نئی دہلی//بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی ترجمان اور راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر سدھانشو ترویدی نے چھتیس گڑھ کے سابق وزیر اعلی بھوپیش بگھیل کے خلاف لگائے گئے بدعنوانی کے الزامات کا دفاع کرنے پر ‘گاندھی خاندان’ کی کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ اس بدعنوانی کے معاملے میں ‘گاندھی خاندان’ کا کیا مفاد پوشیدہ ہے ۔
ہفتہ کو یہاں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر دویدی نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں گاندھی خاندان کا مفاد ملک کے سامنے آنا چاہئے ۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس کی کئی حکومتیں براہ راست بدعنوانی میں ملوث رہی ہیں اور چھتیس گڑھ میں اس وقت کی بھوپیش بگھیل حکومت میں جو بدعنوانی ہوئی تھی وہ اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔
بی جے پی کے ترجمان نے کہا، ‘‘کانگریس کے ‘‘پہلے خاندان’’ کی طرف سے بھوپیش بگھیل کا دفاع کیے جانے سے یہ شک پیداہوتا ہے کہ کیا یہ صرف بھوپیش بگھیل اور ان کے خاندان سے متعلق معاملہ تھا، یا پھر اس معاملے کے تار دہلی تک بھی جڑے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ کرناٹک اور تلنگانہ سمیت کئی کانگریس حکومتوں پر بدعنوانی کے الزامات لگے ہیں، لیکن گاندھی خاندان جس طرح چھتیس گڑھ کی سابقہ کانگریس حکومت کا دفاع کر رہا ہے ، تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے منی لانڈرنگ کیس میں رابرٹ واڈرا کا دفاع کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہنوئی کے دفاع میں بولنا تو خاندانی معاملہ ہے ، لیکن یہ تو سیاسی معاملہ ہے ، اس لیے بھارتیہ جنتا پارٹی یہ جاننا چاہتی ہے کہ چھتیس گڑھ کے اس بدعنوانی کیس میں گاندھی خاندان کا کیا مفاد چھپا ہوا ہے ۔
چھتیس گڑھ میں بدعنوانی کے اس معاملے کو انتہائی سنگین بتاتے ہوئے بی جے پی کے ترجمان نے کہا کہ تحقیقاتی ایجنسیاں اس معاملے میں قانونی کارروائی کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال نے 2023 میں چھتیس گڑھ اسمبلی انتخابات کے دوران انڈیا الائنس کے ممبر ہوتے ہوئے بھوپیش بگھیل کو ملک کا سب سے بدعنوان وزیر اعلیٰ کہا تھا۔
بی جے پی کے ترجمان نے کہا کہ اس وقت کانگریس نے مسٹر کیجریوال پر حملہ نہیں کیا لیکن بھوپیش بگھیل کے دفاع میں کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کی طرف سے کئے گئے ٹویٹس اپنے آپ میں کئی سوال اٹھاتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ محترمہ واڈرا نے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی حکومت چھتیس گڑھ کے جنگلات وزیر اعظم نریندر مودی کے قریبی صنعت کار گوتم اڈانی کے حوالے کر رہی ہے اور ریاست کے سابق وزیر اعلی بھوپیش بگھیل اس کی سخت مخالفت کر رہے ہیں، اس لیے ان کے خاندان کو اس کی سزا دی جا رہی ہے ۔










