کہا جارہاہے … یہ کہا جارہاہے کہ اگر مسلمانوں … ہندوستان کے مسلمانوں سے کچھ برا ہو گا‘ غلط ہوگا تو… تو یہ سوچ لینا کہ یہ برا اور غلط مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے ‘ غلط ہے اور… اور اس لئے غلط ہے کیوں کہ ۲۰ کروڑ مسلمان ملک کی مجموعی آبادی کاکم و بیش ۱۵ فیصد حصہ ہیں… اس لئے اگر آبادی کے ۱۵فیصد حصے کے ساتھ کچھ بر ا اور غلط ہو گا تو… تو وہ ملک کے ساتھ غلط اور برا ہوگا… اس کے اثرات ملک گیر ہوں گے ‘ یہ مسلمانوں تک محدود نہیں رہیں گے… بالکل بھی نہیں رہیں … اب یہ کتنا درست ہے ‘ اس میں کتنی حقیقت ہے ‘ صاحب ہم تو کچھ نہیں جانتے ہیں ۔ ہم اگر کچھ جانتے ہیں تو وہ یہ ہے کہ مدعی سست اور گواہ چست … پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل پر کافی شور شرابہ ہوا…اپوزیشن نے اپنی استعداد کے مطابق وقف بل کو مسلم مخالف قرار دیا … لیکن ان کا شور شرابہ اس بل کو پارلیمنٹ سے منظور ہونے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنا اور… اور اس لئے نہیں بنا کیونکہ حکومتی اتحاد کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں عددی برتری حاصل ہے… پارلیمنٹ میں ضرور شور شرابہ ہوا… لیکن صاحب یہ بھی سچ ہے کہ جن کے بارے میں شور شرابہ ہوا ‘ وہ خاموشی سے یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے … اس قبول کررہے تھے … ان میں سے غالب اکثریت کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا تھا کہ پارلیمنٹ میں یہ ہنگامہ کیوں ہو رہا ہے… ان میں اتنی سمجھ نہیں تھی… اور یہ بھی سچ ہے کہ ان سب کو انفرادی طور پر وقف ترمیمی بل سے کئی سنجیدہ اور پیچیدہ مسائل کا سامناہے… اس لئے یہ اس بل ‘اس بل پر شور شرابے اورمنظور ی سے بالکل لاتعلق رہے… لیکن… لیکن جن کی سمجھ میں یہ آرہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے اور… اور اس کے کیا اثرات ہوں گے… منفی یا مثبت ‘وہ بھی خاموشی سے یہ سب ریکھتے رہے… کوئی بل کی حمایت میں سامنے آیا اور نہ مخالفت… انکی یہ خاموشی حیران کن سے زیادہ پریشان کن ہے اور… اور اس لئے ہے کہ آپ خاموش رہ کر یہ واضح پیغام دے رہے ہیں کہ…کہ آپ اور آپ کے مستقبل کے بارے میں‘آپ کے خدشات‘ احساسات اور جذبات کو کسی خاطر میں نہ لاکر کسی کو بھی کوئی بھی فیصلہ لینے کا اختیار ہے اور… اور وہ جو بھی فیصلہ لے گا… چاہے وہ آپ کے حق میں ہو یا خلاف آپ اسے سر تسلیم خم کر کے قبول کریں گے۔ ہے نا؟