لندن// دنیا کے نمبر ایک آل راؤنڈر ہندوستان کے رویندر جڈیجہ انگلینڈ میں 1000 رنز مکمل کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
جڈیجہ نے انگلینڈ کے خلاف لارڈز میں کھیلے گئے تیسرے ٹیسٹ میں ہندوستان کی دوسری اننگ میں ناقابل شکست 61 رنز بنائے لیکن ہندوستان یہ میچ 22 رنز سے ہار گیا۔ جڈیجہ کی یہ مسلسل چوتھی نصف سنچری تھی۔ انہوں نے برمنگھم اور لارڈز دونوں میں جڑواں نصف سنچریاں بنائیں۔ ان سے پہلے صرف دو ہندوستانی بلے باز ہیں جنہوں نے انگلینڈ میں لگاتار چار 50+ اسکور بنائے ہیں – سورو گنگولی (2002) اور رشبھ پنت (2022 اور 2025)۔ لارڈز میں آخری دن ان کا ناقابل شکست 61 رنز ٹیسٹ کی چوتھی اننگ میں ان کا پہلا 50+ اسکور تھا۔
جڈیجہ نے انگلینڈ میں ٹیسٹ میں چھٹے نمبر یا اس سے نیچے بیٹنگ کرتے ہوئے 942 رنز بنائے ہیں۔ اس فہرست میں مہمان بلے بازوں میں صرف گیری سوبرز (1097) نے ان سے زیادہ رنز بنائے ہیں۔ انگلینڈ میں ان کے نام ایک سنچری اور سات نصف سنچریاں ہیں، گیری سوبرز (9) کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں۔
ہندوستان نے پیر کو ساتواں وکٹ گرنے کے بعد جتنی گیندیں (301) کھیلیں۔ یہ ٹیسٹ کی چوتھی اننگ میں آخری تین شراکت میں کھیلی جانے والی سب سے زیادہ گیندیں ہیں۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ 294 گیندوں کا تھا جو انگلینڈ نے 2015 میں دبئی میں پاکستان کے خلاف بنایا تھا (نوٹ: گیندوں کا ڈیٹا 1998 سے دستیاب ہے)۔
جڈیجہ اور جسپریت بمراہ نے 22 اوورز کی شراکت داری کی۔ یہ گزشتہ دس سالوں میں ہندوستان کے لیے 9ویں یا 10ویں وکٹ کے لیے سب سے طویل شراکت ہے۔
انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس کو لارڈز میں ٹیسٹ میں چار مرتبہ پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔ یہ اس گراؤنڈ پر کسی بھی کھلاڑی کے لیے سب سے زیادہ ہے۔ وہ اس سے قبل 2015 (نیوزی لینڈ)، 2017 (ویسٹ انڈیز) اور 2019 (آسٹریلیا) میں یہ اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔
مجموعی طور پر، انہوں نے ٹیسٹ میں 11 پلیئر آف دی میچ ایوارڈز جیتے ہیں، جو انگلینڈ کے لیے تیسرے سب سے زیادہ ہیں۔ ان کے آگے جو روٹ (13) اور ایان بوتھم (12) کا نام آتا ہے۔
لارڈز کے اس ٹیسٹ میں انگلینڈ اور ہندوستان کے کھلاڑیوں میں 15 بلے باز بولڈ ہوئے، یہ 1965 سے کھیلے گئے 2000 سے زائد میچوں میں سب سے زیادہ ہے۔ آخری بار ٹیسٹ میں 1965 میں جارج ٹاؤن میں ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے گئے ٹیسٹ میں 15 یا اس سے زیادہ کھلاڑیوں بولڈ ہوئے تھے۔
لارڈز میں ہندوستان کی شکست کا رن سے فرق صرف 22کا تھا، جو ٹیسٹ میں ہندوستان کی چوتھی سب سے چھوٹی شکست ہے۔ سب سے کم فرق سے شکست 1999 میں پاکستان کے خلاف چنئی (12 رنز) میں ملی تھی۔ 1977 میں آسٹریلیا سے برسبین میں اور 1987 میں پاکستان سے بنگلور میں ہندوستان کو 16 رنز سے شکست ہوئی تھی۔
یہ لارڈز میں ٹیسٹ میں رن سے جیت کا اب تک کا سب سے چھوٹا فرق بھی رہا۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ آسٹریلیا کے نام تھا جس نے 2023 میں انگلینڈ کو 43 رنز سے شکست دی تھی۔
لارڈز میں کھیلے گئے تیسرے ٹیسٹ میں ہندوستان انگلینڈ کے خلاف 193 رنز کا تعاقب کرنے میں ناکام رہا۔ یہ چوتھا سب سے چھوٹا ہدف ہے جسے ہندوستان مردوں کے ٹیسٹ میں چوتھی اننگ میں تعاقب کرتے ہوئے ہارگیا۔
ہندوستان 2015 کے بعد سے پانچ بار 200 سے کم کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے ٹیسٹ ہار چکا ہے، جب کہ اس دوران دیگر تمام ٹیموں نے مجموعی طورپر پانچ بار ایسا کیا ہے۔ اس میں سے تین بار پاکستان کو ہار ملی۔
لارڈز میں چوتھی اننگز میں 200 سے کم کے اسکور کا تعاقب کرتے ہوئے ٹیسٹ ہارنے والے ہندوستان صرف چوتھی ٹیم ہے۔
یہ انگلینڈ کی طرف سے پچھلے 25 برسوں میں مردوں کے ٹیسٹ میں دفاع کیا گیا دوسرا سب سے چھوٹا ہدف ہے۔ اس سے چھوٹا ٹارگٹ انگلینڈ نے 2019 میں آئرلینڈ کے خلاف (181 رنز) لارڈز میں ہی دفاع کیا تھا۔







