کشمیر کی آبگاہوں کے بارے میں جب بھی کوئی خبر آتی ہے تو وہ زیادہ تر حوصلہ افزا نہیں بلکہ حوصلہ شکن ہی ہو تی ہے ۔ پھر چاہے ڈل جھیل کی بحالی کی بات ہو یا پھر وادی کی دوسری آب گاہیں ۔ لیکن حالیہ دنوں میں جھیل ولر کے بارے میں جو کچھ بھی کہا جا رہاہے وہ ایک خوش کن اور خوصلہ افزا بات ہے کہ کیسے مختلف سطحوں پر کی گئیں کوششوں کے بعد یہ جھیل اگر مکمل بحالی نہ سہی لیکن بحالی کے راستے پر چل پڑی ہے ۔
یہ جھیل نہ صرف برصغیر کی سب سے بڑی تازہ پانی کی جھیل ہے بلکہ کشمیر کے ماحولیاتی، اقتصادی اور ثقافتی توازن میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔
آج جب دنیا ماحولیاتی آلودگی، پانی کی قلت اور قدرتی وسائل کی تباہی جیسے مسائل سے دوچار ہے، وْلر جھیل کی موجودگی ایک نعمت سے کم نہیں۔ دریائے جہلم سے جْڑی ہوئی یہ جھیل سیلاب کو روکنے میں قدرتی بند کا کام دیتی ہے۔ یہ جھیل صرف پانی کا ذخیرہ نہیں بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی نظام ہے، جہاں ہزاروں اقسام کے آبی پرندے، مچھلیاں اور نباتات آباد ہیں۔
مگر افسوس کہ حالیہ دہائیوں میں وْلر جھیل کو نظر انداز کیا گیا۔ غیر قانونی قبضے، آلودگی، بے ہنگم تجاوزات اور ماحولیاتی عدم توازن نے اس قدرتی خزانے کو سکڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔
وْلر جھیل نہ صرف ماحولیاتی بلکہ سیاحتی اور ثقافتی حوالے سے بھی بے پناہ اہمیت کی حامل ہے۔ اگر اس کے حسن کو برقرار رکھا جائے تو یہ نہ صرف سیاحوں کو کشش فراہم کرے گی بلکہ ریاست کی آمدنی کا بھی اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔
گزشتہ برسوں میں زرعی طریقوں اور بڑھتی ہوئی آبادی نے جھیل میں غذائی آلودگی اور دھول مٹی کے اخراج کو بڑھا دیا، جس سے نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاشیم کی مقدار غیر معمولی حد تک بڑھ گئی۔ کنول چونکہ گہرے پانی کا پودا ہے، یہ صرف کم فاسفورس والے پانی میں ہی کھل سکتا ہے۔ جھیل کی تہہ میں جب بڑی مقدار میں دھول مٹی د جمع ہو گئی، تو اس نے نہ صرف سیلابی پانی کے جذب ہونے کی گنجائش کو متاثر کیا بلکہ کنول کے پودے بھی ختم ہو گئے۔ مقامی لوگوں کاکہنا ہے کہ اس وقت جو کنول کھل رہے ہیں وہ۲۰۱۴ کے سیلاب کے بعد جاری ڈی سلٹیشن (دھول مٹی کو نکالنے) کی محنت کا نتیجہ ہیں۔ان کاکہنا ہے کہ یہ جھیل ہمارے گناہوں کے باعث تین دہائیوں تک بنجر ہو چکی تھی۔ لیکن اب مقامی کسانوں کے لیے یہ خوشحالی اور زیادہ آمدنی کی نوید لے کر آیا ہے۔
