نئی دہلی// کانگریس نے بدھ کو الزام لگایا کہ بی جے پی کی حکومت والی شمال مشرقی ریاستیں سرکاری تحفظ میں کوئلے کی غیر قانونی کانکنی اور منشیات کی تجارت کا مرکز بن گئی ہیں۔
آسام کانگریس کے نئے صدر اور لوک سبھا میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر گورو گوگوئی نے یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ مرکز اور متعلقہ ریاستی حکومتوں نے ان دونوں مسائل پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔
مسٹر گوگوئی نے کہا کہ اپریل میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے میگھالیہ اور آسام میں کئی مقامات پر چھاپے مارے تھے ۔ ای ڈی کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ میگھالیہ اور آسام کے لوگوں کے ایک ‘سنڈیکیٹ’ نے اس بات کو یقینی بنایا کہ غیر قانونی کان کنی سے نکالے گئے کوئلے سے لدے ٹرک بغیر کسی چیکنگ کے میگھالیہ کی سرحدوں کو پار کر کے آسام میں داخل ہوئے ۔ وہاں دستاویزات تیار کی گئیں، جس سے معلوم ہوکہ کوئلے کی قانونی طور پر کان کنی کی گئی تھی۔ انہوں نے کہاکہ "تفتیش سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ یہ سنڈیکیٹ تحفظ کے نام پر کان کے مالکان سے فی ٹرک 1.27 لاکھ روپے سے 1.5 لاکھ روپے تک کی رقم وصول کرتا تھا۔ تلاشی کے دوران ای ڈی نے 1.58 کروڑ روپے کی نقدی، کئی ڈیجیٹل آلات اور دو گاڑیاں ضبط کیں۔
کانگریس لیڈر نے اس معاملے میں کوئی گرفتاری اور کوئی ٹھوس تحقیقات نہ ہونے پر حیرت کا اظہار کیا اور سوال کیا کہ کیا ای ڈی کا چھاپہ صرف جبری وصولی کا ذریعہ تھا۔
آسام کانگریس کے صدر نے کہا کہ اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) کی تحقیقات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ آسام میں تقریباً 245 ‘غیر قانونی’ کانیں چل رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ”ایسے حالات میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب کس کی سرپرستی میں ہو رہا تھا؟ کیا ای ڈی کا چھاپہ صرف ڈیڑھ کروڑ روپے کی نقدی ضبط کرنے تک محدود تھا؟ ای ڈی کی کارروائی کے بعد ریاستی حکومت نے معاملے کی جانچ کیوں نہیں کی اور مرکزی حکومت نے اب تک کوئی کارروائی کیوں نہیں کی؟










