سرینگر//
جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے اکھال جنگلاتی علاقے میں زائد از ایک ہفتے سے جاری جھڑپ کے دوران ۲فوجی جوان جاں بحق جبکہ۲زخمی ہوئے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ اکھال جنگلاتی علاقے میں سیکورٹی فورسز اور دہشت گرودں کے درمیان گذشتہ رات شدید گولیوں کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں چار فوجی جوان زخمی ہوگئے جن میں سے دو زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ گئے ۔
ایک سینئر سیکورٹی عہدیدار نے بتایا’’زخمی جوانوں کو علاج و معالجے کیلئے سری نگر کے۹۲بیس فوجی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں دو جوان زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ گئے ‘‘۔
فوج کی چنار کور نے ہفتے کی صبح ’ایکس‘پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا’’چنار کور قوم کے لئے خدمت کے دوران عظیم قربانی پیش کرنے والے دو بہار جوانوں لانس نائیک پرتپال سنگھ اور کانسٹبل ہرمندر سنگھ کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے ‘‘۔
کور نے کہا کہ ان کا حوصلہ ہمیں ہمیشہ متاثر کرتا رہے گا۔
پوسٹ میں مزید کہا گیا’’فوج سوگوار کنبے کے ساتھ تعزیت پیش کرتی ہے اور مصیبت کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے ‘‘۔ان کا کہنا ہے کہ علاقے میں آپریشن ہنوز جاری ہے ۔
گھنے جنگلات میں محصور دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کے لیے فوج نے ہیلی کاپٹروں کی بھی خدمات حاصل کر لی ہیں، جبکہ علاقے کو مکمل طور پر سیل کرکے تمام ممکنہ فرار کے راستے بند کر دیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، دہشت گردوں کی موجودگی کی ٹھوس اطلاع ملنے کے بعد آپریشن میں مزید اضافی دستے بھیجے گئے ہیں تاکہ کارروائی کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے ۔ جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب جنگل میں رات بھر گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا اور وقفے وقفے سے زوردار دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دیتی رہیں۔
باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگلی علاقے میں اب بھی متعدد ملی ٹینٹ محصور ہیں اور فوج انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ آپریشن کو محتاط انداز میں آگے بڑھا رہی ہے تاکہ جانی نقصان سے بچتے ہوئے ہدف حاصل کیا جا سکے ۔
دفاعی حکام نے تصدیق کی ہے کہ سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے گرد گھیرا مزید تنگ کر دیا ہے اور ان کا خاتمہ قریب ہے ۔ حکام نے مزید بتایا کہ فی الحال ایک وسیع و عریض جنگلی علاقے کو محاصرے میں لیا گیا ہے اور کسی بھی شہری کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے ۔
اطلاعات کے مطابق، علاقے میں جاری یہ آپریشن حالیہ برسوں کے سب سے طویل انسدادِ دہشت گردی آپریشنز میں شمار ہو رہا ہے ، اور اس کی کامیابی سے نہ صرف کولگام بلکہ پورے جنوبی کشمیر میں دہشت گرد نیٹ ورک کو بڑا دھچکا لگنے کی امید ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ یہ انکاؤنٹر یکم اگست کو اس وقت شروع ہوا تھا جب سیکیورٹی فورسز کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ اکھال کے جنگلاتی علاقے میں کئی دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں۔ اطلاع کے بعد علاقے کا محاصرے میں لے کر وسیع پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کر دیا گیا تھا اور اس دوران وہاں چھپے دہشت گردوں نے فائرنگ کی تھی۔
حکام کے مطابق اس تصادم آرائی میں دو دہشت گرد مارے گئے ہیں جن میں سے ایک مقامی بتایا جاتا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ دشوار گذار ہے جس کی وجہ سے آپریشن طول پکڑ رہا ہے ۔یہ گذشتہ دہائیوں کا سب سے طویل آپریشن مانا جاتا ہے ۔
ادھر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کولگام میں جاری انسدادِ دہشت گردی آپریشن کے دوران شہید ہونے والے فوجی اہلکار لانس نائک پرتپال سنگھ اور سپاہی ہرمنندر سنگھ کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا۔
اپنے پیغام میں ایل جی سنہا نے کہا’’‘میں لانس نائک پرتپال سنگھ اور سپاہی ہرمنندر سنگھ کی مادرِ وطن کے لیے دی گئی عظیم قربانی کو سلام پیش کرتا ہوں۔ ان کی بہادری، حوصلہ اور عزم کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ اس غم کی گھڑی میں میری دعائیں اور ہمدردیاں سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں‘‘۔
کولگام میں دہشت گردوں کے خلاف یہ آپریشن بدستور جاری ہے ، جس میں سکیورٹی فورسز نے اب تک نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
اس دوران جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج سری نگر میں ایک پروقار تقریب کے دوران وطن کی خاطر جان نچھاور کرنے والے فوجی اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا ۔
یہ تقریب ان بہادر سپاہیوں کی یاد میں منعقد کی گئی جنہوں نے ملک کی خودمختاری اور سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان جانباز سپاہیوں کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور ان کی بہادری نسلوں کو وطن سے محبت کا درس دیتی رہے گی۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت، مسلح افواج اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہمیشہ کھڑی رہے گی اور ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
تقریب میں سول و فوجی افسران، عوامی نمائندوں اور شہید اہلکاروں کے اہلِ خانہ نے بھی شرکت کی۔










