نئی دہلی، 12 اگست (یو این آئی) مارکیٹ اسٹڈی اور کریڈٹ ریٹنگ کمپنی کریسل نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ہندوستان پر لگائے گئے اضافی درآمداتی محصولات کا سب سے زیادہ نقصان ہیرے ، قالین، جھینگا اور گھروں کے لیے ٹیکسٹائل برآمد کرنے والے شعبوں کو ہوگا۔
کریسل نے منگل کو جاری کردہ اپنی رپورٹ میں بتایا کہ یکم اگست سے 25 فیصد اضافی درآمداتی محصولات اور 27 اگست سے نافذ ہونے والے محصولات کے بعدہندوستان سے امریکہ کو برآمد کی جانے والی اشیاء کافی مہنگی ہو جائیں گی۔ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبوں میں ہیرے تراشنے کی صنعت، جھینگا، چادریں اور پردے ، قالین وغیرہ کے برآمد کنندگان شامل ہیں۔ ان کے علاوہ تیار ملبوسات، کیمیکلز، زرعی کیمیکلز، سرمایہ جاتی اشیائاور شمسی پینل کی تیاری پر بھی اس کا برا اثر پڑے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کس شعبے پر کتنا اثر پڑے گا یہ اس بات پر مبنی ہے کہ اس کی امریکہ کو برآمدات کا حجم کتنا ہے اور وہ اضافی محصولات کا کتنا بوجھ گاہکوں پر ڈال سکتا ہے ۔ اس میں کہا گیا ہے کہ مختلف ممالک پر ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے لگائے گئے محصولات سے عالمی تجارت کا ڈھانچہ مکمل طور پر بدل جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال میں بھارت کی کل برآمدات کا تقریباً 20 فیصد امریکہ کو کیا گیا۔ ہیرے تراشنے کی صنعت کی آمدنی کا 25 فیصد، جھینگا برآمد کرنے والی کمپنیوں کی آمدنی کا 48 فیصد، چادروں اور پردوں کی آمدنی کا 60 فیصد اور قالینوں کی آمدنی کا 50 فیصد امریکہ کو کی گئی برآمدات سے حاصل ہوا۔
کریسل نے کہا ہے کہ آنے والے وقت میں دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے پر نظر رکھنی ہوگی۔ ساتھ ہی اگر حکومت متاثرہ شعبوں کی مدد کے لیے آگے آتی ہے تو درآمداتی محصولات کے اثرات کسی حد تک کم ہو سکتے ہیں









