نئی دہلی//
طویل عرصے سے تاخیر کا شکار مردم شماری اور نیشنل پاپولیشن رجسٹر (این پی آر) کو اپ ڈیٹ کرنے کا کام ۲۰۲۵ کے اوائل میں شروع ہونے کا امکان ہے اور اعداد و شمار کا اعلان ۲۰۲۶ تک کیا جائے گا۔
تاہم ابھی تک اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے کہ عام مردم شماری کے ساتھ ذات پات کی مردم شماری بھی کی جائے گی یا نہیں۔
ملک کی آبادی کی گنتی۱۹۵۱سے ہر ۱۰سال بعد کی جاتی ہے ، لیکن کوویڈ ۱۹وبائی امراض کی وجہ سے۲۰۲۱میں مردم شماری کا کام نہیں کیا جاسکا۔ ابھی تک اس کے اگلے شیڈول کے بارے میں کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
عہدیداروں نے کہا’’اس بات کا قوی امکان ہے کہ مردم شماری اور این پی آر کا کام اگلے سال کے اوائل میں شروع ہو جائے گا اور آبادی کے اعداد و شمار کا اعلان۲۰۲۶ تک کر دیا جائیگا۔ اس کے ساتھ ہی مردم شماری کے چکر میں تبدیلی کا امکان ہے۔ لہٰذا، یہ ۲۰۲۵تا۲۰۳۵ ؍اور پھر۲۰۳۵تا۲۰۴۵؍ اور مستقبل میں ہوگا‘‘۔
رجسٹرار جنرل اور مردم شماری کمشنر کے دفتر نے مردم شماری کے عمل کے دوران شہریوں سے پوچھے جانے والے۳۱ سوالات تیار کیے ہیں۔
ان سوالوں میں یہ بھی شامل ہے کہ کیا گھر کا سربراہ درج فہرست ذات یا درج فہرست قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے اور خاندان کے دیگر افراد جیسا کہ پچھلی مردم شماری میں پوچھا گیا تھا۔
اپوزیشن کانگریس اور آر جے ڈی ان سیاسی جماعتوں میں شامل ہیں جو ذات پات کی مردم شماری کا مطالبہ کر رہی ہیں تاکہ ملک میں او بی سی کی کل آبادی کا پتہ چل سکے۔
ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے ذات پات کی مردم شماری پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ مردم شماری کے اعداد و شمار شائع ہونے کے بعد کیا حکومت حلقہ بندیوں کے عمل کو آگے بڑھائے گی، جو ۲۰۲۶ میں ہونا ہے۔
جنوبی ریاستوں کے کئی سیاسی رہنماؤں نے ان کی ریاستوں کے لوک سبھا نشستوں سے محروم ہونے کے امکان اور اس طرح ان کے سیاسی اثر و رسوخ کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے کیونکہ وہ شمالی ریاستوں کے برعکس آبادی پر قابو پانے میں کامیاب رہے ہیں۔
انہیں لگتا ہے کہ اگر نئے اعداد و شمار کے ساتھ حلقہ بندیاں کی جاتی ہیں تو جنوبی ریاستوں کو موجودہ حلقوں کی تعداد کے مقابلے میں کم پارلیمانی نشستیں مل سکتی ہیں۔
دوسری جانب آئین کے آرٹیکل ۸۲ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب تک سال ۲۰۲۶ کے بعد ہونے والی پہلی مردم شماری کے متعلقہ اعداد و شمار شائع نہیں ہو جاتے، اس وقت تک۱۹۷۱ کی مردم شماری کی بنیاد پر ریاستوں کو ایوان نمائندگان میں نشستوں کی تقسیم کو تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
اس کا مطلب ہے کہ اگر مردم شماری۲۰۲۵ میں کی جاتی ہے اور ۲۰۲۶میں اعداد و شمار شائع ہوتے ہیں تو ۲۰۲۵ کی مردم شماری کے اعداد و شمار کی بنیاد پر حد بندی کا عمل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو آرٹیکل ۸۲ میں ترمیم کرنی ہوگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حلقہ بندیوں پر کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے ان تمام عوامل پر غور کرنا ہوگا۔
مردم شماری کے تحت ہر خاندان سے پوچھے جانے والے ۳۱ سوالات میں عام طور پر گھر میں رہنے والے افراد کی کل تعداد، کیا گھر کی سربراہ عورت ہے، گھر کے خصوصی طور پر قبضے میں رہنے والے کمروں کی تعداد، گھر میں رہنے والے شادی شدہ جوڑوں کی تعداد اور دیگر شامل ہیں۔
سوالات میں یہ بھی شامل ہے کہ آیا کسی خاندان کے پاس ٹیلی فون، انٹرنیٹ کنکشن، موبائل یا اسمارٹ فون، سائیکل، اسکوٹر یا موٹر سائیکل یا موپیڈ ہے، اور کیا ان کے پاس کار، جیپ یا وین ہے۔
شہریوں سے یہ بھی پوچھا جائے گا کہ وہ گھر میں کیا اناج استعمال کرتے ہیں، پینے کے پانی کا بنیادی ذریعہ، روشنی کا بنیادی ذریعہ، بیت الخلا تک رسائی، بیت الخلا کی قسم، گندے پانی کے نکاس‘ نہانے کی سہولت کی دستیابی، باورچی خانے اور ایل پی جی / پی این جی کنکشن کی دستیابی، کھانا پکانے کے لئے استعمال ہونے والا مرکزی ایندھن، ریڈیو، ٹرانزسٹر، ٹیلی ویڑن وغیرہ۔
ہندوستان کی مردم شماری ہر دہائی میں ریکارڈ کی جاتی ہے ، جس میں پہلی مردم شماری ۱۸۷۲میں ہوئی تھی۔ آزادی کے بعد پہلی مردم شماری ۱۹۵۱ میں اور آخری مردم شماری۲۰۱۱ میں ریکارڈ کی گئی تھی۔
۲۰۱۱ کے اعداد و شمار کے مطابق، ہندوستان کی کل آبادی۱۲۱ کروڑ تھی، جنسی تناسب فی۱۰۰۰ مردوں پر۹۴۰ خواتین تھا، خواندگی کی شرح۰۴ء۷۴ فیصد تھی اور ۲۰۰۱سے۲۰۱۱ تک آبادی میں۶۴ء۱۷فیصد اضافہ ہوا تھا۔
کل آبادی کا۸۴ء۶۸فیصد دیہی علاقوں میں رہتا تھا، جبکہ۱۶ء۳۱ فیصد شہری علاقوں میں رہتے تھے اور اس وقت ملک میں ۲۸ریاستیں اور سات مرکز کے زیر انتظام علاقے تھے جن میں اتر پردیش سب سے زیادہ آبادی والی ریاست تھی، جس کی آبادی تقریباً۲۰ کروڑ ہے۔
سب سے کم آبادی والے مرکز کے زیر انتظام علاقہ لکشدیپ تھا جس کی آبادی۶۴ہزار۵۲۹تھی۔ راجستھان جغرافیائی لحاظ سے سب سے بڑی ریاست تھی، جس کا رقبہ ۳لاکھ۴۲ہزار۲۳۹مربع کلومیٹر تھا اور گوا۳۷۰۲ مربع کلومیٹر کے رقبے کے ساتھ سب سے چھوٹی ریاست تھی۔










