نئی دہلی، 21 اگست (یواین آئی) ایشیا کپ 2025 کے لیے شبھمن گل کی بطور نائب کپتان ٹی-20 ٹیم میں واپسی سنجو سیمسن کی پلیئنگ الیون میں جگہ کے لیے بڑا خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اب جبکہ گل نائب کپتان ہیں تو ظاہر ہے کہ پلیئنگ الیون میں ان کا شامل ہونا تقریباً طے ہے۔ یہ شبھمن گل کے لیے خوشخبری ہے لیکن اس کا اثر ٹیم انڈیا کے ٹی-20 کمبینیشن پر بھی پڑے گا۔
گل ٹیسٹ کرکٹ میں تو نمبر 3 یا 4 پر کھیلتے ہیں لیکن وائٹ بال کرکٹ میں وہ سلامی بلے باز ہیں۔ یعنی اگر وہ پلیئنگ الیون میں آتے ہیں (جس کے امکانات بہت زیادہ ہیں) تو پھر انہیں جگہ دینے کے لیے یا تو ابھیشیک شرما یا سیمسن کو باہر ہونا پڑے گا۔ پچھلے 12 ٹی-20 میں ہندوستان کے لیے ہمیشہ ابھیشیک اور سیمسن کی جوڑی ہی اوپننگ کر رہی ہے۔
ان دونوں نے اس دوران 22.25 کی اوسط سے 267 رنز بنائے ہیں، جس میں صرف ایک بار 50+ کی شراکت ہوئی ہے۔ تاہم ان کی رن ریٹ 9.82 رہی ہے اور اس دوران ہندوستان نے 12 میں سے 10 میچ جیتے ہیں۔ ان میں سے تین بار مین آف دی میچ کا ایوارڈ اسی اوپننگ جوڑی کو ملا (سیمسن 2، ابھیشیک 1)۔ سیمسن نے تین جبکہ ابھیشیک نے ایک سنچری بھی لگائی ہے۔ ایسے اعداد و شمار کے باوجود اوپننگ جوڑی کو توڑنا چونکانے والا فیصلہ ہو سکتا ہے۔ لیکن چیف سلیکٹر اجیت اگرکر کی رائے کچھ اور ہے۔ انہوں نے کہا، ’’سیمسن اوپننگ اس لیے کر رہے تھے کیونکہ سینیئر کھلاڑی دستیاب نہیں تھے۔‘‘ یہ اشارہ ہے کہ گل کی واپسی کے بعد اوپننگ کمبی نیشن بدلنے والا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ گل کے ساتھ اوپننگ کون کرے گا، سیمسن یا ابھیشیک؟ اگر ٹیم مینجمنٹ کے حالیہ فیصلوں کو دیکھا جائے تو جواب زیادہ مشکل نہیں۔ ٹیم اب ایسے کھلاڑیوں کو ترجیح دیتی ہے جو بلے بازی کے ساتھ ساتھ گیندبازی بھی کر سکیں۔ ابھیشیک اس معیار پر پورے اترتے ہیں کیونکہ وہ ایک کارآمد لیفٹ آرم اسپنر بھی ہیں۔ دوسرا ان کی فارم اور اسٹرائیک ریٹ شاندار ہے۔ ابھیشیک نے ہندوستان کے لیے آخری ٹی-20 میں صرف 54 گیندوں پر 135 رنز کی دھواں دھار اننگ کھیلی اور پھر گیندبازی میں بھی صرف 3 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں۔ ایسے میں گل کے ساتھ اوپننگ کرنا ان کے لیے زیادہ ممکن دکھائی دیتا ہے۔ ساتھ ہی لیفٹ رائٹ کمبی نیشن بھی ٹیم کے لیے فائدہ مند ہوگا۔
دوسری طرف سیمسن نے پچھلے 10 ٹی-20 میں ہندوستان کے لیے تین سنچریاں ضرور بنائی ہیں لیکن آئی پی ایل 2025 میں چوٹ کی وجہ سے وہ صرف 9 میچ کھیل پائے اور ان میں 285 رنز (ایک نصف سنچری کے ساتھ) بنائے۔ انگلینڈ کے خلاف آخری ٹی-20 سیریز میں ان کی کارکردگی مایوس کن رہی تھی۔ پانچ اننگز میں انہوں نے محض 51 رنز بنائے (اوسط 10.20) اور تیز گیندبازوں کے خلاف جدوجہد کرتے دکھائی دیے۔ ایسے میں ان کا اوپننگ اسپاٹ گل کے حق میں جا سکتا ہے۔
یہی نہیں، سیمسن کے لیے پلیئنگ الیون میں رہنا بھی مشکل نظر آ رہا ہے۔ گل اور ابھیشیک اگر اوپننگ کرتے ہیں تو نمبر 3 پر تلک ورما کا کھیلنا تقریباً طے ہے۔ تلک نے اپنے 24 ٹی-20 اننگز میں سے 13 بار نمبر 3 پر بیٹنگ کی ہے اور وہاں 55.37 کی اوسط اور 169.37 کے اسٹرائیک ریٹ سے 443 رنز بنائے ہیں، جس میں دو سنچریاں اور دو نصف سنچریاں شامل ہیں۔ ایسے میں سیمسن کے لیے صرف مڈل آرڈر یا فِنشر کے طور پر کھیلنے کا راستہ بچتا ہے لیکن اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ وہ اس پوزیشن پر زیادہ کامیاب نہیں رہے۔ نمبر 4 سے 7 کے بیچ سیمسن نے 22 اننگز میں محض 306 رنز بنائے ہیں (اوسط 20.40 اور اسٹرائیک ریٹ 123.88) جن میں صرف ایک نصف سنچری شامل ہے۔
سیمسن کے لیے یہ چیلنج اور بھی بڑھ جاتا ہے کیونکہ اسکواڈ میں جیتیش شرما بھی موجود ہیں جو وکٹ کیپر ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین فِنشر مانے جاتے ہیں۔ جیتیش نے ہندوستان کے لیے آخری ٹی-20 جنوری 2024 میں افغانستان کے خلاف کھیلا تھا۔ وہ اب تک 9 ٹی-20 کھیل چکے ہیں اور صرف 100 رنز بنائے ہیں لیکن ان کا اسٹرائیک ریٹ 147.05 رہا ہے۔ آئی پی ایل 2025 میں انہوں نے آر سی بی کو چیمپئن بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا، 15 میچوں میں 261 رنز بنائے (اوسط 37.28، اسٹرائیک ریٹ 176.35)۔ ان کا لوئر آرڈر میں تیز بلے بازی کرنا انہیں سیمسن پر سبقت دلا سکتا ہے۔
گل کی واپسی سیمسن کے لیے خطرہ تو ہے، لیکن ٹیم مینجمنٹ کی ایک اور سوچ بھی ہے: گل کو آل فارمیٹ کپتان کے طور پر تیار کیا جائے۔






