سرینگر//
منشیات کی لعنت کی بیخ کنی کے خلاف جنگ کو جاری رکھتے ہوئے پولیس نے سرینگر میں منشیات سے متعلق ایک منظم مجرمانہ سازش کو طشت از بام کرکے این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت چار افراد کو گرفتار کیا ہے ۔
ایک پولیس ترجمان نے اپنے ایک بیان میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ ایک آپریشن جو گذشتہ ہفتے۲۴فروری۲۰۲۵کو ایک اطلاع کے ساتھ شروع ہوا اور اس دوران لالچ اور انتقام کی ایک منظم سازش کو بے نقاب کر دیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ اس کیس کا آغاز اس وقت ہوا جب ایڈوکیٹ یوشا یوسف میر ساکن بخشی پورہ نور باغ سری نگر نے پولیس اسٹیشن شہید گنج کے ساتھ ایک مشکوک گاڑی کے متعلق رابطہ کیا۔
ان کا کہنا تھا’’شکایت کنندہ کے مطابق مذکورہ گاڑی روزانہ کرن نگر میں اوسز اسکول کے پاس کھڑی کی جارہی تھی جس نے شکوک و شبہات کو جنم دیا‘‘۔
ترجمان نے کہا’’سری نگر پولیس نے تیزی سے کام کرتے ہوئے متعلقہ مجسٹریٹ کے ساتھ مل کر اطلاع کے مطابق کھڑی گاڑی کو تلاش کرنے کیلئے مذکورہ جگہ پر چھاپہ مارا‘‘۔
پولیس ترجمان نے کہا’’گاڑی کے مالک‘ جس کی شناخت منظور احمد بٹ ولد مرحوم غلام محمد بٹ ساکن آستان محلہ نٹی پورہ سری نگر کے طور ہوئی ‘ ساتھ گاڑی پر دکھائے گئے فون نمبر کے ذریعے رابطہ کیا گیا اور اس کو خود جائے وقوعہ پر حاضر ہونے کی ہدایت دی گئی‘‘۔
ان کا کہنا تھا’’مجسٹریٹ کی موجودگی میں ابتدائی تلاشی کے دوران گاڑی سے۴سو۵۲گرام چرس جیسا مواد بر آمد کیا گیا جس کے نتیجے میں پولیس اسٹیشن شہید گنج میں این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت ایک مقدمہ درج کیا گیا اور گاڑی کو ضبط جبکہ گاڑی کے مالک کو گرفتار کیا گیا‘‘۔
بیان میں کہا گیا’’تاہم جو ابتدائی طور پر منشیات کی اسمگلنگ کا ایک سیدھا سادا معاملہ دکھائی دیتا تھا جلد ہی ایک گہری سازش کی شکل اختیار کر گیا‘‘۔انہوں نے کہا’’مزید تفتیش سے یہ بات سامنے آئی کہ منظور احمد کو جان بوجھ کر پانچ افراد کے ایک گروپ نے مالی تنازعہ پر نشانہ بنایا تھا‘‘۔
ترجمان نے کہا’’تفتیش میں ثابت ہوا کہ واقعہ سے کچھ دن پہلے توحید کالونی نٹی پورہ کے رہنے والے محمد شفیع بڈیاری نے اس سے جھوٹے بہانے سے گاڑی لی تھی‘‘۔انہوں نے کہا’’محمد شفیع نے توفیق علی ساکن صفا کدل اور ارشد احمد وانی ساکن پمپوش کالونی نٹی پورہ سے تعلق رکھنے والے ساتھیوں کے ساتھ گاڑی کو نٹی پورہ پہنچایا، جہاں انہوں نے گاڑی میں ممنوعہ مواد رکھا‘‘۔
ان کا کہنا ہے’’پھر محمد شفیع نے کرن نگر میں منظور احمد کو گاڑی واپس دے کر پھندے کے لیے اسٹیج تیار کیا‘‘۔
بیان میں کہا گیا’’اس کے بعد محمد شفیع نے مبینہ طور پر شکایت کنندہ کو اطلاع دی جس نے پولیس کو مطلع کیا جس سے واقعات کا سلسلہ شروع ہوا اور منظور احمد کی گرفتاری ہوئی‘‘۔انہوں نے کہا’’مزید گہرائی میں جا کر تفتیشی ٹیم نے انکشاف کیا کہ یہ سازش مہینوں سے چل رہی تھی جسے محمد شفیع نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ترتیب دیا تھا‘‘۔
پولیس بیان کے مطابق اس کا محرک حیدر پورہ میں ایک زمین کا سودا ہے جہاں منظور احمد نے گروپ کو جائیداد خریدنے کے لیے رقم سونپی تھی۔انہوں نے کہا’’لین دین کو پورا کرنے کے بجائے ، سازش کرنے والوں نے اسے منشیات کے مقدمے میں پھنسا کر ختم کرنے کی کوشش کی، اس طرح اس کے فنڈز اپنے لیے محفوظ کر لیے‘‘۔
ترجمان کا کہنا تھا’’سازش میں استعمال ہونے والی ممنوعہ چیز مہینوں پہلے ظہور احمد میر کے ذریعے منگوائی گئی تھی اور رام باغ سری نگر میں روف احمد میر کی دکان پر رکھی گئی تھی‘‘۔
بیان میں کہا گیا کہ۲۶فروری۲۰۲۵کو ملزموں میں سے محمد شفیع بدیاری، ارشد احمد وانی، توفیق علی اور روف احمد میر نامی چار ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔
پولیس ترجمان نے بتایا کہ ملزمان کے انکشافات پر ممنوعہ اشیاء کی اضافی برآمدگی ہوئی اور اس طرح کیس مزید مضبوط ہوا۔انہوں نے کہا کہ ظہور احمد میر کی تلاش اور گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں جبکہ دیگر ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا ہے ۔
ان کا کہنا ہے کہ اس مقدمے میں مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔










