یفٹیننٹ گورنر ‘ منوج سنہا نے آج ٹیگور ہال سرینگر میں وڈیز ہندی شکشا سمیتی کے زیر اہتمام ایک پروگرام بعنوان ’’ ہندی رنگ منچ۔ ہماری بھاشا ، ہماری پہچان ‘‘ کے دوران نوجوانوں سے خطاب کیا ۔
اپنے خطاب میں لیفٹیننٹ گورنر نے جموں کشمیر میں سرکاری زبان ہندی کے فروغ کیلئے وڈیزہندی شکشا سمیتی کی قابل ذکر کوششوں کی تعریف کی ۔
سنہا نے کہا کہ پچھلے۷۵ برسوں میں ہندی وہ زبان بن گئی ہے جو ملک اور ہماری مشترکہ ثقافت کو جوڑتی ہے ۔ آزادی کی جدو جہد کے دوران ہندی زبان کو پورے ملک کے جذبات کا تبادلہ کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا ۔
ایل جی نے کہا کہ ہندی نہ صرف مواصلات کا ایک ذریعہ ہے بلکہ ہندوستانیوں کیلئے فخر ، سالمیت ، اتحاد اور شناخت کی علامت بھی ہے ۔ اس نے اپنے تنوع کو اتحاد کے دھاگے میں باندھنے میں ایک بہت اہم کردار ادا کیا ہے ۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ہمارے پالیسی سازوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ہندی اور ملک کی دیگر زبانوں کے مابین ہم آہنگی ہونی چاہئے ۔
سنہا نے کہا کہ ہندوستان ایک کثیر لسانی ملک ہے جہاں ۴۵۳ زبانیں سرکاری طور پر بولی جاتی ہیں اور ان زبانوں میں ہندی ۱۴۰ کروڑ ہندوستانیوں کیلئے جڑنے والا لنک رہا ہے ۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ لسانی ہم آہنگی برقرار رکھیں اور دوسری زبانوں کو سیکھیں اور ان کا احترام کریں ۔
سنہا نے کہا کہ ہندی کے ساتھ ہمیں اپنی تمام زبانوں پر فخر کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری مادری زبان کے علاوہ ہمیں دوسری زبانیں بھی سیکھنی چاہئیں اور ان زبانوں کے ثقافتی اور ادبی ورثے کو بھی پھیلانا چاہئے ۔
ایل جی نے کہا کہ ہمارے آزادی پسند جان بازوں ، پالیسی سازوں کیلئے ہندی کو قومج کی شناخت سے منسلک کیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ہندی کو ہم آہنگی کے دھاگے کے طور پر دیکھا اور اس نے ہمارے ثقافتی ورثے میں موجود تنوع کو مزید تقویت بخشی ہے ۔
سنہا نے جموں و کشمیر کے لسانی ورثے کو فروغ دینے کیلئے محکمہ ثقافت اور جے اینڈ کے اکیڈمی آف آرٹ ، کلچر اینڈ لینگویج کی کوششوں کی بھی تعریف کی ۔
اس موقع پر پرنسپل سیکرٹری ثقافت ، پرم ویر چکر وصول کنندہ ( اعزازی کپتان ) یوگندر یادو ، ایم ڈی اینڈ سی ای او جے اینڈ کے بینک ، ڈپٹی کمشنر کے وی ایس جموں ، قومی صدر وڈیز ہندی شکشا سمتی ، سینئر عہدیدار ، ممتاز ادبی شخصیات ، تعلیمی اداروں کے سربراہان اور بڑی تعداد میں نوجوان موجود تھے










