نئی دہلی//) امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کے وزیر پرہلاد جوشی نے آج کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) پر اناج کی خریداری میں بدعنوانی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ رقم براہ راست کسانوں کے اکاونٹس میں منتقل کی جائے گی۔
وقفہ سوالات کے دوران راجیہ سبھا میں ضمنی سوالات کے جواب میں مسٹر جوشی نے کانگریس کے رکن دگ وجئے سنگھ کے الزامات کے جواب میں کہا کہ اب رقم براہ راست کسانوں کے کھاتوں میں منتقل ہوتی ہے اس لئے بدعنوانی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اب وہ وقت نہیں رہا جب ایک روپے میں سے صرف 15 پیسے عوام تک پہنچتے تھے ۔ مودی حکومت میں جن دھن، آدھار اور موبائل پر مبنی ادائیگی کے نظام کے ذریعے ہر پورا روپیہ مستفید کے کھاتے میں جاتا ہے ۔
مسٹر جوشی نے کہا کہ جہاں تک کم خریداری کا سوال ہے ، 2004 سے 2014 تک یونائیٹڈ پروگریسو الائنس (یو پی اے ) حکومت کے دور میں 4,40,498 کروڑ روپے کا دھان اور 2,26,817 کروڑ روپے کی گندم خریدی گئی تھی جبکہ مودی حکومت اس پروگرام کے تحت 2014 سے اب تک 12,51,403 کروڑ روپے کا دھان اور 5,44,324 کروڑ روپے کی گندم خریدی گئی ہے ۔
ایک اور سوال کے جواب میں وزیر موصوف نے کہا کہ اگر ایم ایس پی پر خریداری میں کوئی شکایت یا کمی پائی جاتی ہے اور اس کی اطلاع دی جاتی ہے تو کارروائی کی جاسکتی ہے لیکن ایم ایس پی سے کم پر خریداری نہیں کی جارہی ہے ۔
نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے پرفل پٹیل نے کہا کہ ایم ایس پی کے علاوہ کچھ ریاستوں میں خاص طور پر مہاراشٹرا، ہریانہ وغیرہ میں کسانوں کو فی ہیکٹر بونس بھی دیا جا رہا ہے ۔










