رکزی وزیر مملکت برائے دفاع سنجے سیٹھ نے ہفتہ کے روز کرگل وجے دیوس کی۶۲ویں سالگرہ کے موقع پر بھارتی فوجیوں کی بہادری کو خراج عقیدت پیش کیا۔
سیٹھ نے مرکزی وزیر منسکھ مانڈویا کے ساتھ کرگل ضلع کے دراس میں ایک پدیاترا (پیدل مارچ) میں شرکت کی، تاکہ ۹۹۹۱ کی جنگ کے دوران ملک کے لیے جان قربان کرنے والے بہادر سپاہیوں کی قربانیوں کو یاد کیا جا سکے۔
وفاقی وزرا، مقامی افراد اور طلباءکے ہمراہ اس تاریخی مقام پر منعقدہ تقریب میں شریک ہوئے، جہاں ۹۹۹۱ میں پاکستانی افواج نے قبضہ کر لیا تھا اور بھارتی فوج نے آپریشن بائسن کے تحت دوبارہ قبضہ حاصل کیا۔
مرکزی وزیر مملکت برائے دفاع نے کہا”پورا ملک اس بے وقوفی کو یاد کرتا ہے جو پاکستان نے ۶ مئی۹۹۹۱ کو کی تھی۔ اور پورا ملک ان بہادر سپاہیوں کو یاد کرتا ہے جنہوں نے بھرپور جواب دیا۔ چاہے وہ سرجیکل اسٹرائیک ہو، ایئر اسٹرائیک یا آپریشن سندور، بھارتی فوج کسی بھی دوسری فوج سے کم نہیں ہے“۔
سیٹھ نے مزید کہا”میں ان سپاہیوں کو بھی سلام پیش کرتا ہوں جو سرحدوں پر سینکڑوں کلومیٹر دور، ترنگے کی حفاظت کر رہے ہیں اور ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔ آج کرگل وجے کو ۶۲ سال مکمل ہو چکے ہیں اور میں ہر ا ±س شخص کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں جس نے اپنا سب کچھ نچھاور کر دیا“۔
وزیر مملکت برائے دفاع نے یہ بھی کہا کہ پوری دنیا اس بات سے حیران ہے کہ بھارت نے پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد کس طرح مقامی طور پر تیار کردہ ہتھیاروں سے منٹوں میں پاکستان کے ارادوں کو خاک میں ملا دیا۔
سیٹھ نے کہا”آپریشن سندور کے دوران بھارت نے پاکستان کے دہشت گرد ٹھکانوں پر اپنے دیسی ہتھیاروں سے حملہ کیا، اور یہی وجہ ہے کہ دنیا حیران ہے کہ بھارتی افواج نے چند منٹوں میں پاکستان کی سازشوں کو نیست و نابود کر دیا“۔
وزیر مملکت دفاع نے بھارت کی دفاعی صنعت کی خود انحصاری پر بھی روشنی ڈالی، اور حکومت کے ا ±س ہدف کو دہرایا کہ۹۲۰۲ تک تین لاکھ کروڑ روپے کے دفاعی سازوسامان برآمد کیے جائیں گے۔
سیٹھ نے کہا”بھارت اب درآمد کرنے والا ملک نہیں رہا، آج ہم تقریباً ۲۹ ممالک کو دفاعی ہتھیار برآمد کر رہے ہیں۔ یاد ہے وہ دن؟ ہماری برآمدات اب تک۰۳ہزار۲۲۶ کروڑ روپے رہی ہیں، اور ہمارا ہدف ہے کہ اسے ۰۵ہزار کروڑ اور ۹۲۰۲ تک ۳ لاکھ کروڑ تک لے جایا جائے۔ وزیر اعظم مودی کا وڑن ہے بھارت کو ’آتم نربھر‘ (خود انحصار) بنانا، اور وزیر دفاع بھارتی فوج کو مسلسل حوصلہ دے رہے ہیں۔ ہم اب ۵۷ فیصد آتم نربھر ہو چکے ہیں“۔
یاد رہے، کرگل جنگ مئی۹۹۹۱ میں ا ±س وقت شروع ہوئی تھی جب پاکستانی دراندازوں نے لائن آف کنٹرول عبور کر کے بھارتی چوکیوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ ان کا مقصد ا ±س وقت سرینگر کو لہہ سے ملانے والی اہم شاہراہ ’نیشنل ہائی وے ون اے‘ پر قبضہ کرنا تھا۔ جب بھارتی افواج کو ان کی موجودگی کا علم ہوا تو’آپریشن وجے‘ کا آغاز کیا گیا۔
یہ آپریشن بھارتی فوج کی شاندار حکمت عملی، فولادی عزم اور ناقابل تسخیر جذبے کی علامت بن گیا۔ سخت پہاڑی علاقوں میں دو ماہ تک جاری رہنے والی اس جنگ کے بعد بھارتی فوج نے ایک ایک انچ دوبارہ حاصل کیا۔
کرگل وجے دیوس ا ±ن سپاہیوں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا دن ہے جنہوں نے برف سے ڈھکی چوٹیوں پر دشمن کی گولیوں کے سامنے ڈٹ کر لڑائی لڑی۔ ۶۲ جولائی کو، ایک بار پھر بھارتی پرچم لداخ کی پہاڑیوں پر فخر سے لہرا رہا تھا۔










