’دفعہ ۳۷۰ کی منسوخی اور شہریت بل کی طرح اس وقت بھی خوف پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے‘
سرینگر///
مرکزی وزیر داخلہ‘ امیت شاہ نے کہا ہے کہ مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں کوئی مداخلت نہیں ہو گی۔
شاہ نے کہا کہ وقف میں کسی غیر مسلم رکن کی تقرری کا کوئی اہتمام نہیں ہے‘ ہم ایسا نہیں کرنا چاہتے ہیں۔
وقف (ترمیمی) بل کی حمایت میں ایوان زیریں میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا’’انجانے میں یا سیاسی وجوہات کی بنا پر حزب اختلاف کے ارکان پارلیمنٹ کے ذریعہ کئی غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔ وقف کا مطلب ہے ’اللہ کے نام پر مذہبی خیرات کے لیے چندہ‘۔ وقف ایک قسم کا خیراتی وظیفہ ہے جسے واپس لینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ عطیات صرف اپنی جائیداد سے کیے جا سکتے ہیں، سرکاری جائیداد سے نہیں‘‘۔
شاہ نے مزید وضاحت کی کہ وقف میں کسی غیر مسلم رکن کی تقرری کا کوئی اہتمام نہیں ہے۔’’ ہم ایسا نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی۔ وہ(اپوزیشن) اپنے ووٹ بینک کو خوش کرنے کیلئے اس کی مخالفت کر رہے ہیں‘‘۔
مرکزی وزیر داخلہ نے وقف ترمیمی بل پر بحث کے دوران ان جائیدادوں کی ایک لمبی فہرست پیش کی جو انہوں نے کہا کہ وقف کیلئے دی گئی تھیں۔ اس فہرست میں مندروں، دیگر مذاہب، حکومت اور دیگر کی زمینیں شامل تھیں۔ ان کا کہنا تھا’’آپ کسی اور کی جائیداد عطیہ نہیں کر سکتے۔ آپ کچھ ایسا عطیہ کرتے ہیں جو آپ کا ہے‘‘۔
یہ حکومت کی اس دلیل کو تقویت دیتا ہے کہ بڑی زمینوں اور املاک کو وقف نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے، دوسروں کے معاملے میں آخری لمحات میں بچت ہوئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وقف اراضی پر قبضہ کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔
شاہ نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ کرناٹک ہائی کورٹ کو وقف کے ذریعہ ۶۰۲مربع کلومیٹر پر قبضہ روکنا پڑا۔
وزیر داخلہ نے کہا’’(دہلی کے) لوٹیئنزون میں جائیدادیں وقف کے پاس چلی گئیں، اور انہوں نے سرکاری زمین پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ تمل ناڈو میں ایک۴۰۰ سال پرانی مندر کی جائیداد کو وقف کی جائیداد قرار دیا گیا۔ فائیو اسٹار اسٹبلشمنٹ کیلئے زمین وقف کو ماہانہ۱۲ہزار روپے میں دی گئی تھی۔ پریاگ راج کے چندر شیکھر آزاد پارک سمیت مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی متعدد جائیدادوں کو وقف جائیداد قرار دیا گیا ہے‘‘۔
شاہ نے کہا کہ ترمیم شدہ وقف بل اس کو روکنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ یہ بل جائیداد کی حفاظت کرے گا۔ اے ایس آئی کی جائیداد، آدیواسی زمین، نجی جائیداد اور وقف کی طرح، آپ صرف نجی، ذاتی جائیداد عطیہ کرسکتے ہیں نہ کہ برادری (گاؤں) کی زمین۔ یہ بل شفافیت لائے گا‘‘۔
وزیر داخلہ نے اس صورتحال کیلئے یو پی اے حکومت کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ وقف قوانین کو ۲۰۱۴ کے عام انتخابات سے کچھ دن پہلے تبدیل کیا گیا تھا۔
