سرینگر//
ایسوسی ایشن آف ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر) کے اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں نو منتخب ایم ایل اے میں سے۸۴ فیصد کروڑ پتی ہیں، جو ۲۰۱۴ کے مقابلے میں۹ فیصد زیادہ ہے۔
اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ایم ایل اے کی اوسط ظاہر شدہ جائیداد ایک دہائی پہلے کے۵۶ء۴کروڑ روپے سے دوگنی سے زیادہ ہوگئی ہے۔
جموں و کشمیر کانگریس کے صدر طارق حمید قرہ اور بی جے پی رہنما دیویندر رانا ۱۰۰ کروڑ روپے سے زیادہ کے اثاثوں کے ساتھ امیر ترین ایم ایل اے میں شامل ہیں۔
اے ڈی آر کے اعداد و شمار کے مطابق جموں کشمیر کے ۹۰ نو منتخب ایم ایل اے میں سے ۷۶ نے ایک کروڑ روپے سے زیادہ کے اثاثے ظاہر کیے ہیں۔ ۲۰۱۴ میں۸۷ میں سے صرف ۶۵ (۶۵ فیصد) کروڑ پتی تھے۔
سینٹرل شالٹنگ سیٹ سے منتخب ہونے والے کررا نے ۱۴۸ کروڑ روپے کے اثاثے ظاہر کیے ہیں اور وہ جموں و کشمیر کے سب سے امیر ایم ایل اے ہیں۔
نگروٹا حلقہ سے جیتنے والے بی جے پی لیڈر دیویندر رانا ۱۲۶کروڑ روپے کے اثاثوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
چھانہ پورہ سے نیشنل کانفرنس (این سی) کے ایم ایل اے مشتاق احمد گورو ۹۴ کروڑ روپے کے اثاثوں کے ساتھ تیسرے امیر ترین شخص ہیں۔
عام آدمی پارٹی کے معراج ملک جموں کشمیر کے سب سے غریب رکن اسمبلی ہیں جن کے اثاثوں کی مالیت صرف۲۹ہزار۷۰ روپے ہے۔ وہ جموں و کشمیر میں عام آدمی پارٹی کے پہلے ایم ایل اے ہیں۔
کرناہ سے این سی ایم ایل اے جاوید احمد میرچال۳ لاکھ روپے کے اثاثوں کے ساتھ دوسرے غریب ترین ہیں۔ ان کی پارٹی کے ساتھی اور کوکرناگ کے ایم ایل اے ظفر علی کھٹانہ ۳۴لاکھ روپے کی دولت کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
اے ڈی آر کے اعداد و شمار کے مطابق کانگریس کے چھ ایم ایل اے کی اوسط دولت ۳۰ کروڑ روپے سے کچھ زیادہ ہے جبکہ بی جے پی کے ۲۹؍ارکان کی اوسط مالیت۵۵ء۱۴ کروڑ روپے ہے۔
نیشنل کانفرنس کے ۴۲؍ایم ایل اے کی اوسط جائیداد۴۷ء۸ کروڑ روپے، پی ڈی پی کے تین ارکان کی اوسط جائیداد ۲۵ء۴ کروڑ روپے اور سات آزاد اراکین اسمبلی کی اوسط جائیداد تقریباً۵ کروڑ روپے ہے۔
نیشنل کانفرنس کے ۸۸ فیصد (۳۷) ایم ایل اے کروڑ پتی ہیں جبکہ بی جے پی کے۸۶ فیصد (۲۵) ایم ایل اے کروڑوں میں جائیداد رکھتے ہیں۔
کانگریس کے سبھی چھ ایم ایل اے اور سی پی آئی (ایم) اور پیپلز کانفرنس کے واحد ایم ایل اے نے ایک کروڑ روپے سے زیادہ کے اثاثے ظاہر کیے ہیں۔
۲۳؍ایم ایل اے کے پاس۱۰کروڑ روپے سے زیادہ کی جائیداد ہے جبکہ ۲۶ کے پاس ۵کروڑ روپے سے زیادہ لیکن۱۰کروڑ روپے سے کم اثاثے ہیں۔ اے ڈی آر کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ سب سے زیادہ ۲۷؍ایم ایل اے ایک کروڑ روپے سے پانچ کروڑ روپے کے زمرے میں آتے ہیں جبکہ ۱۴ممبران اسمبلی کے پاس ایک کروڑ روپے سے کم اثاثے ہیں۔










