تو صاحب وزیر… لو جی ابھی ہم نے وزیر کا نام بھی نہیں لیا اور آپ میڈم جی… سکینہ میڈم جی کا سوچنے لگے … ارے صاحب ! ممکن ہے کہ یہ عمرعبداللہ کی کابینہ کی واحد وزیر ہیں جو اِدھر اُدھر کرتی دکھائی دے رہی ہیں… صرف دکھائی دے رہی ہیں‘ لیکن اپنے مودی جی کے پاس ڈھیر سارے ایسے وزیر ہیں جو اِدھر اُدھر کرنے کے علاوہ کام بھی کرتے ہیں … جیسے اپنے منسکھ منڈاویہ…ان جناب نے ایک بات کہی ‘زبر دست بات ‘ایسی بات جو میڈم سکینہ جی کبھی نہیں کہہ سکتی ہیں اور… اور اگر کبھی وہ کہنی کی کوشش کریں گی تو … تو ہم انہیں کہیں گے…یہ منہ اور مسور کی دال …خیر!لوٹ آتے ہیں منڈاویہ کی طرف جنہوں نے دراس میں ایک بات کہی … یہ بات کہ فاتح ہونا ہماری فطرت میں ہے ‘ کامیاب ہو نا ہماری عادت ہے… مرکزی وزیر نے یہ اعلان کرگل میں ۱۹۹۹ میں ہوئی جنگ میں فتح کے ۲۶ سال مکمل ہو نے پر کہی اور… اور جو بات انہوں نے کہی سچ کہی … سچ کے سوا کچھ نہیں کہی… اور ان کی اس بات پر ہم بھی ایک بات کہنا چاہتے ہیں… سچی بات کہنا چاہتے ہیں اور… اور وہ سچی بات یہ ہے کہ… کہ ان کی اس بات کو انہیں سمجھنا چاہئے ‘ جنہیں منڈاویہ سمجھنانے کی کوشش کررہے ہیں… لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ یہ بات نہیں سمجھ رہے ہیں ‘ سمجھنے کیلئے تیار نہیں ہیں اور… اور اسی لئے بار بار انہیں منہ کی کھانی پڑتی ہے… اگر ایک بار ان کی سمجھ میں یہ بات آجاتی… یہ بات کہ فتح پانا بھارت کی فطرت میں ہے‘ اس کی عادت ہے تو… تو وہ کبھی اپنا سر دیوار سے نہیں ٹکرا تے … بار بار نہیں ٹکرا تے ‘ لیکن کیا کیجئے گا کہ وہ نا سمجھ ہیںیا پھر سمجھنا نہیں چاہتے ہیں اور… اور بار بار الجھتے ہیں اور… اور ایسے الجھتے ہیں کہ پھر وہ الجھن میں پڑ جاتے ہیں کہ … کہ اب کریں تو کیا کریں … کیا کریں؟ کرنا کیا ہوتا گھٹنوں پر آنا ہوتا ہے اور… اور وہ گھٹنوں پر آجا تے ہیں… بار بار آجاتے ہیں… ۱۹۴۷ میں… ۱۹۶۵ میں … ۱۹۷۱ میں… ۱۹۹۹ میں اور… اور ۲۰۲۵ میں بھی … اس لئے گھٹنوں پر آجاتے ہیں کہ اگر فتح پانا ہماری فطرت میں ہے‘ بھارت کی فطرت میں ہے… شکست کھانا ان کی فطرت میں ہے‘ یہ ان کی عادت ہے ۔ ہے نا؟

