منگل, ستمبر 1, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home قومی خبریں

وقف ترمیمی قانون کے خلاف جماعت اسلامی ہند نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-04-15
in قومی خبریں
A A
جموں کشمیر میںحد بندی کیخلاف عرضی پرسپریم کورٹ میں سماعت آج
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ  کا ’آئین اور شریعت کے تحفظ ‘ کیلئے ملک گیر تحریک کا اعلان

اسکائی روٹ ایرواسپیس نوجوانوں کی صلاحیت، عزم اور کاروباری جذبے کی علامت ہے: مودی

نئی دہلی// وقف ترمیمی قانون 2025 کے آئینی جواز کو چیلنج کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کی جانب سے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی گئی ہے ۔ یہ عرضی جماعت کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر و دیگر مرکزی ذمہ داران مولانا شفیع مدنی اور انعام الرحمن خان کے ذریعے داخل کی گئی ہے ۔ عرضی میں نئے ترمیمی قانون پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ ترمیمات ، شہریوں کے بنیادی حقوق کے سراسر خلاف اور ہندوستان میں وقف کے مذہبی اور فلاحی کردار کو متاثر کرنے والی ہیں ۔ عرضی میں ہندوستانی آئین کی دفعہ 14، 15، 16، 25، 26 اور 300 اے کے خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان ترامیم کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے انھیں ختم کرنے کی گزارش کی گئی ہے ۔
پٹیشن میں اٹھائے گئے اہم نکات:
1: بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا مسئلہ:
اس ترمیم شدہ ایکٹ نے وقف کی تعریف اور اس کی بنیادی ساخت کو بدل دیا ہے ۔ وقف پر غیر ضروری پابندیاں لگا دی گئی ہیں کہ کون وقف کر سکتا ہے اور ان کا انتظام و انصرام کیسے کیا جائے گا۔ مثال کے طور پر اب وقف کنندہ کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ کم سے کم پانچ سال تک اسلام کا پیروکار رہا ہے جبکہ اسلام میں وقف کنندہ کے لیے ایسی کوئی بھی شرط نہیں ہے ۔ یہ غیر ضروری شرط براہ راست آرٹیکل 25 اور 15 کے خلاف ہے جس میں مذہبی آزادی اور امتیازی سلوک کے خلاف تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے ۔
2: وقف بورڈ کی خود مختاری پر حملہ:
اس نئے قانون کے ذریعے وقف بورڈ میں منتخب افراد کی جگہ حکومت کی طرف سے مقرر کردہ عہدیداروں کو شامل کرنے کا راستہ کھول دیا گیا ہے جن میں غیر مسلم اور وقف کے لیے مطلوبہ فقہی مسائل سے ناواقف افراد بھی شامل ہو سکتے ہیں ۔ یہ قانون بنیادی طور پر ملک میں مختلف مذہبی طبقات کو اپنے مذہبی اداروں کو چلانے کے لیے دیئے گئے حق کے خلاف ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ اس نئے قانون میں سی ای او کے لیے مسلمان ہونے کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے جس سے بورڈ میں مسلمانوں کی نمائندگی کے شدید طور پر متاثر ہونے کا امکان ہے ۔
3: وقف املاک پر ناجائز قبضہ جات کا مسئلہ:
قانون کے سیکشن 3ڈی کو جلد بازی میں من مانے ڈھنگ سے متعارف کرایا گیا ہے تاکہ محکمہ آثار قدیمہ کی طرف سے محفوظ یادگار قرار دی گئیں تمام وقف شدہ ملکیتوں کو وقف بورڈ کے کنٹرول سے نکال کر اے ایس آئی کی ملکیت بنایا جا سکے چاہے ان مقامات کی تاریخی ومذہبی حیثیت و اہمیت کچھ بھی کیوں نہ ہو۔ یہ شق بنیادی طور پر قدیم یادگاروں اور آثار قدیمہ کے ایکٹ 1958 کے سیکشن 6 کو ختم کردیتی ہے جوکہ وقف املاک سے متعلق ہے ۔ مزید براں اس قانون کی وجہ سے تجاوزات کرنے والوں کو وقف اراضی پر منفی قبضہ کرنے کے لیے دعویٰ کرنے کا حق مل جاتا ہے ۔ جس سے مسلمانوں کے وقف املاک کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔
4: کمیونٹی کنسلٹیشن کی ناکامی:
ترامیم کی حساسیت کے باوجود اس بل کو جلد بازی میں منظور کیا گیا ۔ منصفانہ طریقہ کار کو نظر انداز کرتے ہوئے پارلیمانی کارروائی کے دوران سیکشن 3ڈی اور 3 ای جیسی تبدیلیاں آخری وقت میں شامل کی گئیں۔ اہم بات یہ ہے کہ مختلف مسلم تنظیموں بشمول جماعت اسلامی ہند نے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر اس قانون پر اپنے اعتراضات درج کرائے تھے مگر انہیں نظر انداز کردیا گیا۔ اسٹیک ہولڈرز اور وقف سے متعلق تنظیموں و افراد کی شمولیت کو نظر انداز کرکے قانون بنانا، مسلمہ جمہوری اصولوں کے خلاف ہے ۔
اضافی قانونی دلائل:
وقف بائے یوزر کی شق کو ختم کردیا گیا ہے جبکہ رام جنم بھومی بابری مسجد کیس و دیگر کئی سابقہ عدالتی فیصلوں میں یہ بات موجود ہے کہ استعمال اور تاریخی تسلسل کو بنیاد بنا کر فیصلہ کیا جانا چاہئے ۔ لال شاہ بابا درگاہ، شیخ یوسف چاولہ اور رامجس فاؤنڈیشن کے فیصلوں میں بھی یہ کہا گیا کہ مذہبی اوقاف کو کمیونٹی کے استعمال اور تاریخی تسلسل کے حوالے سے پرکھا جانا چاہئے نہ کہ حکومتی رکارڈ کو بنیاد بنا کر۔
جماعت اسلامی ہند اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ وقف، اسلامی عقیدے و تہذیب نیز ہندوستانی ورثے کا ایک اٹوٹ حصہ ہے جس کا خیرات، تعلیم اور سماجی بہبود سے گہرا تعلق ہے ۔ اس کے مذہبی اور اجتماعی کردار کو کمزور کرنے کی کوئی بھی کوشش غیر آئینی اور غیر منصفانہ ہے ۔ جماعت سول سوسائٹیز، قانونی ماہرین اور انصاف پسند شہریوں سے اپیل کرتی ہے کہ وقف قانون کو من مانی طریقے پر ختم کرنے کے خلاف آواز بلند کریں اور اس آئینی چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

