ممبئی، 14 ستمبر (یو این آئی) ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) نے کہا ہے کہ ہندوستانی خاتون ٹیم کا محسن نقوی سے ایشیا کپ ٹرافی نہ لینے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر اور ادارہ جاتی سطح پر کیا گیا تھا، کیونکہ موجودہ حالات میں پریزنٹیشن تقریب میں شامل ہونا مناسب نہیں سمجھا گیا۔ بی سی سی آئی نے یہ بھی کہا کہ اس فیصلے کی اطلاع پہلے ہی ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کو دے دی گئی تھی۔
دبئی میں ٹرافی کے بارے میں ہوئے تعطل کے چند گھنٹوں بعد پیر کو کرک بز کو جاری ایک بیان میں بی سی سی آئی کے سکریٹری دیوجیت سیکیا نے کہا کہ "ہم نے تمام موجودہ پہلوؤں پر غور کرتے ہوئے سوچ سمجھ کر فیصلہ لیا تھا اور اے سی سی کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ہندوستانی ٹیم ان حالات میں ٹرافی پریزنٹیشن میں حصہ نہیں لے گی۔”
سیکیا نے اپنے بیان میں نہ تو نقوی کا نام لیا اور نہ ہی پاکستان کا ذکر کیا، لیکن یہ واضح کر دیا کہ ملک میں پہلگام دہشت گردانہ حملے کے زخم ابھی بھرے نہیں ہیں۔ ہندوستان نے مئی 2025 میں ’آپریشن سندور‘ کے ذریعے پاکستان کو جواب دیا تھا اور تب سے ہندوستانی ٹیمیں کھیل کے میدان پر پاکستان کے ساتھ کھیل تو رہی ہیں، لیکن عام طور پر ہونے والی خیرسگالی کی رسمی کارروائیاں نہیں کر رہی ہیں۔
حالات یہ ہیں کہ ہندوستانی کھلاڑیوں نے اپنے پاکستانی ہم منصبوں سے ہاتھ ملانا بند کر دیا ہے اور نقوی سے ٹرافی لینے سے بھی صاف انکار کر دیا ہے، جو پاکستان کرکٹ بورڈ اور اے سی سی کے سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان حکومت میں وزیر بھی ہیں۔
سیکیا نے کہا، "موجودہ حالات اور ملک کے جذبات کو دیکھتے ہوئے، بی سی سی آئی کو لگا کہ ٹیم کے لیے مجوزہ طریقے سے ٹرافی لینا مناسب نہیں ہوگا۔ یہ ایک مضبوط ادارہ جاتی فیصلہ تھا، جو ہمارے موقف کی عکاسی کرتا ہے، اور اس کا مقصد کھلاڑیوں، ٹورنامنٹ یا کھیل کی توہین کرنا نہیں تھا۔”
بی سی سی آئی سکریٹری نے کہا کہ ہندوستان اپنی بین الاقوامی کھیلوں کی ذمہ داریاں پوری کرے گا، لیکن کئی ممالک کے درمیان ہونے والے مقابلوں میں حصہ لینا اور ٹرافی لینا دو الگ الگ باتیں ہیں۔ "ایشیا کپ میں ہماری شرکت ایشین کرکٹ کونسل کے رکن کی حیثیت سے اپنی کھیل سے متعلق ذمہ داریوں کو پورا کرنے اور موجودہ پالیسی پر عمل کرنے کے لیے تھی۔ کھیل کے جذبے یا بین الاقوامی کرکٹ کے تئیں ہماری وابستگی سے سمجھوتہ کرنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ تاہم، کسی کثیر ملکی ٹورنامنٹ میں حصہ لینا اور ٹرافی لینے کا طریقہ، یہ دو الگ الگ باتیں ہیں۔”
ایشیا کپ میں جیت کے لیے ہندوستانی خواتین کی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے سیکیا نے کہا کہ بی سی سی آئی ٹرافی سے متعلق تنازع کو ٹیم کی ایشیائی کھیلوں کی مہم میں رکاوٹ نہیں بننے دے گا۔
سیکیا نے کہا کہ "ہندوستانی خاتون ٹیم نے وہ کام کیا ہے جو سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے؛ انہوں نے میدان پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرکے ایشیا کپ جیتا ہے۔ ہمیں اور پورے ملک کو ٹیم پر بہت فخر ہے اور یہ کامیابی کھلاڑیوں اور ہندوستانی کرکٹ کی ہے۔ اب ہماری توجہ ایشیائی کھیلوں پر ہے اور ہم اس مرحلے پر اس کی تیاریوں سے کسی بھی طرح توجہ نہیں ہٹنے دیں گے۔”




