سرینگر سے نیشنل کانفرنس کے لوک سبھا رکن‘ آغا روح اللہ مہدی نے جموںکشمیر کی سیاست کے معیار کو ناقص قرار دیکر اس میں بہتری لانے کی بات کی ہے ۔ ان کاکہناہے کہ وہ یہ بات کسی مخصوص سیاسی جماعت کے حوالے سے نہیں کر رہے ہیں بلکہ مجموعی طور پر جموںکشمیر کی سیاست‘ بالخصوص وادی ‘کا معیار گر گیا ہے جس میں بہتری آنی چاہئے ۔ یہ بہتری کیسے آئیگی ‘ روح اللہ اس بارے میں بھی بالکل واضح ہیں کہ کم از کم ایک پارٹی کو چھوڑ کر دوسری میں شمولیت سے ایسا ہونے والا نہیں ہے۔ دوسرے الفاظ میں ان کاکہنا ہے کہ کشمیر کی جتنی بھی سیاسی جماعتیں ہیں ‘ ان کا حال ایک جیسا ہے ‘ان سب کا معیار گراوٹ کا شکار ہو گیا ہے ۔
گزشتہ کچھ برسوں سے روح اللہ مہدی کو جموں کشمیر کی سیاست میں ایک الگ اور منفرد مقام حاصل ہے اور انہیں ایک سنجیدہ اور بے باک قسم کا سیاستدان تصور کیا جاتا ہے جو اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کرتے ہیں ۔روح اللہ مہدی اپنی پارٹی ‘ نیشنل کانفرنس کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ آج انہیں نیشنل کانفرنس میں رہ کر بھی ایک تنہا لیڈر سمجھا جارہا ہے ۔
سوپور میں روز گزشتہ ایک تقریب ‘ جس میں نیشنل کانفرنس کا کوئی رکن یا لیڈر موجود نہیں تھا ‘میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے روح اللہ مہدی کاکہنا تھا ’’ ہماری سیاست کا معیار خراب ہو چکا ہے۔ چاہے آپ پارٹی بدلیں یا وہ پارٹی بدلتے رہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ جب تک آپ سیاست کو نہیں بدلیں گے، یہ ڈرامہ ہر روز جاری رہے گا۔ میں سماج سے درخواست کرتا ہوں کہ اصلاحات کے لیے کھڑے ہوں اور پوری سیاست کو تبدیل کریں‘‘۔
این سی رکن لوک سبھا جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں اس سے اختلاف کی کوئی گنجائش نظر نہیں آ رہی ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ جموں کشمیر کی سیاست کا معیار گرواٹ کا شکار ہو گیا ہے ۔اس کی ایک اہم وجہ یا سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنی غلطیوں کا دفاع حریف سیاسی جماعتوں کی گئیں غلطیوں کی اور نشاندہی کرکے کرتی ہیں ۔اور اس کا ہم آئے روز مشاہدہ بھی کرتے ہیں ۔
وزیر اعلیٰ ‘ عمرعبداللہ نے روز گزشتہ جموں میں ریزرویشن پر بات کرتے ہوئے پی ڈی پی کو یہ کہتے ہو ئے تنقید کا نشانہ بنایا کہ اس جماعت کی لیڈر ‘ محبوبہ مفتی جب گزشتہ سال لوک سبھا الیکشن لڑ رہی تھیں تو موصوفہ نے اپنی پارٹی کے لوگوں کو ریزرویشن کے بارے میں کوئی بھی بات نہ کرنے کی ہدایت دی تھی تاکہ ریزرویشن کے حامی ووٹر ان سے ناراض نہ ہو جائیں ۔
وزیر اعلیٰ کا یہ ردعمل ‘ پی ڈی پی کے رکن اسمبلی وحید پرہ کے ایک بیان پر تھا جس میں انہوں نے ریزرویشن کے بارے میں کابینہ کی سب کمیٹی کی پیش کی گئی رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا تھا ۔
نیشنل کانفرنس نے اپنے انتخابی منشور میں ایک متوازن ریزرویشن پالیسی کومتعارف کرانے کا وعدہ کیا تھا ۔ اس لئے اس کو اپنے اس وعدے کو پورا کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے ‘ اس میں کسی قسم کی تاخیر ‘ جیسا یہ لوگوں میں تاثر پیدا ہو رہا ہے ‘ کا یہ جواز نہیں دیا جا سکتا ہے کہ اپوزیشن جماعت کا ماضی میں اس حوالے سے کیا موقف اور کردار رہاہے ۔
نیشنل کانفرنس کو لوگوں نے بھاری بھرکم منڈیٹ اس کے منشور میں کئے گئے وعدوں کو دیکھ کر تفویض کیا ہے ‘ اور یہ اس کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اس منشور میں کئے گئے ایک ایک وعدے کو پورا کرنے کی سمت میں اقدامات اٹھائے ۔ پی ڈی پی کا رزیرویشن یا کسی اور معاملہ میں ماضی میں کیا کردار رہا ہے ‘ لوگوں نے گزشتہ سال ہوئے اسمبلی الیکشن میں اسے اس کی سزا دی ہے ۔پی ڈی پی سے جو غلطیاں اور کوتاہیاں ہو ئی ہیں ان کو این سی اپنی غلطیوں یا کوتاہیوں کیلئے بطور جواز پیش نہیں کر سکتی ہے ۔
جموںکشمیر کی سیاست کے گرتے معیار ‘ جس کی طرف روح اللہ مہدی ‘اشارہ کرتے ہیں ‘ میں بہتری اسی صورت میں آ سکتی ہے جب سیاسی جماعتیں خود کو لوگوں کے سامنے جواب دہ سمجھیں ۔یہ ایک واحد راستہ ہے جس سے یہاں کی سیاست میں سدھار آ سکتا ہے ۔اور خود کوجواب دہ سمجھنے کا سب یہ بہترین طریقہ یہی ہے کہ الیکشن سے پہلے لوگوں سے جو وعدے کئے گئے ہیں انہیں نہ صرف پورا کیا جائے بلکہ اس سے کسی بھی طرح انحراف نہ کیا جائے ۔
لیکن وادی کی سیاسی جماعتوں کا مسئلہ یہ رہا ہے کہ وہ الیکشن کے بعد خود کو لوگوں سامنے جواب دہ نہیں سمجھتے ہیں ۔ اس لئے وہ انتخابی وعدوں سے انحراف ہو جاتے ہیں ۔ پی ڈی پی نے ۲۰۱۴ کے اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کیخلاف ووٹ مانگا اور پھر بی جے پی کے ساتھ ہی اتحاد کیا ۔ یہ اس کا انتخابی وعدوں سے سب سے بڑا انحراف تھا ۔
این سی نے گزشتہ سال کے اسمبلی انتخابات میں بڑے بڑے وعدے کئے ‘ جن میں ۳۷۰ کی بحالی ‘ ریاستی درجے کی واپسی ‘ملازمتوں کی فراہمی ‘ سیاسی نظر بندوں کی رہائی ‘ پی ایس اے کو کالعدم کرنا شامل ہے ۔آٹھ ماہ بعد ابھی اس ضمن میں این سی حکومت نے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے ہیں … یقینا لوگوں نے اسے پانچ سال کا وقت دیا ہے ‘ لیکن کہیں نہ کہیں سے شروعات تو کرنی ہے ‘ جو آٹھ ماہ بعد بھی نہیں ہو ئی ہے ۔
قطع نظر اس کے کہ روح اللہ مہدی نے جموں کشمیر کی سیاست میں آئی گراوٹ کی بات کس تناظر میں کی ‘ لوگوںکے مندیٹ کی عزت اور اس کا احترام کرنا اور ساتھ ہی ان کے اعتماد کو سب سے بڑا اثاثہ سمجھ کر اس کو برقرار رکھنے کی ایماندارانہ کوشش اس گرتے معیار میں بہتری لانے کا ایک موثر ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے ۔