بھارتی ویب سائٹ کا پاکستانی گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم کو خراجِ تحسین

Next Post

کسانوں کا ڈیجیٹل آئی ڈی بنوانا ضروری : شیوراج

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ   کا ’آئین اور شریعت کے تحفظ ‘  کیلئے ملک گیر تحریک کا اعلان
اہم ترین

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ  کا ’آئین اور شریعت کے تحفظ ‘ کیلئے ملک گیر تحریک کا اعلان

2026-09-01
اسکائی روٹ ایرواسپیس نوجوانوں کی صلاحیت، عزم اور کاروباری جذبے کی علامت ہے: مودی
قومی خبریں

اسکائی روٹ ایرواسپیس نوجوانوں کی صلاحیت، عزم اور کاروباری جذبے کی علامت ہے: مودی

2026-08-31
سونم وانگچک معاملے پر کھرگے کا مرکز پر حملہ، بولے- جنتر منتر کا واقعہ جمہوریت پر سیاہ دھبہ
قومی خبریں

سونم وانگچک معاملے پر کھرگے کا مرکز پر حملہ، بولے- جنتر منتر کا واقعہ جمہوریت پر سیاہ دھبہ

2026-08-31
زمین کے ریکارڈ اور ڈیجیٹل لون کو جوڑنے کے لیے وزارتِ دیہی ترقی اور آر بی آئی کے درمیان میٹنگ
قومی خبریں

زمین کے ریکارڈ اور ڈیجیٹل لون کو جوڑنے کے لیے وزارتِ دیہی ترقی اور آر بی آئی کے درمیان میٹنگ

2026-08-31
پی ایم مودی نے ہندستان سے اولمپک میں رسائی بڑھانے، 2036 کھیلوں کی تیاریاں ابھی سے شروع کرنے پر زور دیا
قومی خبریں

وزیر اعظم نے وکرم یان بنانے والی کمپنی اسکائی روٹ کے بانیوں کو مبارکباد دی

2026-08-31
وانگچک کی حالت مستحکم، لیکن علاج سے کیا انکار: صفدر جنگ ہسپتال
قومی خبریں

وانگچک کی حالت مستحکم، لیکن علاج سے کیا انکار: صفدر جنگ ہسپتال

2026-08-31
وانگچک کوجنترمنتر سے ہٹانا ،طلبا کی آواز دبانا غلط : راہل
قومی خبریں

وانگچک کوجنترمنتر سے ہٹانا ،طلبا کی آواز دبانا غلط : راہل

2026-08-31
قومی خبریں

ویشنو اور دھامی نے دکھائی رام نگر-دہرادون ایکسپریس کو ہری جھنڈی

2026-08-31
Next Post
حکومت کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے پرعزم : شیوراج سنگھ

کسانوں کا ڈیجیٹل آئی ڈی بنوانا ضروری : شیوراج

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.