ہفتہ, جولائی 18, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

چنار بک فیسٹیول:ادبی و ثقافتی پروگراموں کا انعقاد‘لوگ بڑی تعداد میں شریک

’ اردو زبان پر دیگر زبانوں کے علاوہ کشمیری زبان کے اثرات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں‘

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-08-07
in اہم ترین
A A
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

’تیل بحران کے باوجود بھارت کی ترقی نہیں رکی ‘

۲۰جولائی کے سیکریٹریٹ گھیراؤ مارچ کی تیاریوں کا جائزہ

سرینگر / نئی دہلی//
نیشنل بک ٹرسٹ، انڈیا اور قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام نو روزہ چنار بک فیسٹیول میں۲۰۰سے زائد کتب فروش اورناشرین شرکت کر رہے ہیں اور شائقین کتب کثیر تعداد میں اس فیسٹیول کے تئیں غیر معمولی دلچسپی کا مظاہرہ کررہے ہیں اور کتابیں خرید رہے ہیں۔
این سی پی یو ایل کی جاری کردہ ریلیز کے مطابق فیسٹیول میں روزانہ مختلف النوع ادبی و ثقافتی پروگراموں کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ آج بھی قومی اردو کونسل اور شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی کے اشتراک سے دو اہم ادبی مذاکرے’ثقافتی مکالمہ:اردو تراجم کی روشنی میں‘اور’لسانی روابط:اردو پر سنسکرت، فارسی اور کشمیری کے اثرات‘کے عنوان سے آتھر کارنر میں منعقد ہوئے جبکہ ایک اور مذاکرہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور خسرو فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام‘اردو اور فارسی ادب میں صنفی مساوات کی وکالت’کے عنوان سے منعقد ہوا۔
’ثقافتی مکالمہ:اردو تراجم کی روشنی میں‘میں اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر محمد زماں آزردہ(سابق صدر شعبہ اردو وڈین اسکول آف آرٹس، لینگویجز و لٹریچر،کشمیر یونیور سٹی) نے ترجمے کی اہمیت اور اس کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ترجمے میں بنیادی طور پر دو زبانیں شامل ہوتی ہیں اور ہرزبان اپنے ساتھ ایک مخصوص ثقافت،اسلوب اور طرز فکر لے کر آتی ہے ،اس لیے کسی بھی ترجمے کے دوران صرف لفظی ترجمہ کافی نہیں بلکہ اس لفظ کے پس منظر کو سمجھنا اور جاننا ضروری ہوتا ہے جس سے یہ لفظ وجود میں آیاہے ،تبھی ترجمہ بہتر اور اچھا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہاکہ علمی نثر کا ترجمہ ادبی نثر کے مقابلے میں آسان ہوتاہے اس لیے کہ علمی نثر میں عام طور پر تکنیکی اصطلاحات کا چیلنج درپیش ہوتاہے مگر ادبی ترجمہ ایک پیچیدہ عمل ہے کہ اس میں صرف ایک زبان سے دوسری زبان میں مواد کو ہی منتقل نہیں کیا جاتا بلکہ ایک زبان کی تہذیب و ثقافت بھی دوسری زبان میں منتقل کی جاتی ہے ۔
پروفیسرڈاکٹر شاد رمضان(سابق صدر شعبہ کشمیری،کشمیر یونیور سٹی)نے کہا کہ ہر زبان کا ایک محاوراتی نظام ہوتاہے ، اگر مترجم اس سے واقف نہ ہو تو وہ کبھی بھی موثر اور بامعنی ترجمہ نہیں کرسکتا۔انھوں نے مزید کہاکہ کشمیر میں ترجمے کی روایت بہت پرانی ہے ،کشمیر ی زبان میں لکھی گئی کتابوں اور تحریروں کا ترجمہ دوسری زبانوں میں صدیوں سے ہوتا آرہاہے ، یہ تراجم نہ صرف علم و ادب کے تبادلے کا ذریعہ بنے بلکہ انھوں نے مختلف زبانوں اور تہذیبوں کے درمیان پل کا کام بھی کیاہے ۔
پروفیسر شمس کمال انجم(ڈین وصدر،اسکول آف اسلامک اسٹڈیز،بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی) نے گفتگوکرتے ہوئے عربی زبان سے اردو میں جو تراجم ہوئے ہیں ان پر تفصیلی روشنی ڈالی اورکہاکہ امرؤ القیس اور متنبی وغیرہ کا ترجمہ اردو زبان کے ساتھ ساتھ دنیا کی مختلف زبانوں میں ہوا ہے جس کی وجہ سے عربی زبان کی خوب صورتی اور اس کے ادب سے دنیا بھر کے لوگ واقف ہوئے ۔انھوں نے مزید کہاکہ اگر ترجمے کا عمل نہ ہوتا اور مترجم نہ ہوتے تو ہم بہت سی علمی،فکری اور ادبی چیزوں سے ناواقف رہ جاتے ۔ اس مذاکرے کی نظامت ڈاکٹر محمد الطاف آہنگر (ڈائریکٹوریٹ آف ڈسٹینس ایجوکیشن،کشمیر یونیورسٹی) نے کی۔
دوسرا مذاکرہ ‘لسانی روابط:اردو پر سنسکرت،فارسی اور کشمیری کے اثرات’کے عنوان سے منعقد ہوا،جس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر نذیر احمد ملک(سابق صدر شعبہ اردو وڈین اسکول آف آرٹس،لینگویجز و لٹریچر،کشمیر یونیورسٹی)نے کہاکہ جب کسی علاقے یا خطے میں دو یا دوسے زائد زبانیں ایک دوسرے کے ربط میں آتی ہیں تو ان کے الفاظ، اسلوب وغیرہ میں لازمی طورپر تبدیلیاں ہوتی ہیں۔انھوں نے مزید کہاکہ اردو زبان پر بہت سی زبانوں کے اثرات ہیں لیکن سنسکرت اور فارسی کے اثرات زیادہ ہیں۔
پروفیسر اعجاز محمد شیخ (ماہر لسانیات و صدر شعبہ اردو وڈین اسکول آف آرٹس،لینگویجز و لٹریچر،کشمیر یونیور سٹی) نے کہا کہ اردو زبان پر دیگر زبانوں کے علاوہ کشمیری زبان کے اثرات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں،کشمیری زبان کے مخصوص الفاظ اور لہجے وغیرہ اردو کی بول چال اور ادب میں شامل ہوچکے ہیں اس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ کشمیر کے لوگ اردو بولتے ،لکھتے ،پڑھتے ہیں اور یہاں کے اخباروں کی زبان بھی اردو ہی ہے ۔
ڈاکٹر جہانگیر اقبال (صدر شعبہ فارسی،کشمیر یونیور سٹی) نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ اردو برصغیر کی صرف ایک زبان نہیں بلکہ ایک تہذیب و ثقافت ہے اور کشمیرمیں اردو کا مستقبل روشن اور درخشندہ ہے اس لیے کہ تقریبا ہرگھر میں بچے کشمیری کے بجائے اردو بولتے ہیں۔ اس پروگرام کی نظامت ڈاکٹر صائمہ جان نے کی۔
تیسرا مذاکرہ بعنوان ‘اردو اور فارسی ادب میں صنفی مساوات کی وکالت’ تھا۔اس مذاکرے میں ڈاکٹر سید مبین زہرا (ایسوسی ایٹ پروفیسر،دہلی یونیورسٹی) اور معروف ادبیہ و شاعرہ نسرین حمزہ علی نے موضوع سے متعلق اہم گفتگو کی اور کہاکہ اردو اور فارسی ادب میں خواتین کے مسائل، حقوق اور مساوات کے حوالے سے اچھا خاصا مواد موجود ہے ۔
اس ضمن میں عصمت چغتائی، قرۃ العین حیدر وغیرہ نے کھل کر اپنی بات رکھی ہے اور مساوات، صنفی تفریق اور سماجی رویوں پر کھل کر لکھاہے ۔ اس مذاکرے کی نظامت جناب نذیر گنائی نے کی۔
مذاکرے کے آخر میں نسرین حمزہ کی کتاب ’راکھ میں دبی چنگاری‘اور طہ نسیم کی کتاب ’ترنگا آنچل‘کا اجرا بھی عمل میں آیا۔ ڈاکٹر حفیظ الرحمن (کنوینرخسرو فاؤنڈیشن) نے شکریے کی رسم ادا کی۔ان پروگراموں میں طلبہ،اساتذہ اور اردو زبان و ادب سے محبت رکھنے والوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
ShareTweetSendShareSend
Previous Post

نئی دہلی میں لشکر کے مالیاتی نیٹ ورک کا پردہ فاش

Next Post

 علیحدگی پسند بیانیے کو فروغ دینے والی ۲۵کتابیں ضبط :حکومت

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

’تیل بحران کے باوجود بھارت کی ترقی نہیں رکی ‘
اہم ترین

’تیل بحران کے باوجود بھارت کی ترقی نہیں رکی ‘

2026-07-18
۲۰جولائی کے سیکریٹریٹ گھیراؤ مارچ کی تیاریوں کا جائزہ
اہم ترین

۲۰جولائی کے سیکریٹریٹ گھیراؤ مارچ کی تیاریوں کا جائزہ

2026-07-18
’یاترا کے پہلے ۱۵ دنوں میں ۳ء۵لاکھ یاتریوں نے درشن کئے‘
اہم ترین

’یاترا کے پہلے ۱۵ دنوں میں ۳ء۵لاکھ یاتریوں نے درشن کئے‘

2026-07-18
 ریاستی درجے کی بحالی‘۲۰جولائی کےاحتجاج میں کانگریس شامل ہوگی:قرہ
اہم ترین

 ریاستی درجے کی بحالی‘۲۰جولائی کےاحتجاج میں کانگریس شامل ہوگی:قرہ

2026-07-18
آزادیٔ صحافت غیر ذمہ دارانہ صحافت کی ڈھال نہیں بن سکتی: دہلی ہائی کورٹ
اہم ترین

آزادیٔ صحافت غیر ذمہ دارانہ صحافت کی ڈھال نہیں بن سکتی: دہلی ہائی کورٹ

2026-07-18
فوج نے اوڑی سیکٹر میں در اندازی کی کوشش ناکام بنایا
اہم ترین

بھدرواہ میں فائرنگ کے  واقعے میں ایک شخص ہلاک  ایس او جی کے تین اہلکار زخمی

2026-07-18
سول انتظامیہ میں بڑے پیمانے پر تبادلے اور تقرریاں ‘ ۱۰۸ جے کے اے ایس افسران تبدیل
اہم ترین

 محکمۂ اطلاعات میں تبادلے‘۱۶ افسران  کے تقرر و تبادلوں کے احکامات جاری

2026-07-18
مرکز بھرپائی کرے تو دو   منٹ میں شرب پر  پابندی لگ سکتی ہے :فاروق
اہم ترین

ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر مبینہ قاتلانہ حملے کے ملزم کی ضمانت مسترد

2026-07-18
Next Post
سوشل میڈیا پر سرکارکی تنقید

 علیحدگی پسند بیانیے کو فروغ دینے والی ۲۵کتابیں ضبط :حکومت

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.