نئی دہلی//
جموں کشمیر کے سابق اور آخری گورنر ‘ستیہ پال ملک کا طویل علالت کے بعد منگل کو یہاں رام منوہر لوہیا ہسپتال میں ۷۹ سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔
سوشل میڈیا پر دی گئی اطلاعات کے مطابق انہیں انفیکشن کی شکایت کے بعد ۱۱مئی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ گردے کی تکلیف کے باعث ان کا ہسپتال میں ڈائیلاسز کیا جا رہا تھا۔
وزیر اعظم نریندر مودی اور دیگر سینئر رہنماؤں نے ان کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔ مودی نے سوشل میڈیا پر لکھا’’مسٹر ستیہ پال ملک جی کی موت سے مجھے دکھ ہوا ہے ۔ غم کی اس گھڑی میں میری تعزیت ان کے اہل خانہ اور حامیوں کے ساتھ ہے ۔ اوم شانتی‘‘۔
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ لوگ انہیں ہمیشہ ایک ایسے شخص کے طور پر یاد رکھیں گے جو آخری دم تک بغیر کسی خوف کے سچ بولتے رہے اور عوام کے مفادات کی بات کرتے رہے ۔
راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے نے اپنے پیغام میں کہا کہ انہوں نے بے خوفی اور دلیری سے حکومت کو سچائی کا آئینہ دکھایا۔
بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو نے غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے محنت اور ایمانداری کے ساتھ کسانوں کے مفادات کے لیے مسلسل کام کیا۔ آپ پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال نے ان کے انتقال پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی سیاست نے ایک ایسی شخصیت کھو دی ہے جس میں اقتدار کے سامنے بھی سچ بولنے کا حوصلہ تھا۔
ساری زندگی کسانوں کے حقوق کے لیے لڑنے والے ستیہ پال ملک کی زندگی ایک سادہ گھرانے کے لڑکے کی کہانی ہے جو ملک کی پانچ ریاستوں کے گورنر کے عہدے تک پہنچتا ہے ۔
وہ ۱۹۴۶میں باغپت، اتر پردیش کی تحصیل کھیکڑا کے گاؤں ہساواڈا میں ایک جاٹ خاندان میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے میرٹھ یونیورسٹی سے بیچلر آف سائنس اور ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔
ملک نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز ۶۹۔۱۹۶۸میں طلبہ یونین کے صدر کے طور پر کیا۔ بطور سیاست دان ان کی پہلی بڑی مدت۷۷۔۱۹۷۴کے دوران باغپت، اتر پردیش سے قانون ساز اسمبلی کے رکن کے طور پر تھی۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم چودھری چرن سنگھ کی بھارتیہ کرانتی دل کے رکن کے طور پر الیکشن لڑا اور۴ء۴۲ فیصد ووٹ حاصل کر کے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ بعد میں جب لوک دل بنی تو وہ جنرل سکریٹری کے طور پر اس میں شامل ہو گئے ۔
ان کا سیاسی سفر کئی جماعتوں میں جاری رہا۔ ابتدائی مرحلے میں وہ لوہیا کے سوشلسٹ نظریے سے متاثر ہوئے اور چودھری چرن سنگھ کے ساتھ چلے گئے ۔ بعد ازاں ۱۹۸۴میں وہ کانگریس میں شامل ہوئے لیکن ان کا دل اس پارٹی میں نہیں تھا۔ جب وی پی سنگھ نے۱۹۸۷میں کانگریس کے خلاف بغاوت کا جھنڈا اٹھایا تو وہ بھی مسٹر سنگھ کی جن مورچہ پارٹی میں شامل ہو گئے ۔
مرحوم نے۱۹۸۰سے۱۹۸۶اور۸۹۔۱۹۸۶ تک راجیہ سبھا میں اتر پردیش کی نمائندگی کی۔ وہ ۱۹۸۹سے۱۹۹۱تک جنتا دل کے رکن کے طور پر علی گڑھ سے نویں لوک سبھا کے رکن رہے ۔
سال۲۰۰۴میں انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور اس کے بعد۰۶۔۲۰۰۵میں انہیں بی جے پی کی اتر پردیش یونٹ کا نائب صدر مقرر کیا گیا۔۲۰۰۹میں انہیں بی جے پی کے کسان مورچہ کا آل انڈیا سربراہ مقرر کیا گیا۔ ملک کو بی جے پی میں سب سے بڑا موقع ۲۰۱۲میں ملا جب انہیں قومی نائب صدر کے طور پر خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔
۲۰۱۴میں، ملک کو ایک بار پھر بی جے پی میں قومی نائب صدر کے طور پر مقرر کیا گیا تھا۔ انہوں نے کسانوں کو بی جے پی کے حق میں لانے کے لیے کئی ریلیاں نکالیں۔
وہ اکتوبر ۲۰۱۷سے اگست۲۰۱۸تک بہار کے گورنر رہے ۔مارچ۲۰۱۸میں انہیں تین ماہ کے لیے اڈیشہ کے گورنر کا اضافی چارج بھی دیا گیا۔۲۰۱۸میں انہیں جموں کشمیر کا گورنر مقرر کیا گیا۔ ملک نے اگست ۲۰۱۸سے اکتوبر ۲۰۱۹تک سابقہ جموں کشمیر ریاست کے ۱۰ویں اور آخری گورنر کے طور پر خدمات انجام دیں اور یہ ان کے دور میں ہی تھا کہ ۵؍اگست ۲۰۱۹کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔ بعد میں، وہ گوا کے ۱۸ویں گورنر بنے ۔ انہوں نے اکتوبر ۲۰۲۲تک میگھالیہ کے۲۱ویں گورنر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔










