کشتواڑ ضلع کے چاشوتی گاؤں میں۱۴؍اگست کو آئے تباہ کن بادل پھٹنے کے بعد شروع ہوا ریسکیو آپریشن آج ساتویں روز بھی جاری ہے ۔ اب تک اس قدرتی آفت میں۶۷؍افراد کی موت ہو چکی ہے جبکہ۵۰سے زائد ہنوز لاپتہ ہیں۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ریسکیو ٹیموں نے لاشوں اور ممکنہ زندہ بچ جانے والوں کی تلاش تیز کر دی ہے ۔ مقامی حکام کے مطابق بادل پھٹنے کے مقام کے گرد و نواح سے مسلسل لاشیں برآمد ہو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تلاش اور بازیابی کا عمل جاری ہے ۔
افسران نے بتایا کہ متاثرہ علاقے کی مشکل اور کھڑی زمینی ساخت کو مدنظر رکھتے ہوئے ریسکیو اہلکاروں نے خصوصی آل ٹیرین گاڑیاں تعینات کی ہیں، تاکہ ان مقامات تک پہنچا جا سکے جو عام آلات سے ممکن نہیں۔ اسی کے ساتھ اسنفر ڈاگز اور مشینری کے ذریعے ملبے کی کھوج جاری ہے ، خصوصاً اس مقام پر جہاں لنگر کیمپس تباہ ہوئے تھے ۔
یہ آفت اس وقت پیش آئی جب چاشوتی علاقہ سالانہ ماچیل ماتا یاترا کے راستے پر سرگرمی کا مرکز تھا۔ بادل پھٹنے اور اچانک آئے سیلاب نے نہ صرف درجنوں جانیں لے لیں بلکہ یاترا میں بھی تعطل پیدا کیا اور مقامی بنیادی ڈھانچے اور مکانات کو شدید نقصان پہنچایا۔
ادھر مقامی اور مرکزی ایجنسیاں مل کر ریسکیو، ریلیف اور بازآبادکاری کے کاموں کو مربوط انداز میں انجام دے رہی ہیں۔ حکام کے مطابق ٹیمیں لاپتہ افراد کی تلاش کے ساتھ ساتھ متاثرہ علاقے میں بنیادی سہولیات کی بحالی کے لیے بھی کوشاں ہیں۔
اس دوران، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کشتواڑ کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ۷۰سے زائد لاپتہ افراد کے زندہ ملنے کے امکانات اب نہ ہونے کے برابر ہیں۔’’ ہماری اولین ترجیح زیادہ سے زیادہ لاشوں کو برآمد کرنا ہے تاکہ لواحقین آخری رسومات ادا کر سکیں۔ ساتھ ہی حکومت متاثرین کی بازآبادکاری اور ان کے لیے مکمل سہارا فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے







