(ندائے مشرق خبر)
سرینگر
جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتے کے روز مصنفین سے اپیل کی کہ وہ تاریخ کو ازسرنو لکھنے پر غور کریں تاکہ وہ حقائق درست کیے جا سکیں جو ماضی میں مسخ کیے گئے تھے۔
وہ سری نگر میں نیشنل بْک ٹرسٹ آف انڈیا کے زیرِ اہتمام منعقدہ ’چنار بْک فیسٹیول‘ سے خطاب کر رہے تھے۔
ایل جی سنہا نے کہا کہ نئی نسل کو ہندوستان کی عظیم تہذیبی وراثت سے روشناس کروانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
ان کاکہنا تھا’’نئی نسل کو یہ جاننا چاہیے کہ ہماری تہذیب معاشی طور پر خوشحال تھی اور دنیا بھر میں ادب، سائنس اور روحانیت کا مرکز تھی۔ قدیم ہندوستان دنیا کی تمدنی اور ثقافتی قیادت کرتا تھا۔ ہم نے دنیا کو سائنس، ریاضی، طب جیسے بے شمار علم عطا کیے، اور ہمیں اپنی اس تہذیبی، ادبی، سائنسی اور روحانی وراثت پر فخر ہونا چاہیے‘‘۔
سنہا نے مزید کہا کہ’’ہمارے علم اور سائنس کی جڑیں ہمیشہ سے مضبوط رہی ہیں۔ اب وقت ہے کہ ہم نوآبادیاتی ذہنیت سے آزادی حاصل کریں۔ نئی نسل کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ ہماری وراثت عالمی سطح پر نمایاں رہی ہے، اور جو سائنسی علم ہم نے انسانیت کو دیا، وہ لازوال ہے‘‘۔
ایل جی سنہا نے ہندوستانی قدیم علم کے نظام کو دوبارہ زندہ کرنے اور اسے مرکزی دھارے کی تعلیم کا حصہ بنانے پر زور دیا۔انہوں نے نیشنل بْک ٹرسٹ سے اپیل کی کہ وہ نیلامت پوران، راج ترنگنی، اور کتھاسری تساگرہ جیسے کلاسیکی متون کو مختلف بھارتی زبانوں میں شائع اور ترجمہ کرے۔
سنہا کاکہنا تھا’’ان قدیم کتابوں کے علاقائی زبانوں میں ایڈیشنز کو بین الاقوامی کتاب میلوں میں نمایاں طور پر پیش کیا جائے تاکہ دنیا کو جموں و کشمیر کی انفرادی ادبی میراث سے روشناس کرایا جا سکے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ کشمیری، پہاڑی، گوجری، ڈوگری، اردو اور پنجابی زبانوں کے مشہور ادب کو کتاب میلوں میں بھرپور انداز میں فروغ دیا جائے اور ان کا ترجمہ دیگر زبانوں میں کیا جائے تاکہ زیادہ وسیع قارئین تک رسائی ممکن ہو سکے۔
ایل جی کے مطابق’’کتابیں دنیا کی کھڑکی کھولتی ہیں۔ یہ ہمیں نئے خیالات، مختلف زاویہ ہائے نظر فراہم کرتی ہیں اور تنقیدی سوچ کو فروغ دیتی ہیں۔ چنار بْک فیسٹیول نئی نسل کو ہماری قیمتی ادبی وراثت سے جوڑے گا اور انہیں اپنے آباؤ اجداد کے علم و حکمت کو سنبھالنے اور فروغ دینے کی تحریک دے گا‘‘۔
ایل جی سنہا نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان علمی، ثقافتی اور سائنسی احیاء کے دور سے گزر رہا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ ملک کی روحانی، سماجی اور جذباتی یکجہتی کو مضبوط کرنے میں مصنفین اور دانشوروں کا کردار کلیدی ہے۔
تقریب میں ’شاردا سَرَنی‘ شاردا رسم الخط کی پہلی قومی نمائش ‘ کا افتتاح بھی کیا گیا۔ساتھ ہی ’جموں و کشمیر اور لداخ … صدیوں کا سفر‘ نامی کتاب کے کشمیری ترجمے کی رونمائی بھی کی گئی۔
اس موقع پر ’راشٹریہ ای پستکالیہ امرت کال کہانی نویسی مقابلے‘ کے فاتحین کے ناموں کا بھی اعلان کیا گیا۔










