نئی دہلی// سپریم کورٹ نے منگل کو مختلف میڈیکل کورسز میں داخلے کے لیے منعقدہ قومی اہلیت کم داخلہ ٹیسٹ (این ای ای ٹی-یو جی) 2025 کے امیدوار کی درخواست پر ایک ہفتے کے اندر دوبارہ جانچ کرنے کی ہدایت دی۔
جسٹس بی وی ناگارتھنا اور جسٹس کے وی وشواناتھن کی بنچ نے رابن سنگھ کی رٹ پٹیشن پر متعلقہ فریقوں کے دلائل سننے کے بعد اس سلسلے میں یہ حکم دیا۔
عدالت عظمیٰ 12 اگست کو اس درخواست کی سماعت کرے گی، جو اپنے آپ میں ‘نایاب سے نایاب’ سوالات اٹھاتی ہے ۔
درخواست گزار نے سوالیہ پرچہ کے سیریل نمبر اور او ایم آر شیٹ میں بے ضابطگیوں کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ اس کی وجہ سے اس کی رینکنگ گر گئی ہے ۔
متعلقہ فریقوں کے دلائل کو تفصیل سے سننے کے بعد بنچ نے کہاکہ "عمل اہم ہے ، وہ (درخواست گزار) عمل کے لیے آیا ہے ، اسے سیٹ (داخلہ) نہیں ملے گا، لیکن کم از کم وہ مطمئن ہوں گے کہ سپریم کورٹ نے اس پہلو پر غور کیا ہے ۔”
ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ارچنا پاٹھک ڈیو نے بنچ کے سامنے دلیل دی کہ یہ مسئلہ سوالیہ پرچہ کتابچہ کو صحیح طریقے سے اسٹاپ نہ کرنے کی وجہ سے پیش آیا ہے ۔ یہ ایک نایاب ترین کیس ہے اور اس طرح کے معاملات عام طور پر نہیں ہوتے ہیں۔
اس پر بنچ نے کہا کہ یہ ایک سنگین غلطی ہو سکتی ہے ، لیکن پھر بھی انہوں نے مشورہ دیا کہ امیدوار کے اطمینان کے لیے سوالیہ پرچہ دستی طور پر چیک کیا جا سکتا ہے ۔
بنچ کی سربراہی کر رہے جسٹس ناگارتھنا نے کہاکہ "چاہے یہ نایاب میں سے نایاب ہو یا نہ ہو، کسی شخص کو انصاف ضرور ملنا چاہیے ۔”
درخواست گزار کا دعویٰ ہے کہ اسے ایک سوالیہ کتابچہ دیا گیا تھا جس میں سوال نمبر ایک سے لے کر 180 تک کے سوالیہ پرچے ترتیب وار نہیں تھے ۔ یہ سوالات نمبر 1 سے 27، پھر 54 سے 81، پھر 28 سے 53، پھر 118 سے 151، 82 سے 117 اور پھر 152 سے 152 تک تھے ۔
درخواست میں انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ چونکہ مذکورہ سوالیہ پرچہ کے ساتھ منسلک او ایم آر شیٹ 1 سے 180 تک چڑھتے ہوئے ترتیب میں ہے ، اس وجہ سے سوالیہ پرچہ اور او ایم آر کا مماثل نہیں ہوسکا۔ اس نے متعلقہ نگرانوں سے سوالیہ پرچے کی ایک اور کاپی مانگی تھی، لیکن انہیں دینے سے انکار کر دیا گیا۔
غور طلب ہے کہ میڈیکل کورسز میں داخلے کے لیے کونسلنگ کا عمل جاری ہے ۔