شاہ نے اسے خوش نودی کی سیاست کی ایک اور مثال قرار دیتے ہوئے کہا’’۲۰۱۳میں انہوں نے (کانگریس کی قیادت والی حکومت نے) زمین پر قبضہ کرنے کی شکایتوں کو عدالت میں لے جانے کی شق کو ختم کر دیا تھا۔ انہوں نے گناہ کیا۔ نیا بل ماضی میں نافذ نہیں ہوگا، لیکن وہ لوگوں کو ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ انہوں نے ترامیم لانے سے پہلے آبادی کے مختلف طبقوں سے مشورہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا’’ہمیں لوگوں سے ایک کروڑ سے زیادہ تجاویز ملی ہیں۔ ہمارا اصول واضح ہے، ہم ووٹ بینک کے لیے کوئی قانون نہیں لائیں گے، یہ انصاف کے لیے ہے‘‘۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس بل کو کیرالہ کے عیسائیوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا’’وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ مودی حکومت کے دور میں ملک میں کسی بھی مذہب کے شہری کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچے گا‘‘۔
کانگریس اور پوری اپوزیشن پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’’مودی حکومت کے بارے میں کنفیوژن پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، مسلمانوں کو ڈرا کر اپنا ووٹ بینک مضبوط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ‘‘۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے۲۰۱۴میں ذات پات اور فرقہ پرستی کی سیاست کو دفن کر دیا تھا اور عوام نے انہیں مسلسل تیسری بار حکومت بنانے کا مینڈیٹ دیا ہے ‘‘۔
شاہ نے کہا’’اگر۲۰۱۳میں ترقی پسند اتحاد کی حکومت کی طرف سے وقف ایکٹ میں لائی جانے والی ترمیم میں سنگین خامیاں نہ ہوتیں تو اس بل کو لانے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ اس ترمیم کی وجہ سے دہلی کے لوٹین زون کی۱۲۳انتہائی اہم جائیدادوں کو وقف میں منتقل کر دیا گیا تھا‘‘۔انہوں نے کہا کہ۲۰۱۳میں پورے ملک میں وقف اراضی۱۸لاکھ ایکڑ تھی جس کے بعد اس میں ۲۱لاکھ ایکڑ کا اضافہ ہوا ہے ۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ متولی وقف املاک کا منیجر ہے‘اگر کوئی وقف املاک کے ساتھ بے ایمانی کر رہا ہے تو کیا اسے قانون کے مطابق سزا نہیں ہونی چاہئے ۔
شاہ نے کہا کہ۲۰۱۳میں وقف ایکٹ میں کی گئی ترمیم کے مطابق وقف کے معاملات کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا، لیکن اس ترمیمی بل میں ایسی دفعات ہیں کہ اگر کوئی چاہے تو وقف کے فیصلوں کو عدالتوں میں چیلنج کیا جا سکتا ہے ۔ یہ بل شفاف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کی دفعات کے مطابق مسلمان خیراتی ٹرسٹ بھی تشکیل دے سکیں گے اور وہ اس ٹرسٹ کو رجسٹر کروا سکیں گے ۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ اسی طرح کا خوف شہریت ترمیمی قانون اور دفعہ ۳۷۰کو ہٹانے کے وقت مسلمانوں کو دکھایا گیا تھا، اب پھر سے کنفیوژن پھیلا کر مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کا واضح اصول ہے کہ وہ ووٹ بینک کے لیے کوئی قانون نہیں لائیگی۔’’کانگریس مسلمانوں کو ڈرا کر حکومت کرتی رہی ہے ‘‘۔
شاہ نے کہا کہ وقف املاک عطیہ کردہ جائیداد ہے اور عطیہ کسی کی اپنی جائیداد سے ہی دیا جا سکتا ہے ، یہ فیصلہ کرنے کا کام صرف کلکٹر کرتا ہے جو ضلع کا ریونیو افسر ہوتا ہے ۔