ایل جی کی آرمی وار کالج مہو میں ہائر کمانڈ کورس میں شرکت کرنے والے افسران کے ساتھ بات چیت
مشرق خبر/ ڈی پی آئی آر)
سرینگر//
لیفٹیننٹ گورنر‘منوج سنہا نے کہا ہے کہ ہر ایک کو جموں کشمیر میں دہشت گرد اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا عہد کرنا چاہیے ۔
سنہا نے کہا کہ حالیہ برسوں میں دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام کو ختم کرنے کیلئے حکومت نے کئی کلیدی اقدامات اٹھائے ہیں ۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جمعہ کو راج بھون میں آرمی وار کالج کے افسران اور اساتذہ سے خطاب کیا اور عصری جیو پولیٹیکل اور جیو اسٹریٹجک امور کے علاوہ انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی اور دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام کو ختم کرنے کے لیے مکمل حکومت کے نقطہ نظر پر تبادلہ خیال کیا۔
ایل جی کاکہنا تھا’’میں تمام شہریوں کو محفوظ رکھنے اور ملک کے اتحاد ، سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے تینوں افواج کے شاندار افسران کو مبارکباد اور شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہمیں ہر دہشت گرد اور دہشت گرد تنظیم کو ختم کرنے کا عہد کرنا چاہیے جو ہماری حفاظت ، سلامتی اور خوشحالی کے لیے خطرہ ہے‘‘۔
سنہا نے جامع ترقی ، امن اور خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے گزشتہ چند سالوں میں جموں و کشمیر کے مرکز کے زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ اور سیکورٹی آلات کی طرف سے کی گئی کلیدی اصلاحات اور اقدامات کا بھی اشتراک کیا۔
لیفٹیننٹ جنرل ہرجیت سنگھ سہی ، کمانڈنٹ ، آرمی وار کالج ، فیکلٹی ممبران اور سیکورٹی فورسز کے سینئر افسران موجود تھے۔
اس ودران ایک رسالے کو انٹرویو میںسنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر میں مقامی نوجوانوں کی دہشت گرد تنظیموں میں شمولیت میں زبردست کمی آئی ہے اور جہاں پہلے ہر سال۱۰۰ سے۱۵۰ نوجوان تنظیموں میں شامل ہوتے تھے، اب رواں سال صرف ایک ہی بھرتی ہوئی ہے، جبکہ پاکستانی کلینڈر کی جگہ اب تعلیمی کلینڈر جاری کیے جا رہے ہیں۔
سنہا نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جبکہ بھارت دنیا کی چوتھی بڑی معیشت ہے اور ترقی یافتہ ملک بننے کی سمت گامزن ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ’’گزشتہ سال دہشت گردی کی صفوں میں چھ سے سات مقامی بھرتیاں ہوئیں لیکن اس سال صرف ایک۔ پہلے ہر سال ۱۰۰ سے ۱۵۰ مقامی بھرتیاں ہوتی تھیں۔ یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ لوگ اب امن اور ترقی پر اعتماد کرنے لگے ہیں‘‘۔ انہوں نے اسے ایک تاریخی تبدیلی قرار دیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ہمسایہ ملک (اشارہ پاکستان کی جانب) اب بھی دراندازی کر رہا ہے، لیکن سکیورٹی فورسز چوکنا ہیں اور دہشت گردوں کے خلاف کئی کامیاب آپریشن کیے گئے ہیں، جبکہ کئی ابھی جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں کے درمیان بہترین ہم آہنگی ہے۔
سنہا نے کہا کہ اب پاکستانی کلینڈر پر ہڑتالوں کا اطلاق نہیں ہوتا بلکہ صرف تعلیمی کلینڈر جاری ہوتے ہیں۔ ’’شری امرناتھ جی یاترا کامیابی سے جاری ہے۔ نوجوانوں کو روزگار مل رہا ہے اور وہ ترقی یافتہ بھارت کے خواب کا حصہ بن رہے ہیں۔ معیشت دوگنی ہو چکی ہے‘‘۔
ایل جی کی حیثیت سے پانچ سال مکمل ہونے پر سنہا نے کہا کہ پچھلے پانچ چھ سالوں میں جموں کشمیر میں زبردست تبدیلی آئی ہے۔ بے مثال ترقی، شفافیت، احتساب اور معیشت کی دوگنی رفتار دیکھنے کو ملی ہے۔ جموں و کشمیر بینک، جو ۱۱۳۹ کروڑ روپے کے نقصان میں تھا، اب ۱۷۰۰ کروڑ روپے کے منافع میں ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ’’جموں سے سرینگر تک کا فاصلہ جو پہلے ۵ء۸ گھنٹے تھا، اب۵ء۴ گھنٹے رہ گیا ہے۔۵ء۱ لاکھ کروڑ روپے کے ہائی وے اور ٹنل منصوبے جاری ہیں۔ صحت و تعلیم کے شعبے میں آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم، این آئی ایف ٹی، ایمس اور میڈیکل کالجز جیسے ادارے قائم کیے گئے ہیں۔
ریاستی درجہ کی بحالی پر بات کرتے ہوئے سنہا نے کہا کہ حکومت نے پارلیمنٹ میں وعدہ کیا تھا کہ حلقہ بندی اور اسمبلی انتخابات کے بعد ریاستی درجہ بحال کیا جائے گا۔
سنہا نے کہا ’’یہ یقین دہانی پارلیمنٹ میں دی گئی تھی اور اسے پورا کیا جائے گا۔ تاہم، الفاظ تھے کہ مناسب وقت پر۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی گزشتہ سال سری نگر میں یہ یقین دہانی دہرائی تھی، اور ہمیں مناسب وقت کا انتظار کرنا ہوگا‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کرتا ہے اور اسے پرواہ نہیں کہ اس کے شہریوں کے پاس بنیادی سہولیات ہیں یا وہ غیر ملکی قرضوں پر زندہ ہیں۔ تاہم، بھارت چوتھی بڑی عالمی معیشت ہے اور ترقی یافتہ ملک بننے کی جانب بڑھ رہا ہے۔
جب ان سے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے اس بیان کے بارے میں سوال کیا گیا کہ ان کا عہدہ ریاست کے وزیر اعلیٰ سے گھٹ کر یونین ٹیریٹری کے وزیر اعلیٰ تک آ گیا ہے، تو سنہا نے کہا کہ جب عمر نے اسمبلی انتخابات میں حصہ لیا تو انہیں علم تھا کہ یہ ایک یو ٹی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ’’عمر نے اپنی مرضی سے انتخابات میں حصہ لیا اور کامیاب ہوئے۔ یہ ظاہر تھا کہ جب وہ وزیر اعلیٰ بنیں گے تو وہ ایک یو ٹی کے سی ایم ہوں گے‘‘۔
تاہم، سنہا نے کہا کہ ان کے عمر عبداللہ کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہیں اور وہ کانفرنسوں اور دیگر مواقع پر ان سے ملاقات کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں کے اختیارات جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن ایکٹ کے تحت واضح طور پر متعین ہیں۔
سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی کے ان الزامات پر کہ حکومت نے مخصوص کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ملازمین کو نشانہ بنا کر ملازمت سے نکالا، لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ کارروائی آرٹیکل ۳۱۱ کے تحت کی گئی ہے اور اس میں کسی بھی مذہب یا برادری کی بنیاد پر تفریق نہیں کی گئی۔
سنہا نے کہا ’’اکثر نکالے گئے ملازمین کا ماضی یا موجودہ دہشت گردی سے تعلق رہا ہے۔ کئی جیل میں ہیں۔ کسی بے گناہ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنرنے جموں کشمیر میں اختلاف رائے کو دبانے کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتیں آزادانہ طور پر اپنا کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے پچھلے سال اسمبلی انتخابات میں بھرپور حصہ لیا۔’’ رات دیر تک مہم جاری رہی۔ ایم ایل ایز بھی اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ جموں و کشمیر میں جمہوریت پوری طرح زندہ ہے۔‘‘










