے ڈائریکٹر پرہلاد راوت، پروفیسر منجولا بترا، مونیکا اروڑہ، سیما سنگھ اور دیگر مقررین نے خواتین کی حیثیت، قانون اور حالات کا ذکر کیا۔








