سرینگر///
چالیس روزہ’چلہ کلان‘نے اپنے اقتدار کا آغاز ریکارڈ توڑ سردیوں سے کرتے ہوئے جہاں اہلیان وادی کو رات بھر ٹھٹھرتی سردیوں سے دو چار کر دیا وہیں گھروں میں نصب نلوں کو بھی منجمد کرکے لوگوں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑا۔
ماہر موسمیات فیضان عارف کے مطابق سرینگر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی۵ء۸ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ۱۳۳برسوں میں سری نگر میں ماہ دسمبر میں ریکارڈ ہونے والا تیسرا کم ترین درجہ حرارت ہے ۔
سری نگر میں سال۱۹۷۴کے ماہ دسمبر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی۳ء۱۰ڈگری سینٹی گریڈ اور۱۳دسمبر سال۱۹۶۴کو شبانہ درجہ حرارت منفی۸ء۱۲ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
عارف نے کہا کہ گذشتہ شب کا درجہ حرارت سری نگر میں سال۱۸۹۱سے ریکارڈ ہونے والا تیسرا کم ترین درجہ حرارت ہے ۔
شمالی ضلع کپوارہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی۲ء۷ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے جو اس ضلع میں سال ۱۹۹۸سے ریکارڈ ہونے والا کم ترین درجہ حرارت ہے ۔
کپوارہ میں اب تک سب کم درجہ حرارت۳۱دسمبر۱۹۸۶کو منفی۴ء۹ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
جنوبی کشمیر کے اننت ناگ، شوپیاں اور پلوامہ اضلاع وادی کے سرد ترین مقامات رہے ہیں جہاں شبانہ درجہ حرارت بالترتیب منفی۵ء۱۰ڈگری سینٹی گریڈ، منفی۴ء۱۰ڈگری سینٹی گریڈ اور منفی۳ء۱۰ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے ۔
جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی۸ء۶ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے ۔
سیاحتی مقام گلمرگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی۲ء۶ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ وادی کے دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی۶ء۸ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے ۔
وسطی کشمیر میں واقع سیاحتی مقام سونہ مرگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی۸ء۸ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے ۔
وسطی کشمیر کے بڈگام اور گاندربل اضلاع میں شبانہ درجہ حرارت بالترتیب منفی۳ء۸ڈگری سینٹی گریڈ اور منفی۱ء۷ ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور بانڈی پورہ اضلاع میں کم سے کم درجہ حرارت بالترتیب منفی۲ء۶ڈگری سینٹی گریڈ اور منفی۴ء۷ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے ۔
لداخ کے ضلع لیہہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی۵ء۱۲ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ ضلع کرگل میں کم سے کم درجہ حرارت منفی۳ء۱۴ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے ۔
دریں اثنا وادی کے قرب وجوار میں جب لوگ ہفرتے کی صبح نیدن سے اٹھے تو جہاں گھروں میں نصب پانی کے نل جم گئے تھے وہیں جھیل ڈل سمیت آبائی ذخائر بھی منجمد تھے جس کی وجہ سے لوگوں کو صبح کے وقت پانی کی شدید قلت سے دو چار ہونا پڑا۔
محکمہ موسمیات نے اپنی ایڈوائزری میں کہا ہے کہ وادی میں اگلے ایک دو دنوں کے دوران شبانہ درجہ حرارت میں۲ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ درج ہو سکتا ہے جبکہ اس کے بعد۲۶دسمبر تک ایک بار ھر۲سے۳ڈگری کی گراوٹ ریکارڈ ہوسکتی ہے ۔
محکمہ موسمیات نے کہا کہ اہم گزرگاہوں اور اونچی جگہوں کی سڑکوں پر درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے درج ہونے اور برفانی حالات کے پیش نظر، سیاحوں/ مسافروں کو انتظامیہ کی طرف سے جاری ٹریفک ایڈوائزری پر عمل کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے ۔
متعلقہ محکمے کے ایک ترجمان کے مطابق وادی میں۲۱؍اور۲۲دسمبر کو موسم مجموعی طور ر ابر آلود رہ سکتا ہے اور اس دوراب ۲۱دسمبر کی شام کو بعض پہاڑی علاقوں میں ہلکی برف باری متوقع ہے ۔
انہوں نے کہا کہ بعد میں۲۲سے۲۶دسمبر تک وادی میں موسم عام طور پر خشک رہنے کا امکان ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ وادی میں۲۷؍اور ۲۸دسمبر کو پہاڑی علاقوں میں ہلکی بارشوں یا برف باری متوقع ہے جس کا سلسلہ۲۷دسمبر کے دوہر سے شروع ہو کر۲۸دسمبر کے سہہ ہر تک جاری رہ سکتا ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ چلہ کلان جو ‘شہنشہاہ زمستان’ کے نام سے بھی وادی کے قرب وجوار میں مشہور ہے ۲۱دسمبر سے شروع ہو کر۳۱جنوری کو اختتام پذیر ہوجاتا ہے ۔










