تو صاحب ایک خبر …اڑتی اڑتی ایک خبر اُس پار سے آئی ہے‘ہمسایہ ملک سے آئی ہے اور… اور اس اڑتی ہوئی خبر کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ‘ جنرل آصم منیر ملک کے نئے صدر ہو سکتے ہیں … نہیں صاحب !آپ بات کو سمجھیں نہیں … ایسا نہیںہے کہ پاکستان کے صدر‘آصف علی زرداری کی معیاد مکمل ہو رہی ہے… اور ان کی سبکدوشی کے بعد پاکستانی فوج کے سربراہ ان کی کرسی پر بیٹھیں گے… اور ایوان صدر کے نئے مکین ہو ں گے… نہیں صاحب اگر ایسا ہو تا تو… تو یہ ہماری لئے کوئی خبر بھی نہیں ہوتی کہ… کہ اُس پار کون صدر بنتا ہے اور کون وزیر اعظم ہمیں اس میں کوئی دلچسپی ہے… لیکن صاحب اس اڑتی خبر میں ہمیں دلچسپی ہے اور… اور اس لئے ہے کیونکہ ایسا پاکستان میں ہی ممکن ہے… کہیں اور نہیں… کہ اگر پاکستان میں یہ سب نہیںہو گا تو پھر کہاں ہوگا… اگر ہمسایہ ملک میں یہ نہیںہو گا تو … تو یقین کیجئے پھر کہیں اور نہیں ہو گا…بالکل بھی نہیں ہو گا … اور اس لئے نہیںہو گا کیونکہ کہتے ہیں نا کہ ملک کے پاس فوج ہوتی ہے… لیکن اُس پار فوج کے پاس ملک ہے اور… اور وہ اس ملک کے ساتھ جو کرنا چاہے کر سکتی ہے… اگر جنرل آصم منیر کا فیلڈ مارشل بننے سے پیٹ نہیں بھرا ہو گا تو… تو پھر وہ صدر بن کر بھی دیکھ لیں… ممکن ہے کہ اس کے بعد ان کا پیٹ بھر جائے اور… اور اگر اس سے بھی گزارا نہ ہوا تو شہباز شریف کی کرشی پر بیٹھ جائیں… اگر وہاں سے بھی انہیں کوئی کمی محسوس ہو ئی تو… تو ملک میں مارشل لاء نافذ کریں … پھر جنرل بھی یہیں‘ فیلڈ مارشل بھی ‘ صدر بھی اور وزیر اعظم بھی یہیں… ویسے بھی ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی ہے کہ جنرل آصم منیر خود کو اتنی تکلیف کیوں دینا چاہتے ہیں کہ… کہ اس ملک کے صدر اور وزیر اعظم دونوں اس حقیقت … پاکستان کی حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ ان کے اختیارات کس کے پاس ہیں… کون اُس ملک کا اصلی وزیر اعظم ہے’ صدر ہے… باس ہے۔ پھر بھی اگر آصم منیر وردی اتار کر کالے رنگ کی شیروانی پہننے کیلئے اتنے ہی بضد ہیں تو… تو وہ یہ شوق بھی پورا کر لیں… کہ بے چارے زرداری سب پر بھاری تو ہو سکتے ہیں… لیکن وردی پر نہیں… بالکل بھی نہیں۔ ہے نا؟



