منگل, ستمبر 15, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

عمر حکومت گھیرے میں آرہی ہے

اپوزیشن کی تنقید اور عوام کی برہمی میں شدت

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-02-06
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

وقف بورڈ کی ترجیحات کیا ہونی چاہئیں؟

کیاسرینگر آلودگی پر قابو پائے گا

اگلے مالی سال کیلئے مرکزی مالی امداد کے حجم کا تحفظ یقینی بنانے کی سمت میں ناکامی تو اپنی جگہ عمرعبداللہ کی قیادت میں نیشنل کانفرنس کی سرکار بھاری عوامی منڈیٹ کے باوجود زندگی کے مختلف شعبوں، انتظامیہ سے وابستہ معاملات، بزنس رولز کی ترتیب وتدوین ، پارلیمنٹ میں اس کے اراکین کی نہ سمجھ آرہے اپروچ ، ایک اور ٹارگٹ کلنگ کے تناظرمیں اعلیٰ مرکزی سطح پر امن وقانون کی صورتحال کا جائزہ میٹنگ میں وزیراعلی یا اس کے قیاد ت میں کابینہ کے کسی رکن کی عدم شرکت یا دوسرے الفاظ میں میٹنگ میںشرکت کو بادی النظرمیں ضروری نہ سمجھ کر نظرانداز کرنااور پھر مختلف امورات اور حکومتی طرزعمل کے تعلق سے جموں نشین بی جے پی اور کشمیر نشین اپوزیشن باالخصوص سجاد غنی لون کی پیپلز کانفرنس اور محبوبہ مفتی کی پی ڈی پی کی جانب سے تابڑتوڑ حملے اور تنقید میںشدت کچھ ایسے حساس نوعیت کے معاملات ہیں جو حکمران جماعت کیلئے اب باعث تشویش ہونے چاہیں۔
پارلیمنٹ میں صدر مملکت کے خطبے پر شکریہ کی تحریک میں حصہ لیتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے رکن آغا روح اللہ کی تقریر کا یہ حصہ کہ ’ہم ۱۹۵۳ء کی پوزیشن اورا س سے وابستہ تمام آئینی ضمانتوں کی بحالی چاہتے ہیں جبکہ ریاستی درجہ کی بحالی ثانوی درجہ کی حیثیت رکھتا ہے، کے ساتھ ساتھ بزنس رولز کی ترتیب وتدوین کے حوالہ سے اپوزیشن کی طرف سے تابڑ توڑ حملے صورتحال کی سنگینی کا کچھ کچھ نہیں بلکہ بہت کچھ حد تک اس کے خدوخال کو واضح کررہاہے۔ اپوزشین مسلسل دعویٰ کررہی ہے کہ عمر عبداللہ کی حکومت ایسے اقدامات مسلسل طور سے اُٹھارہی ہے جو ۵؍اگست ۲۰۱۹ء کے فیصلوں پر مہر تصدیق ثبت کئے جانے کی حیثیت رکھتے ہیں۔
جموںنشین بی جے پی بھی خاموش نہیں ۔حالیہ ایام میں اس پارٹی کے کئی ترجمان پریس کو بریف کرتے دیکھے گئے جس بریفنگ کے دوران ترجمانوں نے عمر کی حکومت کو مختلف معاملات کے حوالہ سے نہ صرف خوب رگڑے دیئے ہیں بلکہ بی جے پی کے ایک ترجمان نے یہاں تک دعویٰ کیا کہ عمرعبداللہ کشمیرمیں پاکستان کی بولی بول رہا ہے اور پاکستانی ایجنڈا آگے بڑھارہاہے۔ لیکن برعکس اس کے کشمیر نشین اپوزیشن عمرعبداللہ کے تعلق سے اپنے اس دعویٰ سے ایک قدم بھی پیچھے ہٹتی نظرنہیں آرہی ہے کہ وہ بی جے پی کے قریب ہوتے جارہے ہیں اور بی جے پی کی ہرخواہش پر اپنی حکومت کی مہر تصدیق ثبت کرتے جارہے ہیں۔
حکومت پر اس کے چناوی منشور میں دی گئی ضمانتوں پر اب خاموشی یا قدرے التواء کے کھاتے میں رکھنے کے اپروچ کو بھی نشانہ بنایاجارہاہے اور مطالبہ کیا جارہا ہے کہ آخر کب تک ان ضمانتوں کو عملی جامہ پہناکر دن کا اُجالا دکھایا جائے گا۔ دیگردوسرے کئی معاملات کے تعلق سے بھی دعویٰ سامنے آرہے ہیں، الزامات اور طعنوں کی بھی کچھ کچھ بارش ہورہی ہے البتہ حکومت کی جانب سے کسی ردعمل کو ضروری نہیں سمجھا جارہا ہے۔ خاموشی ہی خاموشی ہے۔ لیکن یہ خاموشی عوامی سطح پر پارٹی کیلئے کسی بھی وقت آتش فشاں بھی ثابت ہوسکتی ہے۔
بھلے ہی سوالوں کے جواب میں عمر عبداللہ یا ڈاکٹر فاروق عبداللہ ہنستے مسکراتے ہوئے مطمئن کرنے کیلئے جواب دیتے رہیں یا ریاستی درجہ کی بحالی کے حوالہ سے بار بار یہ دہراتے رہیں کہ بہت جلد یہ درجہ بحال ہوجائے گالیکن عوام یہ سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں کہ مرکزی سرکار کی جانب سے ’مناسب وقت پر ‘ اور نیشنل کانفرنس کی قیادت کی جانب سے ’ جلد‘ کے درمیان آخر کتنے زمینوں اور آسمانوں کے فاصلے ہیں جن فاصلوں کو پاٹنے کیلئے عوام کے صبروتحمل کا امتحان لیاجارہاہے، ان کے حالیہ بھاری منڈیٹ کا احترام کرنے کی بجائے اسے لتاڈنے کا سلسلہ جاری رکھاجارہاہے، جبکہ اسی عوامی سطح پر الیکشن پراسیس میں ریکارڈ توڑ شرکت کو لے کر عالمی سطح پر اس کو کسی اور پیرائے میں پیش کرکے سیاسی سطح پر سکور پوائنٹ کرنے کی سرتوڑ کوشش کی جارہی ہے۔
اب یہ سوال بھی آہستہ آہستہ ، زیر لب ہی سہی، کیا جارہاہے کہ کیا عوامی منڈیٹ اور اس کے بل پر اقتدار کا حصول اور اب اس حصول کا تحفظ ہی نیشنل کانفرنس کے لئے حرف آخرتھا؟ عوام کی ضرورتوں کا رونا بسورنا، لوگوں کی روزمرہ کے تعلق سے گوناگوں معاملات اور مسائل کا بڑھتا حجم، کم روزگار ی اور بے روزگاری کا بڑھتا گراف، الیکشن کے دوران سمارٹ میٹروں کی تنصیب پر ناپسندیدگی لیکن اقتدار حاصل ہونے پر اب ’جب تک نہ سمارٹ میٹر وں کی تنصیب کے دائرے میں ساری آبادی لائی جاتی ہے اُس وقت تک بجلی کے بحران پر قابو پانا ممکن نہیں کا بدلتا موقف، میڈیا کی زبان بندی پر قدم قدم پر برہمی اور اب نئی مصلحتوں کے پیش نظر کچھ نئی مصلحتوں کے تقاضے، آخر حکومت اور پارٹی کی قیادت ان سارے اشوز کے تعلق سے کب اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی، کیا اُس مطلوبہ کارکردگی کا لیکھا جوکھا عوام کے سامنے پیش کرنے کیلئے عوام کو ۵؍سال تک مزید انتظار کرنا ہوگا؟
عام لوگ یہ سمجھنے سے فی الوقت تک قاصرہیں کہ وزیراعلیٰ کی قیادت اور ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی سرپرستی میں حکومت اور پارٹی ان سارے معاملات کے حوالہ سے خود کو کس سمت میں پوزیشن کررہی ہے، لوگ ان چونچلوں میںدلچسپی نہیںرکھتے بلکہ سادہ اور غیر سیاسی سوچ کے حامل لوگوں کی فطرت عجلت سے عبارت ہے اور وہ نتائج دیکھنے میں دلچسپی بھی رکھتے ہیں اور یقین بھی ۔ لیکن صاحب اقتدار کیلئے حصول اقتدار کی جدوجہد کے بعد یہ معاملات ثانوی بن جاتے ہیں ۔ بلکہ اب تو لوگوں کی اکثریت اس بات کو بھی زبان دے رہی ہے کہ ۹۰؍ ممبران اسمبلی کو ملازمت مل گئی۔ سرکاری سہولیات بشمول کروڑوں مالیت کی بلٹ پروف گاڑیاں بھی دستیاب ہونے جارہی ہیں، ان کا اب عوام کو درپیش مسائل سے کیا لینا دینا ہے ،ا ن کا اپنا ذاتی مسئلہ حل ہوگیا، لوگوں کا کیا ، وہ پہلے بھی یہ سب کچھ سہتے رہے ہیں اور اب آگے بھی سہتے رہیں گے اور اپنی رائے دہی کے استعمال کا ثمرہ اور صلہ انہی خطوط اور انہی سوچوں اور اپروچوں کے چلتے حاصل کرتے رہینگے!
آخر کشمیرکے حوالہ سے تاریخ کی بھی کوئی حیثیت ہے ۔ وہ تاریخ ہی کیا جو اپنے ماضی اور روایتوں پر یقین نہ کرکے خود کو نہ دہراتی رہے، کیونکہ کشمیرکی زمین کے بارے میں یہ بات متفق ہے کہ یہ زمین بہت نم اور ذرخیز ہے لہٰذا اس ذرخیزی کے ہوتے صاحب اقتدارکیسے اپنی روایتوں سے پیچھے ہٹ کر سرزمین کشمیر کو ’’بنجر‘‘ کہلوانے کا اعزاز اپنے نام کریں۔
ShareTweetSendShareSend
Previous Post

لاپتہ آزاد صاحب!

Next Post

راشد خان ٹی ٹوئنٹی میچوں میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر بن گئے

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

وقف بورڈ کی ترجیحات کیا ہونی چاہئیں؟

2026-09-15
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

کیاسرینگر آلودگی پر قابو پائے گا

2026-09-13
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

 ایک نئے سفر کا آغاز: فلم فیسٹیول کشمیر کے لیے صرف چار دن نہیں؟

2026-09-12
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

اتحاد کا مطلب نظریاتی یکسانیت نہیں

2026-09-10
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

جب منبر و محراب تقسیم کا ذریعہ بننے لگیں

2026-09-09
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

منشیات سے پاک بھارت کا ہدف اور جموں و کشمیر

2026-09-08
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

پہلا بین الاقوامی فلم فیسٹول: کشمیر کا نیا فلمی سفر؟

2026-09-06
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

جل جیون مشن:آخر مسئلہ کیا ہے ؟        

2026-09-05 - Updated on 2026-09-06
Next Post
افغان ٹیم کو زیادہ انٹرنیشنل کرکٹ ملنی چاہیے، راشد خان

راشد خان ٹی ٹوئنٹی میچوں میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر بن گئے

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.