کبھی ایشیا کی سب سے بڑی تازہ پانی کی جھیلوں میں شمار ہونے والی وولر، اب ماحولیاتی زوال کی دردناک کہانی سناتی ہے۔ جموں کشمیر محکمہ جنگلی حیات کے مطابق، ۱۹۱۱ میں اس جھیل کا رقبہ ۸ء۲۱۷ مربع کلومیٹر تھا جس میں ۵۸مربع کلومیٹر دلدلی علاقے بھی شامل تھے۔ تاہم ۲۰۰۷ تک یہ گھٹ کر صرف ۷۱ء۸۶ مربع کلومیٹر رہ گیا۔ ایک سرکاری سروے کے مطابق، اس کی بنیادی وجہ زرعی زمین میں تبدیلی تھی، جس سے جھیل کا رقبہ ۲۸ فیصد اور آبی حیات ۱۷ فیصد تک کم ہو گئی۔
۱۹۹۲ میں، دریائے جہلم میں تباہ کن سیلاب آیا جس نے وولر جھیل کے نازک ماحولیاتی نظام کو بری طرح متاثر کیا، اور کنول کے پھول کھلنے بند ہو گئے۔
آج جھیل کے گرد ۳۱ دیہات آباد ہیں، جہاں تقریباً ۱۲ ہزار گھرانے رہتے ہیں۔ وولر جھیل کئی دیومالائی اور تاریخی داستانوں سے بھی جڑی ہوئی ہے، جن میں دیوی دیوتاؤں اور راجاؤں کے قصے سنائے جاتے ہیں۔
آج مقامی آبادی کنول کے پھولوں کی واپسی پر نہایت مسرور ہے۔ کنول کے پھول جھیل کی ماحولیاتی صحت کا پیمانہ سمجھے جاتے ہیں۔
۱۹۹۲ کے تباہ کن سیلاب کے بعد، جھیل میں بے پناہ دھول مٹی جمع ہو گئی تھی، جس نے نہ صرف کنول کے پودوں کو دبایا بلکہ پانی کی قدرتی روانی کو بھی بگاڑ دیا۔ اس نے فوری ماحولیاتی بحران پیدا کیا اور ساتھ ہی ساتھ طویل المدتی زوال کا آغاز بھی کیا۔
وولر جھیل کی بحالی ایک خوشگوار حیرت کے طور پر سامنے آئی۔ بحالی کے عمل میں سب سے اہم قدم جھیل سے سالوں سے جمع اس دھول مٹی کو نکالنا تھا۔ دھیرے دھیرے اس کا اثر دکھائی دینے لگا، اور گزشتہ سال دہائیوں بعد کنول کے پودے دوبارہ نمودار ہونے لگے۔
اس قدرتی بحالی کو دیکھ کر حکام نے اس کام کو مزید آگے بڑھایا۔
وولر کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے حکام کاکہنا ہے کہ اس سال صورتحال بہتر ہے اور وہ امید رکھتے ہیں کہ جھیل کے نباتاتی نظام کی مکمل بحالی ممکن ہو گی۔بحالی کی کوششوں کے تحت اٹھارتی نے اب تک جھیل سے تقریباً ۷۹ لاکھ مکعب میٹر دھول مٹی نکال دی ہے، جو اس کے ماحولیاتی نظام کی بحالی کے لیے نہایت اہم قدم تھا۔ حکام کے مطابق، اگلے مرحلے میں اہم ندی نالوں کے ساتھ ریٹنشن بیسن تعمیر کیے جائیں گے تاکہ مزید دھول مٹی اور کچرا جھیل میں داخل نہ ہو، اور اب تک کی گئی محنت کو محفوظ رکھا جا سکے۔
حالیہ بجٹ اجلاس کے دوران حکومت نے اسمبلی میں کہا کہ وہ وولر جھیل کی حقیقی شان کی بحالی کیلئے پرعزم ہے‘لیکن بحالی صرف حکومتی اقدامات سے ہی ممکن نہیں ہے ۔ اس میں مقامی لوگوں کے تعاون اور حمایت درکار ہے ۔ امید کی جانی چاہئے کہ ولر اور اس کے آس پاس کے علاقوں کے لوگ‘ جن کا روز گار بھی اس جھیل سے وابستہ ہے ‘ کی سمجھ میں یہ بات آگئی ہوگی کہ جھیل ان کیلئے کیا معنی رکھتی ہے اوراگر یہ جھیل زندہ ہے تو ان کا روز گار بھی سلامت ہے ۔اگر یہ بات مقامی لوگوں کی سمجھ میں آجاتی ہے تو وہ اس جھیل کے سب سے بڑے محافظ بن جائیں گے ۔اس کے لئے ایک حفاظتی ڈھال بھی ۔
۔




