سرینگر//
دہشت گردی کے مالیاتی نیٹ ورک کے خلاف جموں کشمیر پولیس کی انسدادِ انٹیلی جنس یونٹ(سی آئی کے ) نے ایک بڑی کارروائی انجام دیتے ہوئے دہلی کے مصروف ترین علاقے لاجپت نگر میں قائم ایک تجارتی یونٹ ’شالیمار ٹیکسٹائلز‘پر چھاپہ مار کر دو افراد کو گرفتار کیا ہے ۔
کشمیری کی سراغ رساں ایجنسی(سی آئی کے ) کے مطابق یہ چھاپہ پولیس اسٹیشن سی آئی کے سرینگر میں درج ایف آئی آر نمبر۲۰۲۴/۰۲کے تحت کیا گیا، جس کی بنیاد پر یو اے پی اے کی دفعات۱۳‘۳۸‘۳۹‘۴۰کے ساتھ ساتھ تعزیراتِ ہند کی دفعہ ۱۲۰ بی کے تحت قانونی کارروائی جاری ہے ۔ چھاپے کیلئے سری نگر میں این آئی اے ایکٹ کے تحت نامزد خصوصی جج سے باقاعدہ سرچ وارنٹ حاصل کئے گئے تھے ۔
سی آئی کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ ایک منظم بین الاقوامی سازش سے جڑا ہوا ہے ، جس کے تحت پاکستان میں موجود لشکر طیبہ کے کمانڈر اور ہینڈلرز، خلیجی ممالک اور دیگر غیر ملکی ٹھکانوں پر مقیم پاکستانی باشندوں کے ساتھ مل کر، کشمیر میں تخریب کاری کیلئے فنڈز منتقل کر رہے تھے ۔ یہ رقومات زائرین، کاروباریوں اور تارکین وطن کے روپ میں آئے ہوئے کرنسی اسمگلروں کے ذریعے وادی میں داخل کی جا رہی تھیں۔
تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ بڈگام کے رہائشی محمد ایوب بٹ، جو لاجپت پت نگر میں ‘شالیمار ٹیکسٹائلز’ کے نام سے ایک تجارتی ادارہ چلا رہے تھے ، اصل میں لشکر طیبہ کے مالیاتی معاون تھے ۔ ان کے ساتھ ساتھ ایس ڈی اے کالونی بمنہ سری نگر کے رہائشی محمد رفیق شاہ کو بھی گرفتار کیا گیا ہے ، جو اس پورے نیٹ ورک میں کلیدی کردار ادا کر رہا تھا۔
چھاپوں کے دوران متعدد الیکٹرانک آلات، مشتبہ دستاویزات، خفیہ پیغامات، غیر قانونی حوالہ ترسیلات اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد ہینڈلرز کے ساتھ رابطے کی شواہد برآمد ہوئے ہیں، جنہیں فرانزک تجزیے کیلئے بھیجا گیا ہے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ مواد دہشت گردی کے ایک وسیع نیٹ ورک کو بے نقاب کر سکتا ہے ۔
دہلی پولیس کے اشتراک سے سی آئی کے نے شالیمار ٹیکسٹائلز کی کئی جگہوں پر چھان بین کی اور تفتیش کے دوران ابتدائی طور پر یہ پتہ چلا ہے کہ فنڈنگ کا یہ نیٹ ورک نہ صرف سری نگر بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی سرگرم تھا۔ گرفتار شدگان سے تفتیش کے دوران مزید اوور گراؤنڈ ورکروں اور غیر ملکی ہینڈلرز کے نام بھی سامنے آ رہے ہیں۔
جموں و کشمیر پولیس نے اس کارروائی کو دہشت گردی کی مالی کمر توڑنے کے حوالے سے ایک سنگ میل قرار دیا ہے ۔ پولیس کے مطابق اب دہشت گردوں کے خلاف صرف ہتھیار تھامنے والوں کو ہی نہیں، بلکہ پیسہ فراہم کرنے والوں، ہمدردوں اور سہولت کاروں کے خلاف بھی بھرپور مہم چلائی جا رہی ہے ۔
حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی صرف گولی چلانے والوں تک محدود نہیں، بلکہ وہ ہاتھ بھی برابر کے مجرم ہیں جو ان کو مالی تعاون فراہم کرتے ہیں۔
سی آئی کے کی یہ کارروائی ملک بھر میں اس طرح کے مالیاتی نیٹ ورکس کے خلاف ممکنہ طور پر مزید چھاپوں کی راہ ہموار کر سکتی ہے ۔









