کوپن ہیگن میں اتوار کے روز 10,000سے زائد افراد نے فلسطینی حامی مظاہرے میں حصہ لیا جس میں غزہ جنگ کے خاتمے اور ڈنمارک سے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
آکسفیم، گرین پیس اور ایمنسٹی سمیت تقریباً 100 تنظیموں کے ساتھ ساتھ یونینز، سیاسی جماعتوں، فنکار جماعتوں اور انسانی حقوق کے کارکنان بشمول گریٹا تھنبرگ نے مارچ میں حصہ لیا۔پولیس نے مظاہرین کی تعداد کا تخمینہ فراہم نہیں کیا۔
ڈنمارک کی پارلیمنٹ کے باہر دھوپ میں جمع شدہ مظاہرین – جن میں چھوٹے بچوں کے ساتھ کئی خاندان بھی تھے – نے پرچم لہرائے اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔ انہوں نے اسلحے کی فروخت بند کرو”، "آزاد فلسطین” اور "ڈنمارک کا نسل کشی سے انکار” کے نعرے لگائے۔
اسرائیل کے روایتی حامی ڈنمارک نے کہا ہے کہ وہ غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے اسرائیلی حکومت پر دباؤ بڑھانے کی غرض سے یورپی یونین کی موجودہ صدارت کا استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اسرائیل کے بارے میں وزیرِ اعظم میٹے فریڈریکسن نے حال ہی میں کہا تھا کہ جنگ بہت آگے” نکل گئی ہے۔
لیکن ڈنمارک نے کہا ہے کہ اس کا مستقبل قریب میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
مظاہرے میں شریک تینسالیس سالہ مشیل ایپلروس نے اے ایف پی کو بتایا، "جو لوگ اقتدار میں ہیں وہ نسل کشی کو نہیں روک رہے اس لیے یہ اور بھی ضروری ہو گیا ہے کہ باہر نکلیں، احتجاج کریں اور تمام رہنماؤں کو بتا دیں کہ ہم اس سے متفق نہیں ہیں۔”
۔








